30 جنوری 2011 - 20:30

لگتا ہے حکومت امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک رہی ہے اور آخر کار پاکستانی شہریوں کے قاتل کو امریکہ کے حوالے کردیا جائے گا اور امریکی حکومت بھی اپنے "مسلمان دہشت گردوں کو قتل کرنے پر" اپنے اس شہری کو ہیرو بناکر تمغوں سے نوازے گی یہ ان کی روایت ہے اور سرتسلیم خم کرنا غلام حکومتوں کی روایت ہے۔

ابنا: جنگ نیٹ اردو کی خبریں ملاحظہ ہوں:

ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پرحکومت پرکوئی دباؤ نہیں،رحمن ملک  وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک کا کہناہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پرحکومت پرکوئی دباؤ نہیں ہے میرٹ پرفیصلہ کیاجائے گاجبکہ ولی خان بابرشہید کے قتل کی تحقیقات ایجنڈے میں سرفہرست ہیں۔وفاقی وزیرداخلہ کی سربراہی میں کوسٹ گارڈ،رینجرز اوردیگر اداروں کے حکام کا اجلاس ہو ا جس میں ڈی جی رینجرز نے پولیس کے اختیارات ملنے کے بعد رینجرز کی کارکردگی سے آ گاہ کیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رحمان ملک نے بتایاکہ ریمنڈ ڈیوس سے متعلق امریکی حکام کے موقف کاوزارت خارجہ جائزہ لے رہی ہے۔ان کا کہناتھاکہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونیوالے اجلاس میں ولی بابرکے قتل کی تحقیقات ایجنڈے میں سرفہرست ہیں۔ڈی جی ایف آئی اے کانام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے سوال پران کاکہناتھاکہ درخواست آئی تودیکھیں گے۔ رحمان ملک نے بتایا کہ ڈیزل ایران سے اسمگل ہوکر پاکستان آرہا ہے،جس کی روک تھام کے لئے وہ خود کوسٹل ایریازکادورہ کریں گے۔  پاکستان میں رہائش پذیر کوئی بھی غیرملکی وی آئی پی نہیں،بابراعوان  وفاقی وزیرقانون وانصاف ڈاکٹربابراعوان نے کہا ہے کہ پاکستان میں رہائش پذیر کوئی بھی غیرملکی وی آئی پی نہیں اور قانون توڑنے والوں کو کٹہرے میں کھڑاہونا پڑیگا۔اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ بار دیربالاکے وفد سے ملاقات کے دوران ڈاکٹربابراعوان نے کہا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے جہاں تمام غیرملکی سفارتکاروں کو اگرایک طرف آئینی تحفظ حاصل ہے تو دوسری جانب قانون کی نظرمیں سب برابرہیں۔ بابراعوان نے اس موقع پر دیربالا میں جوڈیشل کمپلیکس کے قیام کا اعلان کیا اور دیربالا کی ڈسٹرکٹ بار کیلئے بیس لاکھ روپے کا چیک بھی دیا ۔  ریمنڈڈیوس کواستثنا حاصل ہواتوامریکاکے حوالے کرناپڑیگا، سردار آصف  وفاقی وزیر تعلیم سردار آصف احمد علی نے کہا ہے کہ اگر ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنا حاصل ہے تو اسے امریکا کے حوالے کرنا پڑے گا، اس صورت میں ریمنڈ کے خلاف کیس امریکا میں ہی چلے گا۔وہ اسلام آباد جاتے ہوئے لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفت گو کر رہے تھے۔ سردار آصف احمد علی کا کہنا تھ اکہ اگر ریمنڈ ڈیوس کو استثنا حاصل نہیں تو اس کا ٹرائل پاکستان میں ہی قانون کے مطابق ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، اسے استثنا نہیں تھا اس لئے کیس امریکا میں چلا۔ 

ریمنڈ ڈیوس کو رہا یا امریکا کے حوالے نہ کیاجائے، سپریم کورٹ میں پٹیشن  لاہور میں شہریوں کے قتل کیس میں گرفتار امریکی ریمنڈڈیوس کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کردی گئی ہے ۔ وطن پارٹی کے بیرسٹر ظفراللہ نے سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن، آئین کے آرٹیکل184 تین کے تحت دائر کی ، اس میں موقف اختیار کیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے اور امریکی سفارت خانے نے اسے سفارت کار بھی غلط طور پر قرار دیاہے، پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو رہا یا امریکا کے حوالے نہ کرنے کا حکم دیا جائے ۔  ریمنڈ ڈیوس کیس کو ہم اپنے قانون کے مطابق حل کرینگے،صمصام بخاری  وزیرمملکت برائے اطلاعات ونشریات صمصام بخاری کا کہنا ہے کہ حکومت کسی دباؤمیں ہے اور نہ آئیگی۔اگرامریکاڈاکٹرعافیہ کے کیس میں اپنے قوانین کواولیت دیتاہے توریمنڈ ڈیوس کے معاملے کو ہم اپنے قانون کے مطابق حل کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب کے دورے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا۔صمصام بخاری کا کہنا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کوسفارتی استثناحاصل ہے یا نہیں اسکا فیصلہ عدالت کریگی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی پر پاکستان کے ہر شہری کا برابرحق ہے۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات نے کراچی پریس کلب کیلئے5لاکھ روپے امداد کااعلان بھی کیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

 

اپڈیٹ:

ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ عدالت میں ہے،صدر زرداری کاامریکی وفد کو جواب  صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ لاہور میں تین شہریوں کے قتل میں گرفتار امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے ،قانونی عمل مکمل ہونے کاانتظار کیا جائے۔ اسلام آباد میں ڈیرل ای عیسی کی قیادت میں امریکی کانگریس کے وفد نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ اٹھایا۔ صدرآصف علی زرداری نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کو امداد نہیں تجارت چاہیے ،وہ پاکستان کے لیے منڈیوں تک رسائی اور تجارت کو بڑھانے میں اپنا اثرورسوخ استعمال کریں ، اس وقت مالی مشکلات کے خاتمے کے لیے پاکستانی عوام کو ترجیحی بنیادوں پر توجہ اور امداد کی ضرورت ہے ۔ امریکی کانگریس کے وفد نے یقین دہانی کرائی کے پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے امریکی انتظامیہ ہرممکن مدد جاری رکھے گی ۔