ابنا: ملا محمد عمر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا افغانستان میں آئے روز جانی نقصانات اٹھا رہا ہے۔ وہ افغانستان کے ہر علاقے میں پسپائی اور محاصرے کی حالت میں ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ آئے روز مذاکرات اور امن کی باتیں کررہا ہے۔ طالبان کے نام بھیجے گئے چار صفحات کے ایک پیغام میں ملا عمر نے اپنے نام کے ساتھ خادم اسلام اور امیر المومنین کے الفاظ لکھے ہیں۔ملا عمر نے کرزئی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرزئی حکومت کی موجودگی میں ملک اور عوام کی حالت خراب تر ہوتی جارہی ہے۔ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔ جمہوریت کے نام پر اجتماعی ثقافتی انحراف آسمان سے باتیں کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان حکمرانوں کے پاس مغربی ممالک کی شہریت ہے اس لئے انہیں ملک کے مستقبل سے کوئی ہمدردی نہیں۔ وہ افغانستان کو اپنا ملک نہیں سمجھتے اور ایسی فاسد اور جفاکار کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ کام کرنے کا کوئی اخلاقی اور دینی جواز نہیں۔ ملا عمر نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے ضمن میں کہا ہے کہ امریکا ایک جانب فوجی کارروائیوں کو توسیع دے رہا ہے اور دوسری جانب مذاکرات کے کھوکھلے اور بے بنیاد نعروں کے ذریعے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہا ہے۔ افغانستان کی عسکری حالت کے حوالے سے کہا کہ ملک کے موسمی اور جغرافیائی حالات کے پیش نظر دشمن کو تکلیف دہ اور تھکا دینے والی جنگ میں الجھا دینا ہمارا ہدف ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم سابق سوویت یونین کی طرح چور چور کرنے کے بعد فیصلہ کن حملے کے ذریعے دشمن کو بکھیر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی فوجی حکمت عملی کے ذریعے عسکری کارروائیوں میں اضافہ کر کے ان کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا رہے ہیں۔ ملا عمر نے امریکی اور یورپی عوام اور ارکان پارلیمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ نو سال سے افغان عوام نے مغربی سیاسی اور عسکری قیادت کو باور کرادیا ہے کہ وہ اپنے قبضے سے اس قوم کو نہیں منواسکتے۔ملا عمر کا پیغام امارت اسلامی افغانستان کے لیٹر پیڈ پر جاری کیا گیا۔
.....
/110