5 فروری 2011 - 20:30

ایک ایسے وقت میں کہ جب مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے اکثر ممالک میں عوامی بیداری اور مظاہروں کی لہر پیدا ہو چکی ہے سعودی عرب میں اصلاح پسند افراد نے بھی ملک کے سیاسی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ابنا:ان سیاسی اصلاحات میں سعودی عرب کے سیاسی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں، پارلیمانی انتخابات کا انعقاد، شہری آزادی ، امتیاز اور تفریق کا خاتمہ اور دولت کی منصفانہ تقسیم شامل ہے۔ سعودی عرب کے ان اصلاح پسندوں نے فیس بک کے ذریعے اپنی یہ تحریک شروع کی ہے کہ جس کا نعرہ ہے عوام سیاسی نظام میں اصلاح چاہتے ہیں۔ ان اصلاح پسندوں نے بارہ مطالبات پیش کرتے ہوئے سعودی عرب کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک کے سیاسی نظام میں تبدیلیوں کے بارے میں عوام کے جائز اور برحق مطالبات کو پورا کرے۔اس سے قبل بھی سعودی عرب کے ستتر اصلاح پسندوں نے اپنے دستخطوں سے ایک خط شاہ عبداللہ کو بھیجا تھا جس میں سعودی عرب کے سیاسی نظام میں وسیع پیمانے پر بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گيا تھا۔ اس خط میں شاہی خاندان کا کردار محدود کرنے، عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی پارلیمٹ کی تشکیل اور شاہی خاندان سے باہر کے کسی فرد کا وزیراعظم کی حیثیت سے انتخاب جیسے مطالبات شامل تھے۔ سعودی عرب میں برسوں سے روایتی بادشاہی حکومت قائم ہے اور بادشاہت عبدالعزیز کے بیٹوں میں باری باری گھوم رہی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کی دولت پر شاہی خاندان کے افراد کا قبضہ ہے اور اس ملک میں امتیازی سلوک اور ناانصافی کا دور دورہ ہے۔ سعودی عرب میں دس سے پندرہ فیصد آبادی اہل تشیع کی ہے اور یہ ملک کے ان طبقات میں شامل ہے کہ جن کے ساتھ ہر شعبے میں امتیازی سلوک اور ظلم و ناانصافی ہو رہی ہے۔ گزشتہ دنوں سعودی عرب کی جیلوں میں قید شیعہ افراد کے اہل خانہ نے جیلوں میں شیعہ افراد کے ساتھ نامناسب اور غیرانسانی سلوک پر وزارت داخلہ کی عمارت کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جب کہ دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے سعودی عرب کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کا احترام کرے۔ اس وقت مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے ممالک میں ایک نئي صورت حال پیدا ہو چکی ہے اور علاقے میں استبدادی نظاموں کے خلاف عوام اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس طوفان کی لہریں ابھی تک سعودی عرب نہیں پہنچی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے تیز ہواؤں کے جھکڑ چلنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس بات میں کوئي شک وشبہ نہیں ہے کہ اصلاح پسندوں کی جانب سے سیاسی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ اس سلسلے میں اٹھایا جانے والا پہلا قدم ہے۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ایک شخص کی خواہشات کے مطابق ملک کے انتظام پر اب عوام راضی نہیں ہیں اور عرب ممالک کے حمکرانوں کے پاس اب اس کے سوا کوئي چارہ نہیں ہے کہ وہ سیاسی نظام میں اصلاحات کے عوامی مطالبات پر توجہ دیں اور عرب ممالک میں ایک کھلی سیاسی فضا قائم کریں۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔

/110