12 فروری 2011 - 20:30

تیونس کے سابق آمر زین عابدین بن علی کی بیوی انہیں بجا طور پر بے وقوف سمجھتی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں اقتدار چھو ڑ کر ملک سے فرار ہو نے والے تیونس کے سابق آمر کی بیوی کا حا ل دیکھئے جس نے ملکی مال و دولت لوٹنے میں کوئی کسر روا نہیں رکھی اور شوہر کی صدارت سے پورا پورا فائدہ اٹها کر اربوں ڈالر بیرون ملک مننتقل کئے اور شوہر کے ہمراه ملک سے بھاگ رہی تھی تو اسے معلوم تھا کہ کینسر کا مریض اور ملک سے مفرور صدر اب سونے کی چڑیا نہیں رہا چنانچہ اگر اس سے پہلے ظاہرسازی کی خاطر شوہر کا احترام کیا کرتی تھی تو اب اس نے لوگوں کے سامنے دل کی بات کہہ ہی دی اور شوہر کی حماقت کا ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کیا۔روزنامہ جنگ نے ایک فرانسیسی اخبار کے انکشافات کے حوالے سے لکھا ہے کہ تیونس کے سابق آمر زین عابدین بن علی کی بیوی انہیں بے وقوف سمجھتی ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق فرار کے وقت زین عا بدین نے ملک چھو ڑنے سے انکار کر دیا تھا تاہم ان کی بیگم نے ان کو ڈانٹتے ہو ئے کہا کہ "احمق انسان جہاز میں بیٹھو ، سا ر ی زندگی میں تمہا ری بے وقوفانہ حرکتیں برداشت کرتی رہی ہوں "۔ اخبار کے مطا بق اس بات کا انکشاف ایک ایسے فرد نے کیا ہے جو اس وقت ائیرپورٹ پر موجود تھا، جس کے مطابق جب صدر زین عا بدین نے اپنی بیگم سے کہا کہ وہ اپنے ملک میں ہی مرنا چا ہتے ہیں تو انھوں نے غصے سے اپنے شوہر کو ڈانٹا اور کہا کہ کم عقل انسان جہاز میں بیٹھ جاؤ او ر زبردستی انہیں جہاز میں سوار کرایا ۔واضح رہے کہ تیونس کے صدر کی اہلیہ کے بارے میں یہ خبریں بھی منظر عا م پر آئیں تھیں کہ فرار ہوتے ہو ئے وہ ملک سے ڈیڑ ھ ٹن سو نا بھی اپنے ساتھ لے گئی ہیں۔  آمر ویسے تو بے وقوف ہی ہوتے ہیں جو ایک ملک کے عوام کی مرضی کے خلاف ان پر زبردستی مسلط ہوتے ہیں اور انہیں معلوم بھی ہوتا ہے کہ ملک کا حتی ایک فرد بھی ان سے محبت نہیں کرتا اور کوئی بھی ان کے لئے احترام کا قائل نہیں ہے لیکن زین عابدین کی حماقت کی تو کوئی مثال ہی نہیں ہے کیونکہ دوسرے احمق آمر ملکی دولت اپنے ذاتی خزانوں میں منتقل کرتے رہتے ہیں جس سے ان کی آخرت تو غارت ہو ہی جاتی ہے لیکن ملک سے فرار کرکے مجرموں کو پناہ دینے والے ممالک میں پناہ لینے کی صورت میں ان کی دنیاوی زندگی کے وسائل کی فراہمی آسان ہوتی ہے جبکہ زین عابدین کی صدارت کے دوران ملکی دولت اس کی بیوی لیلا ہی کو لوٹنے کی اجازت تھی چنانچہ اس نے ملکی دولت دونوں ہاتھوں سے سمیٹ کر اپنے اور اپنے آبائی خاندان کے افراد کے کھاتوں میں ڈال دی۔