ابنا: مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور تاجر انجمنوں کی جانب سے تحفظ ناموس رسالت قانون میں مجوزہ ترمیم کے خلاف31دسمبر کی دی جانے والی ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں اپیل پر کراچی میں وفاقی وزیر کاپریس کانفرنس سے خطاب میں کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں دین کو سیاست میں ا ستعمال نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ تحفظ ناموس رسالت قانون میں تر میم ممکن نہیں تو پھر لوگ سڑکو ں پر کیوں آرہے ہیں،سڑکوں پر لانے والوں کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ قادیانیوں سے متعلق مسئلہ پیپلزپارٹی نے ہی حل کیا تھا۔ تحفظ ناموس رسالت قانون میں کوئی ترمیم نہیں کی جا رہی اور اس کے ساتھ ہی ہم اقلیتوں کو بھی یقین دلاتے ہیں کہ اس قانون کا غلط استعمال نہیں ہونے دیں گے۔پارلیمنٹ سے بڑھ کر کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے آیئے اس سطح پر آکر بات کریں یوں عوام کو مذہب کے نام پر سڑکوں پر لانا زیادتی والی بات ہے ، ہر آدمی کا اپنا خیال ہو سکتا ہے ، پارٹی کا موقف بالکل واضح ہے۔
بشکریہ از روزنامہ جنگ
............سوال: خورشید شاہ سے کوئی یہ کیوں نہیں کہاہ کہ دین سیاست میں کیوں نہ آئے؟ اور پھر آپ کس دین کی بات کررہے ہیں؟ کیا عیسائیت کی بات کررہے ہیں جس نے قرون وسطی میں اپنی نااہلی ثابت کردی؟ یا پھر اسلام کی بات کررہے ہیں جس کی بنیاد ہی سیاست اور مدنی حکومت ہے؟ اگر دین سیاست میں نہ ہو تو کیا آپ جیسے حضرات اس کو مسجد میں آرام سے رہنے دیں گے؟ دین سیاست میں نہ آئے تو اپنا تحفظ کیونکر کرسکے گا؟ اور اگر دین سیاست میں نہ آتا اور لوگون کو سڑکوں پر نہ لے کر آتا تو آپ اور آپ کے صدر محترم نے تو توہین رسالت کے قانون کی تبدیلی کا عندیہ دیا ہی تھا پھر آپ بتائیں کہ علماء کیا کریں؟ خاموش بیٹھیں تا که آپ ملک میں لادینیت پھیلائیں اور مغرب کو خوش کرنے کے لئے قرآن کو بھی معاشرے سے نکال باہر کریں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110