اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراقی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ عراق میں قومی کونسل برائے اسٹرٹیجک پالیسی امریکہ اور سعودی عرب کا منصوبہ ہے جس کے سہارے امریکہ اور سعودی عرب وزیراعظم کے اختیارات کم کرنا چاہتے ہیں۔ نہرین نٹ نے لکھا ہے کہ اس اسٹرٹیجک پالیسی کونسل کے وجود میں آنے سے عراق میں دوحکومتیں بن جائيں گي جن کے سبب ملک میں اختلاف و تفرقہ پھیل سکتا ہے۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب اور امریکہ نے بعثی عناصر کو منظم کرکے ایک نئي تنظیم بنائي ہے۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے لندن قاہرہ امان اور بغداد میں بعثی عناصر سے ملاقاتیں کر کے انہیں منظم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یاد رہے بعثی دہشتگرد عناصر کو سعودی عرب اور امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ادھر خلیج فارس کی ریاستوں کے با خبر ذرائع سے موصولہ اطلاعات میں عراق کے شیعیان اہل بیت (ع) کو نقصان پہنچانے کے سلسلے میں مشترکہ سعودی - امریکی سازش کا انکشاف کیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب صدام کے پسماندہ بعثیوں اور صدام دور کے اعلی افسروں کی مدد سے عراقی اہل تشیع کو نابود کرنے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہیں۔ عراقی وزارت داخلہ کے سلامتی امور کے ڈائریکٹر حسین علی کمال نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ برس کے خونی بم دھماکوں میں نہایت ماہر افراد ملوث تھےاور ان دھماکوں میں جدید ترین دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ گذشتہ برس کے بم دھمکوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دھماکے وہابی تکفیریوں اور بعثی ٹولوں کے باہمی تعاون سے انجام پائے تھے۔ واضح رہے کہ گذشتہ برس عراق میں شیعہ علاقوں میں وہابی تکفیریوں نے کئی بم دھماکے کئے تھے جن میں سینکڑوں عراقی شیعہ مسلمان شہید ہوگئے تھے۔
۔۔۔۔۔
تبصرہ:
بعث پارٹی کو منظم کرنے کی امریکہ اور سعودی عرب کی کوشش امریکہ اور سعودی عرب عراق میں ممنوعہ بعث پارٹی کو منظم کرنےکی کوششیں کررہے ہیں۔ عراق کی ممنوعہ بعث پارٹی کی مختلف شاخوں کو ایک دوسرے میں ضم کرکے تحریک و تجدید کے نام سے ایک نئي پارٹی کی تشکیل عراق میں بعث پارٹی کو منظم کرنے کے سلسلے میں واشنگٹن اور ریاض کے مشترکہ اقدامات کا حصہ حصہ رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور بعض عرب ممالک کی حمایت کے ساتھ ممنوعہ بعث پارٹی کے سرغنوں نے دوسرے ممالک میں اجلاس منعقد کئے ہیں۔ ان اجلاسوں کے ساتھ ساتھ امریکی خفیہ ایجنسی کے افسران نے بھی عرب اور یورپی ممالک کے دارالحکومتوں منجملہ لندن، قاہرہ اور امان میں ممنوعہ بعث پارٹی کے لیڈروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ دریں اثناء عراق کی بعض دوسری جماعتوں نے اس طرح کے اقدامات کی حمایت کی ہے۔ ممنوعہ بعث پارٹی کے لیڈروں نے کہا ہے کہ عراق کے العراقیہ اتحاد نے بھی ان کی حمایت کی ہے۔ ممنوعہ بعث پارٹی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ عراق میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دوران اس پارٹی کے اراکین نے العراقیہ اتحاد کے امیدواروں کو ہی ووٹ دیئے تھے۔ العراقیہ اتحاد کے سربراہ ایاد علاوی نے بھی حال ہی میں بعثیوں کے خلاف کارروائی کا اختیار رکھنے والی کمیٹی کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اسی امر کو عراق کے سیاسی عمل میں اپنی شرکت کی شرط بھی قرار دیا ہے جس سے صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ العراقیہ اتحاد اور بعث پارٹی کے درمیان گہرے تعلقات پائے جاتے ہیں۔ ان تمام امور سے صرف نظر یہ بات مسلم ہے کہ ممنوعہ بعث پارٹی امریکہ، بعض عرب ممالک اور معدودے چند عراقی گروہوں کی حمایت سے عراق کی سیاست میں اپنی جگہ بنانا چاہتی ہے۔ تحریک و تجدید کے نام سے موسوم بعثی پارٹی کے نئے گروہ کے ترجمان عبدالخالق شاہر نے کہا ہےکہ یہ گروہ بغداد حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے تیار ہے جبکہ عراق کے سب سے بڑے پارلیمانی دھڑے قومی اتحاد الائنس نے کہا ہے کہ عراق کے آئین کی رو سے بعث پارٹی کے ساتھ کسی بھی طرح کا اشتراک عمل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ فضیلت پارٹی کے ترجمان باسم الشریف نے بھی کہا ہے کہ بعث پارٹی کے ساتھ اشتراک عمل کے سلسلے میں عراق کا آئين ہی حرف آخر ہے۔ واضح رہے کہ ممنوعہ بعث پارٹی نے عراق میں بے پناہ تشدد اور وحشیانہ قتل عام کا ارتکاب کیا ہے اور عراق کے عوام اس پارٹی کو مجرم سمجھتے ہیں۔ عراقی حکومت اور عوام دونوں ہی اس ممنوعہ پارٹی کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایسا نہیں لگتا ہےکہ عراق کے سیاسی میدان میں ممنوعہ بعث پارٹی کو سرگرم کرنے کی امریکہ اور سعودی عرب سمیت بعض عرب ممالک کی کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوں گی؛ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ عراق کی نئي پارلیمنٹ کے اراکین نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بدعنوانی کے خاتمے، عراق میں قیام امن اور سابقہ بعثی حکومت کے باقیات اور علامات و مظاہر کے خاتمے کو اپنی ترجیح قرار دے اور ملک کے آئين کی پابندی کرتے ہوئے ملک کے عظیم تر مفادات کے لۓ کام کرے۔
بشکریہ از ریڈیو تہران اور مہر نیوز .........
/110