
مصری طاغوت اپنی عالی شان محل مین رهائش پذیر

جبکہ «مصری قوم» گندگی کے ڈھیر میں زندگی بسر کررہی ہے ...

«مصری طاغوت» باغ و گلشن میں سیر کرتا رہا ...

جبکہ «مصری قوم» غربت اور مایوسی کو گلے لگا کر رہنے پر مجبور ...

مصری طاغوت قصروں میں نہایت قیمتی سازوسامان سے لطف اندوز

جبکہ مصری عوام کو رہنے کے لئے مکان تک نہیں!

مصری طاغوت قیمتی قالین پر تکبر کے مظاہرے کرتے رہے

مٹی پر بیٹھے ہوئے مصری بچوں کو بیٹھنے کے لئے چٹائی اور کھانے کے لئے خوراک تک میسر نہیں!

مصری طاغوت کے لئے سستانے کے لئے سایہ دار جگہ کا انتظام

جبکہ مصری غرباء گندگیوں سے اپنی ضرورت کی اشیاء ڈھونڈنے پرمجبور!!

مصری طاغوت کے محل میں مکینوں سے مکان زیادہ

جبکہ مصری غرباء کو خدا کی زمین پر یہی جگھیں میسر ہیں!!

ایک طاغوت اتنا سب کچھ چھوڑ کر ملک چھوڑنے پر کیونکر تیار ہوسکتا ہے؟

ایک بیدار ہونے والی قوم سے اگر آزادی کے بدلے یہ زندگی چھین لی جائے تو اسے کیا پروا؟

سال مین چند گهنتی خوشی منانی اور چیلون سی داد وصول کرنی کی لئی یه سب کچه زیاده نهین هی؟


إِن زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلَّهِ مِن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَO وَ َلَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَO قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَاقِيكُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ O (آپ فرما دیجئے): اگر تم یہ گمان کرتے ہو کہ سب لوگوں کو چھوڑ کر تم ہی اللہ کے دوست (یعنی اولیاء) ہو تو موت کی آرزو کرو (کیونکہ اس کے اولیاء کو تو قبر و حشر میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی) اگر تم (اپنے خیال میں) سچے ہو o اور یہ لوگ کبھی بھی اس کی تمنا نہیں کریں گے اُس (رسول کی تکذیب اور کفر) کے باعث جو وہ آگے بھیج چکے ہیں۔ اور اللہ ظالموں کو خُوب جانتا ہے o فرما دیجئے: جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ ضرور تمہیں ملنے والی ہے پھر تم ہر پوشیدہ و ظاہر چیز کو جاننے والے (رب) کی طرف لوٹائے جاؤ گے، سو وہ تمہیں آگاہ کر دے گا جو کچھ تم کرتے تھےo سوره جمعہ آیات 6 ـ 7 ـ 8