ابنا: برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق قذافی جو تیونس کے مفرور صدر زین العابدین کے قریبی ساتھی ہیں نے کل رات تیونس کی صورت حال پر خطاب کیا۔
صدرقذافی نے کہا کہ زین العابدین کی حکومت ختم ہونے سے انہیں بہت تکلیف پہنچی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ احتجاج کرنے والے وکی لیس کی جانب سے زین العابدین، ان کے گھروالوں اور حکومت کی جانب سے کرپشن کی کہانیاں جاری کرنے سے گمراہ ہو ئے۔
قذافی نے الزام لگایا کہ امریکی سفیروں نے یہ مراسلے تیونس میں افراتفری پھیلانے کے لیے لکھے۔
گارڈین کے مطابق تیونس کی صورت حال سے عرب ملکوں کے وہ رہنما پریشان ہیں جو کئی دہائیوں سے اپنے ممالک پر حکومت کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ قذافی بھی کئی عشرون سے لیبیا پر حکومت کررہے ہیں اور ایک بادشاہ کی طرح فرمانروائی کے مزے لوٹ رہے ہیں چنانچہ اپنی مستقبل کے حوالے سے تشویش اور زین العابدین بن علی سے ان کی ہمدردی قابل فہم ہے لیکن اگر وہ ایک سیاسی شخصیت ہوتے تو ایسا کرنے سے پرہیز کرتے کیونکہ مفرور تیونسی صدر کی حمایت ان کے لئے بلائے جان بھی بن سکتی ہے۔
اخبار نے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنے ایک نمائندے کی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے کہ قذافی نے یہ تقریر ایسے وقت کی جب لیبیا کے شہر بیضا میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں اور شہریوں نے سرکاری عمارتوں پر حملے بھی کئے ہیں ۔
.......
/110