اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کے مطابق قذافی نے کہا:
میں لیبیا سے کہیں نہیں جارہا، لیبیا کو میں نے دنیا کو متعارف کرایا ورنہ دنیا مین کوئی بھی اس ملک کو نہیں جانتا تھا۔ دنیا والے لیبیا کو میرے نام سے جانتے ہیں جبکہ اس سے پہلے کوئی اس ملک کا نام بهی صحیح طور سے نہیں جانتا تھا۔
- مجھے اپنے والد کی طرح شہادت قبول ہے۔ میرا خاندان شہیدوں سے بھرا پڑا ہے، دادا، والد، چچا نے اس سرزمین کیلئے جانیں دیں میں بھی خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا ملک چھوڑ کر نہیں بھاگوں گا۔تم تیونس اور مصر کے عوام کی نقالی کررہے ہو ورنہ تم کیا جانو کہ انقلاب کیا ہے۔ لیبیا میں امن و امان کی صورت حال بہت ہی بہتر ہے بعض لوگ ہمارے عوام کو اکسا رہے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کردینا چاہتے ہیں۔سڑکوں پر آنے والے لوگوں نے نشہ آور ادویات استعمال کئے ہیں۔ ہم امریکہ پر حملہ کرنے کی تیاری کررہے تھے لیکن بیرونی قوتوں کے اکسانے پر اٹھنے والوں نے ہمیں ایسا نہیں کرنا دیا۔........تقریر جاری ہے اور العالم کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت طرابلس کے سوق الجمعہ (جمعہ بازار) پر افریقی ممالک سے لائے گئے کرائے کے قاتلوں اور قذافی کے بیٹوں کے زیر نگرانی قتل و غارت کرنے والی ملیشیاؤں کی جانب سے زبردست حملوں کا سامنا کررہا ہے۔.......
- ہم نے ابھی تک تمہارے خلاف ہتھیار استعمال نہیں کیا اور اگر ضرورت پڑی تو میں ہتھیار بھی استعمال کرونگا۔- میں نے تمام قبائل کی قیادت اپنے فوجی افسروں کے حوالے کردی ہے اور اگر قبائل نے بغاوت کی تو انہیں پھانسیاں دی جائیں گی۔قذافی نے خطاب کے ضمن میں کہا: میرے فوجیو! ذرا فائرنگ میں کمی کردو تا کہ لوگ میری باتیں سن سکیں(!)قذافی نے کہا:- میں آئین کے مطابق تم سب کو پھانسی دے سکتا ہوں۔
- میں نے لوگوں کا قتل عام نہیں کیا لیکن میں لڑنے اور مرنے کے لئے تیار ہوں۔ - جب 1980 مین امریکی فضائیه نی میری گهر پر بمباری کی تم (لیبیائی) کهان تهی؟ وهان مین هی تها اور تم میں سے کوئی بھی نہیں تھا۔ قذافی کے خاندان پر جب امریکا نے حملہ کیااسوقت خاموشی کیوں تھی،ہم نے امریکا،برطانیہ اورنیٹوکامقابلہ کیا،ہتھیار ڈالنا نہیں جانتے۔ ہم نے بن غازی میں امریکا کے 5 فوجی اڈوں پر قبضہ کیا تھا، ہم نے امریکا سمیت متعدد سامراجی قوتوں کو یہاں شکست دی۔- مبں ابک سپاہی ہوں اور میں نے لیبیا کو عروج پر پہنچانا چاہتا ہوں۔- "میں ایک لڑاکا ہوں ، آخر کار ایک شہید کے طور پر مرونگا ،"- لیبیائی نوجوان گمراہ ہیں، منشیات کے عادی اور بیمار ہیں جو پولیس کے مراکز پر حملے کرتے ہیں۔- میں اپنے حامیوں کو حکم دیتا ہوں کہ فوری طور پر سڑکوں پر آکر حالات پر کنٹرول کریں۔ - اے لیبیائی خواتین! اپنے شوہروں کو قتل کرو اور انہیں ماروں وہ بیوقوف اور احمق ہیں وہ لیبیا کی تباہی چاہتے ہیں تم اپنے بچوں کو منشیات کے عادی مت بننے دو اور انہیں موت کے منہ میں مت بھیجو تمہارے شوہر اندھے چوہے ہیں انہیں چوہوں کی طرح مار کر ہلاک کردو۔- باہر جاؤ اورلیبیا کے (قذافی) انقلاب کا تحفظ کرو میں بھی فوجی لباس پہن کر آرہا ہوں۔ میری حمایت میں نکلنے والے گمراہوں سے خود نمٹیں اور انہیں چوہوں کی طرح مار دیں، کل سے نہیں بلکہ آج رات سے گھروں سے باہر نکلو، تخریب کاروں کا صفایا کردو۔ ابھی تک سختی نہیں کی لیکن اب گولیاں استعمال کرینگے، فوج اور پولیس بغاوت کرنیوالوں کو سختی سے کچل دیں۔
اگر تم معمر قذافی سے محبت کرتے ہیں تو کل میری حمایت میں باہر نکلو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ ہم پر بھی بمباری ہو ۔ کیا ہم اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے پیروکار ہیں، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہارا ملک افغانستان یا پاکستان بن جائے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خبریں:لیبیا میں کئی روز سے جاری مظاہروں میں شدت آرہی ہے اور آج بھی بڑے بڑے حکومت مخالف مظاہرے ہوئے، دارالحکومت طرابلس اور بن غازی شہر احتجاجی مظاہروں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان شہروں میں جاری مظاہروں میں الجزیره کی جدید ترین اطلاعات کے مطابق 800 افراد شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔
العالم سے نشر ہونے والی تصویروں میں دکھایا گیا ہے کہ قذافی کے وفادار نیم فوجیوں نے ان فوجیوں کو زندہ زندہ آگ میں جلا دیا ہے جنہوں نے مظاہریں پر فائرنگ کرنے سے انکار کردیا تھا۔
.........
لیبیا میں مظاہرین پر طاقت کے استعمال سے فورسز کے انکار اور ساتھیوں کی بے وفائی کے بعد اقتدار پر معمرقذافی کی گرفت کمزور ہوتی جارہی ہے، گوکہ ملک سے ان کے فرار کی اطلاع غلط ثابت ہوگئی ہے لیکن اس انکشاف نے مظاہرین کے غم و غصے کو بڑھادیا ہے کہ نہتے عوام پر فائرنگ کرائے کے سپاہیوں سے کرائی گئی ۔ لیبیا کے حکمران 68 سالہ معمر قذافی 41 سال سے حکومت کررہے ہیں لیکن اب اقتدار ان کے ہاتھ سے اسی طرح نکل رہا ہے جس طرح مٹھی سے ریت نکلتی ہے۔ مظاہرین پر فائرنگ اور بمباری کی اطلاعات کے بعد ملک اور بیرون ملک قذافی کے ساتھی ایک ایک کرکے ان کا ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں۔ بھارت میں لیبیا کے مستعفی سفیر علی ال عیساوی کا کہنا ہے کہ انہوں نے پُرامن مظاہرین پر فائرنگ اور لڑاکا طیاروں کی بمباری کے سبب استعفیٰ دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مظاہرین کو کچلنے کے لئے کرائے کے افریقی سپاہی استعمال کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے متعدد لیبیائی فوجی مظاہرین سے مل گئے ہیں۔ کرائے کے سپاہیوں کا الزام طرابلس کے شہریوں نے بھی لگایا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ہیلی کاپٹرز میں فاشلوم آئے تھے اور اندھا دھند فائرنگ کرکے درجنوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تاہم لیبیا کے سرکاری ٹی وی نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز عوام کا قتل عام کررہی ہیں۔سرکاری ٹی وی پر قذافی کے نمودار ہونے کے بعد ان کے وینزویلا جانے کی افواہیں بھی دم توڑ گئی ہیں ۔ انہوں نے طرابلس میں اپنے گھر کے باہر بائیس سیکنڈ کی مختصر گفت گو میں کہا کہ وہ ملک سے فرار نہیں ہوئے ۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ہیومن رائٹس کے مطابق لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں فوج کی طرف سے بغاوت کے بعد مظاہرین کا راج ہے ۔ اس کے علاوہ سِرتے ، تبروک ، مِصرات ، خُمس ، تَرھونا ، زینتین Zenten، الزاویہ اور ضوارا کے علاقے بھی مظاہرین کے کنٹرول میں ہیں ۔ دوسری جانب آسٹریلیا ، ملائیشیا ، بھارت ، اقوام متحدہ اور عرب لیگ میں لیبیا کے سفارت کاروں حکومت سے تعلق ختم کردیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے نہیں لیبیائی عوام کے نمائندے ہیں۔ اس کے ساتھ لیبیا کی حکومت پر عالمی دباؤ بھی بڑھتا جارہا ہے ۔ لیبیا کی صورت حال پر غور کے لئے عرب لیگ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس آج طلب کرلئے گئے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تازه ترین اطلاعات کی مطابق معمر قذافی نے اپنی وفادار افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ تیل کے ذخائر اور تنصیبات کو فوری طور پر تباہ کردیں۔
/110