اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق استنبول میں اسلامی جمہوریہ ایران اور گروپ 1+5 کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے ہیں۔ استنبول میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی مذاکرات کار اور ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری سعید جلیلی نے استنبول میں گروپ 1+5 کے ساتھ مذاکرات کے اختتام پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات مشترکہ منطق کی بنیاد پر جاری رہنے چاہئیں اور اگر فریق مقابل اس بنیاد پر مذاکرات کے لئے تیار ہے تو ہم بھی مذاکرات جاری رکھنے کے لئے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یورپی ممالک ایک طرف ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف سے یورپی سرزمین پر 200 ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اور یورپی ممالک کو اس سوال کا بھی جواب دینا چاہئے کہ اسرائیل کو کس نے ایٹمی ہتھیار فراہم کئے ہیں۔ جلیلی نے کہا 40 سال سے امریکہ میں 200 پونڈ ایٹمی مواد گم ہوگیا ہے عالمی برادری کا یہ سوال ہے کہ وہ 200 پونڈ ایٹمی مواد کہاں ہے اور یہ موضوعات عالمی برادری کے لئے تشویش کا باعث ہیں اور ان موضوعات پر گفتگو ہونی چاہیے یہ موضوعات عالمی برادری کے لئے سخت تشویش کا باعث ہیں یہ مشترکہ موضوعات ہیں ان پر گفتگو ہوسکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ناوابستہ تحریک کے 130 رکن ممالک ان موضوعات پر گفتگو اور مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ استنبول اجلاس میں ہم ان موضوعات پر مذاکرات کو مفید بنانے کے لئے حاضر ہوئے ہیں اور ان موضوعات پر گفتگو جاری رہ سکتی ہے۔سعید جلیلی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مشترکہ موضوعات پر گفتگو کے لئے تیار ہے اور دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لئے ہم ہرممکن تعاون کرنے کے لئے تیار ہے، یورینیم کی افزودگی کا تبادلہ بھی قوموں کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے انھوں نے کہا ہر قدم تعاون کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔سعید جلیلی نے ایرانی شرائط کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے شرائط اپنے شرائط نہیں ہیں یہ وہی شرائط ہیں جو این پی ٹی میں اور بین الاقوامی قوانین و ضوابط میں موجود ہیں۔ اگر کسی ملک کو یورینیم افزودہ کرنے کا حق ہے تو اس سے یہ حق سلب کرنا غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہے۔ وہ ممالک جو این پی ٹی کے قوانین پر عمل کررہے ہیں ان پر ناجائز دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔ سعید جلیلی نے کہا کہ قوموں کے حقوق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے اگر ماضی میں قوموں کے حقوق کو مد نظر نہیں رکھا گیا تو اس کی اصلاح ہونی چاہیے اور ایسی صورت میں ایران ہر قسم کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔اس سے قبل یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ اور گروپ 1+5 کی قائد کیتھرین ایشٹن نے استنبول مذاکرات میں ایران کے منطقی شرائط اور اصولی مؤقف پر مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے ،اس نے کہا کہ ایران کی پیشگی شرائط منطقی ہیں لیکن قابل قبول نہیں، ایشٹن نے مغربی ممالک کے دباؤ کے سامنے ایران کے تسلیم نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے شرائط قابل قبول نہیں۔ مغربی ممالک ایران سے یورینیم کی افزودگی کو معطل اور متوقف کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور ایران مغربی ممالک کے ساتھ اس موضوع پر بات کرنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ یورینیم کی افزودگی ایران کا قومی حق ہے اور ایران اپنے قومی حقوق سے کسی صورت میں دست بردار نہیں ہونا چاہتا۔اسلامی جمہوریہ ایران نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ یورینیم کی افزودگی مذاکرات کا موضوع ہی نہیں ہے مذاکرات صرف مشترکہ نکات پر ہونگے۔کیتھرین ایشٹن(Catherine Ashton):ایران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رہےگا یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ اور گروپ 1+5 کی قائد کیتھرین ایشٹن نے استنبول مذاکرات میں ایران کے منطقی شرائط اور اصولی مؤقف پر مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رہے گا ۔ مہر خبررساں ایجنسی نے العربیہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ اور گروپ 1+5 کی قائد کیتھرین ایشٹن نے استنبول مذاکرات میں ایران کے منطقی شرائط اور اصولی مؤقف پر مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے لیکن نئے مذاکرات کے لئےکوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کی پیشگی شرائط منطقی ہیں لیکن قابل قبول نہیں ہیں!۔ ایشٹن نے کہا کہ اس کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے۔ ایشٹن نے مغربی ممالک کے دباؤ کے سامنے ایران کے سر تسلیم خم نے کرنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے شرائط قابل قبول نہیں ہیں۔ مغربی ممالک ایران سے یورینیم کی افزودگی کو معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور ایران مغربی ممالک کے ساتھ اس موضوع پر بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ یورینیم کی افزودگی ایران کا قومی حق ہے اور ایران اپنے قومی حقوق سے کسی صورت میں دستبردار نہیں ہونا چاہتا۔ ذرائع کے مطابق استنبول میں ایران اور گروپ 1+5 کے درمیان مذاکرات کسی خاطر خواہ نتیجہ تک نہیں پہنچے بغیر ختم ہوگئے ہیں۔ایران: ایران نے امریکی وفد کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کی تجویز مسترد کردی ترکی کے شہر استنبول میں ایرانی وفد نے امریکی وفد کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کی تجویز مسترد کردی ہے۔ رائٹرز نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے رکن ابو الفضل ظہرہ وند نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ اور گروپ 1+5 کے وفد کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے ایرانی وفد کو امریکی وفد سے تنہا ملاقات و مذاکرات کرنے کی تجویز دی تھی، جسے ایرانی وفد نے مسترد کردیا۔ واضح رہے کہ ایران اور گروپ 1+5 کے نمائندوں کے درمیان کل سے استنبول میں مذاکرات جاری ہیں۔آیت اللہ امامی:
ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کےلئے تہران کی مرکزی نماز جمعہ آيت اللہ امام کاشانی کی امامت میں ادا کی گئي۔خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ مغرب کوایران کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور میں ماضی کے واقعات عبرت حاصل کرے۔ آیت اللہ امامی کاشانی نے کہا استنبول مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ مغرب موجودہ مسائل سے عبرت حاصل کرے گا اور بیدار ہوجائے تاکہ مذاکرات نتیجہ خيز ثابت ہوسکیں۔آیت اللہ امامی کاشانی نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کےلئے اور ایک سوبیس ملکوں کے نمایندوں نے اراک اور نطنز کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرکے تائيد کی ہےکہ ایران کی ایٹمی سرگرمیان شفاف ہیں۔خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ ملت ایران کو پابندیوں اور دباؤسے اس کےراستے سے ہٹایا نہيں جاسکتا۔ انھوں نے تیونس کے حالات کے بارےمیں کہا کہ تیونس کے عوام نے ڈکٹیٹر کے مقابل قیام کیا اور اسے ملک سے نکال باہر کیا ہے۔انھوں نے جمہوریہ آذربائيجان میں اسکولوں میں حجاب پرپابندی کے خلاف عوام کے احتجاج کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ امید کہ باکو کی حکومت عوام کی امنگوں کا خیال رکھے گي۔علی اصغر سلطانیہ:کسی بھی حالت میں یورینیم افزودگی نہیں روکی جائے گي؛ ایران کا ایٹمی پرگرام پرامن ہے آئی اے ای اے میں ایران کے مستقل نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی حالت میں یورینیم افزودہ کرنے کا عمل نہیں روکے گا۔ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایٹمی توانائي کی بین الاقوامی ایجنسی آئي اے ای اے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے جمعرات کے روز ماسکو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ایران کسی بھی دھمکی سے نہیں ڈرتا اور ایران یکطرفہ قراردادوں پر عمل نہیں کرے گا اور یورینیم کی افزودگي بھی نہیں روکی جائے گي۔ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران آئي اے ای اے کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا۔علی اصغر سلطانیہ نے نے زور دے کر کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا خواہاں نہیں ہے اور رہبر انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایٹمی ہتھیار بنانے کو حرام قرار دیا ہے۔انھوں نے 120 سے زیادہ ممالک کے نمائندوں کی طرف سے ایران کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے اکثر ممالک ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں۔آخوندزادہ:ایران کا ایٹمی پروگرام صاف اور شفاف ہے اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزير خارجہ محمد مہدی آخوندزادہ نے روس کی خبررساں ایجنسی انٹر فیکس کے ساتھ گفتگو میں ترکی میں ایران اور گروپ 1+5 کے درمیان جاری مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام صاف و شفاف اور بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کے مطابق ہے۔ آخوند زادہ نے کہا کہ کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پر امن ہے اور بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران نے خیرسگالی کی بنا پر بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی میں 120 ممالک کے نمائندوں کو حال ہی میں اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرایا ہے اور ایران کا یہ اقدام اپنی نوعیت میں منفرد اور بے مثل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران اپنے پرامن ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مغربی ممالک کے دباؤ میں ہر گز نہیں آئے گا اور اپنے ملکی اور قومی مفادات کا سودا ہر گز نہیں کرےگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110