ابنا: سعید جلیلی نے یورونیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ایرانی سائنس دانوں پر قاتلانہ حملوں اور ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں قریبی تعلق دکھائي دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کار پہلے تو ایرانی سائنس دانوں کے نام لیتے ہیں اور سلامتی کونسل کو دیتے ہیں اور اس کے بعد دہشتگرد، ایرانی سائنس دانوں پر قاتلانہ حملے کردیتے ہیں۔ سعید جلیلی نے جینوا میں حالیہ مذاکرات کے بارے میں کہا کہ ملت ایران کے حقوق پر کوئي مذاکرات نہيں ہوئے کیونکہ کسی بھی قوم کے حقوق پر مذاکرات نہیں کئے جاسکتے۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات مشترکہ خدشات کو دور کرنے کی غرض سے انجام پائے ہیں اور عالمی برادری کی ایک تشویش ایٹمی ترک اسلحہ بھی ہے کیونکہ بڑی طاقتوں نے اپنے ایٹمی اسلحے نابود نہیں کئےہیں۔ انہوں نے کہا کہ دباو اور مذاکرات کی پالیسی کو ہم مسترد کرتےہیں۔
.......
/110