30 جنوری 2011 - 20:30

ڈی ایس پی رشید دھماکوں کی تفتیش کرنیوالے سینئر افسر تھے / آخری وقت تک مقابلہ کریں گے،بشیر بلور / مٹہ میں فورسز کے ساتھ جھڑپ،6شدت پسند ہلاک / پشاور:کوہاٹ روڈ پر دھماکے کی آواز سنی گئی / ڈیرہ مراد جمالی ،گیس پائپ لائن دھماکے سے تباہ / فیصل آباد: پولیس اہلکاروں پر عوام کا تشدد / خیبر ایجنسی: کالعدم لشکر اسلام کا منحرف کمانڈر قتل کردیا گیا / جنوری 2011 ؛ پشاور میں خودکش حملے۔

ابنا: خیبر پختونخوا کا صوبائی دارالحکومت پشاور یکے بعد دیگر دو دھماکوں سے لرز اٹھا۔ وخو پل اور تاج آباد دھماکوں میں ڈی ایس پی سمیت چھ افراد جاں بحق اور بیس زخمی ہوئے ۔پشاور میں پہلا دھماکا کوہاٹ روڈ پر وخو پل کے نیچے اس وقت ہوا جب ڈی ایس پی صدر سرکل رشید خان کی گاڑی وہاں سے گذر رہی تھی ۔ خود کش حملہ آور نے گاڑی کے قریب پہنچ کو خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ جس میں ڈی ایس پی رشید خان، ان کے ڈرائیورامین جان اور محافظ شیر رحمان سمیت پانچ افراد جاں بحق اور پندرہ زخمی ہوگئے ، سات زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال پہنچا دیا گیا جہاں تین کی حالت تشویش ناک ہے ۔ ابھی دھماکے کی گونج ختم نہیں ہوئی تھی کہ تاج آباد کے مقام پر پولیس وین کو دھماکے سے اڑا دیا گیا جس سے ایک پولیس اہلکار ناصر جاں بحق اورچار زخمی ہوئے جنہیں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پہنچا دیا گیا۔ ڈی ایس پی رشید کا شمار دھماکوں کی تفتیش کرنیوالے سینئر افسروں میں ہوتا تھا  پشاورکے علاقے قمر دین گڑھی میں خود کش دھماکے میں شہید ہونے والے ڈی ایس پی رشید خان نے34 سال پولیس میں ملازمت کی ۔ وہ تخریبی کارروائیوں کی تفتیش کرنیوالے سینئر پولیس افسروں میں شمار ہوتے تھے۔ رشید خان 14 اکتوبر 1954 میں ضلع صوابی میں پیدا ہوئے ۔14 جولائی1977 کو پولیس میں اے ایس آئی بھرتی ہوگئے۔ یکم جنوری1991کو انہیں سب انسپکٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی جبکہ6 دسمبر2001 کو وہ انسپکٹر بن گئے دو سال بعد2003 کو وہ ڈی ایس پی کے عہدے تک پہنچے ۔ انہوں نے پشاور کے تمام تھانوں سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دیں۔گذشتہ سال گلبہار کے علاقے آفریدی گڑھی میں انہیں خود کش حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ بال بال بچ گئے ۔ رشید خان پشاور صدر سرکل کے ڈی ایس پی تھے ۔ بڈھ بیر اور متنی کے علاقے بھی ان کے نگرانی میں آتے تھے۔ پیر کو وہ معمول کے مطابق بڈھ بیر جا رہے تھے کہ وخو پل کے نیچے خود کش حملہ آور نے ان کی گاڑی کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس میں ڈی ایس پی رشید خان ، ان کا ڈرائیور ، محافظ اور دو راہگیر جاں بحق ہوگئے ۔34 سال تک پولیس میں خدمات انجام دینے والے رشید خان دہشتگردی کے واقعات کی چھان بین کرنے والے سینئر پولیس افسروں میں شمار ہوتے تھے۔دہشت گردوں کا آخری وقت تک مقابلہ کریں گے،بشیر بلور  خیبرپختون خوا کے سینئروزیر بشیراحمد بلور نے کہا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے شدت پسندوں سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں تاہم دہشت گردوں کا آخری وقت تک مقابلہ کریں گے۔پشاور میں کوہاٹ روڈ پرخود کش دھماکے کی جگہ کا دورہ کرنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بشیر بلور نے کہا کہ دہشت گردوں کو آخری وقت تک مقابلہ کریں گے۔ بشیر بلورنے کہا کہ ڈی ایس پی رشید پر حملہ پشاور کے علاقہ متنی اور اورک زئی ایجنسی میں کئے جانے والے آپریشن کا ردعمل ہے۔ سینئر وزیر بشیر بلور نے کہا کہ اس پر چار حملے کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہتھیار ڈالنے والوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے تاہم دہشت گردوں سے مرعوب نہیں ہوں گے ۔  پشاور میں ڈی ایس پی عبدالرشید خان اور دو پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ کے بعد میڈیا سے گفتگو میں سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور نے کہا کہ پولیس اہلکار جانوں کا نذرانہ دے کر عوام کو بچا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کاآخری دم تک مقابلہ کرتے رہیں گے ۔ بشیر احمد بلور کا کہنا تھا کہ دھماکے میں شہید ہونے والے افسرون کے لواحقین کو پچاس لاکھ سے ایک کروڑ جبکہ کانسٹبلز کے ورثا کو تیس لاکھ تک معاوضہ دیا جا ئے گا۔ اور شہدا کے بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی حکومت کے ذمے ہے ۔سوات:مٹہ میں فورسز کے ساتھ جھڑپ،6شدت پسند ہلاک  سوات میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں چھ شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق سوات کی تحصیل مٹہ کے علاقے سردان میں شدت پسندوں کی موجودگی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سرچ آپریشن کیا گیا۔ اس دوران شدت پسندوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کردی جس کے بعد سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے مابین شدید جھڑپ کے بعد چھ شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیاگیا۔  پشاور:کوہاٹ روڈ پر واقع گڑھی قمر دین میں دھماکا سنا گیا  پشاور میں کوہاٹ روڈ پر واقع گڑھی قمر دین میں دھماکا سنا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے کی نوعیت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔  ڈیرہ مراد جمالی ،گیس پائپ لائن کو دھماکے سے تباہ کر دیا گیا  ڈیرہ مراد جمالی کے قریب پیروپل کے مقام پر نامعلوم افراد نے دھماکا خیزمواد سے 18 انچ قطر گیس پائپ لائن کو تباہ کردیا۔لیویز ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے رات گئے اوچ گیس فیلڈ سے اوچ پاور پلانٹ کی طرف جانے والی پائپ لائن کو دھماکا خیز مواد سے تباہ کیا۔ دھماکا خیزمواد پائپ لائن کے اندرونی حصے میں نصب کیا گیا تھا۔۔ تاہم تعلقہ حکام نے امدادی ٹیموں کو طلب کرلیا ہے جو آج سے پائپ لائن کی مرمت کا کام شروع کردیں گی۔ دوسری جانب تھانہ میرحسن میں پائپ لائن کو تباہ کرنے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔ محکمہ سوئی گیس کے مطابق اوچ پاورپلانٹ کی متبادل لائن ہونے کی وجہ سے گیس کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی ہے۔  فیصل آباد :پولیس اہلکاروں پر لوٹ مار کے الزام میں عوام کا تشدد  فیصل آباد میں پولیس اہلکاروں کو لوٹ مار کے الزام میں عوام کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا ۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ اہل کاروں کو ڈکیتی نہیں بلکہ مشتبہ افراد کی تلاشی لینے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ فیصل آباد میں غلام محمد آباد کے علاقے مرضی پورہ چوک میں اس وقت حالات کشیدہ ہوگئے جب وہاں موجود دو پولیس اہلکاروں کو شہریوں نے تلاشی کے بہانے موبائیل فون اور نقدی چھیننے کے الزام میں پکڑلیا ۔ لوگوں نے پولیس اہل کاروں پر تشدد کیا ۔ اطلاع ملنے پر اعلی پولیس افسران بھاری نفری کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور نوید نامی پولیس اہلکار کو شہریوں کے قبضے سے چھڑا لیا ۔ دوسرا اہلکار فرار ہوگیا ۔ پولیس ترجمان نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ تشدد کا شکار ہونے والے دونوں پولیس اہلکار مشتبہ افراد کی تلاشی لے رہے تھے ۔ تاہم مشتبہ افراد نے اہل کاروں پر الزام لگاتے ہوئے شور مچاکر شہریوں کو جمع کرلیا ۔ تاہم ترجمان کے مطابق اصل حقائق جاننے کے لئے تحقیات شروع کر دی گئی ہیں۔  خیبر ایجنسی: کالعدم لشکر اسلام کا منحرف کمانڈر قتل کردیا گیا  سوات میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں چھ شدت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں نے ایک شدت پسند کمانڈر کو قتل کردیا۔خیبرایجنسی میں کالعدم لشکر اسلام کے منحرف اہم کمانڈر غنچہ گل کو شدت پسندوں نے قتل کردیا۔قتل ہونے والے کمانڈر کو شدت پسندوں نے10 روز قبل وادی تیرہ سے اغوا کیا تھا۔مقتول کمانڈر کالعدم لشکر اسلام کے امیر منگل باغ کے بعد دوسرا اہم کمانڈر تصور کیا جاتا تھا۔نئے سال کا پہلا مہینہ: پشاور میں پانچ دھماکے، 9افراد لقمہ اجل بن گئے  جنوری کا آخری دن پشاور پر کافی بھاری گذرا۔ یکے بعد دیگرے دو دھماکوں میں ڈی ایس پی سمیت چھ افراد جاں بحق اور بیس زخمی ہوئے وخو پل کے بعد تاج آباد دھماکے سے شہر لرز اٹھا۔ پورے مہینے کے دوران پانچ دھماکوں میں ڈی ایس پی سمیت نو افراد جاں بحق اور44 زخمی ہوگئے۔پشاور میں سال2011 کا پہلا دھماکہ6 جنوری کو بشیر آباد کے علاقے میں ایک اسکول کے قریب ہوا۔ صبح سویرے ہونے والے اس دھماکے میں ایک بچہ زخمی ہوگیا۔12 جنوری کو شکئی ہندکیاں میں ایک اسکول وین کو نشانہ بنایا گیا چند منٹوں کے اندر دو دھماکوں میں دو اسکول ٹیچر بہنیں جاں بحق اور تین بچوں سمیت سات افراد زخمی ہوگئے ۔ پشاور میں تیسرا دھماکا19 جنوری کو نوتھیہ میں ایک اسکول کے باہر ہوا، جس میں ایک راہگیر جاں بحق اور پانچ بچوں سمیت پندرہ افراد زخمی ہوگئے۔ رواں ماہ کا چوتھا دھماکا31 جنوری کو کوہاٹ روڈ پر گڑھی قمر دین کے قریب وخو پل کے نیچے ہوا۔ اس خود کش حملے میں ڈی ایس پی بڈھ بیر رشید خان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں ڈی ایس پی اور ان کے دو محافظوں سمیت پانچ افراد جاں بحق اور پندرہ زخمی ہوگئے ۔وخو پل دھماکے کے دو گھنٹے بعد پشتہ خرہ کے علاقے تاج آباد میں پولیس وین کو دھماکے سے اڑا دیا گیا جس میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور پانچ زخمی ہوگئے۔