5 دسمبر 2010 - 20:30

حال ہی میں عالمی ذرائع ابلاغ پر خبر نشر ہوئی کہ ایران کے دوایٹمی سائنسدانوں پر قاتلانہ حملے ہوئے ہیں اور ان واقعات میں پروفیسر مجید شہریاری شہید اور پروفیسر فریدون عباسی زخمی ہوگئے ہیں۔

ابنا: یہ دہشت گردانہ کارروائیاں دو موٹر سائیکل سواروں نے انجام دی ہیں جنہوں نے جدید قسم کے مقناطیسی بم سائنسدانوں کی گاڑیوں سے چپکا کر اس جرم کا ارتکاب کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے دشمن ایرانی عوام کے خلاف بائیکاٹ اور دباؤ کے بےاثر ہونے کے بعد ماضی کی مانند قتل و دہشت گردی کے ناکارہ حربے کو دوبارہ استعمال کرنے لگے ہیں۔اس سے قبل اسی طرح کے ایک واقعے میں 12 جنوری کو تہران یونیورسٹی کے پروفیسر مسعود محمدی کو ریموٹ کنٹرول بم کا دھماکہ کرکے اس وقت شہید کیا گیا جب وہ اپنے گھر سے باہر نکل رہے تھے۔پروفیسر مسعود علی محمدی کی شہادت پر رد عمل دکھاتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹرلاریجانی نے صہیونی ریاست اور امریکہ کی جاسوسی ایجنسیوں کو ایران کے اس ایٹمی سائنسداں کی شہادت کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ڈاکٹر لاریجانی نے اس سلسلے میں پارلیمنٹ کے عام اجلاس میں انکشاف کیا تھا کہ اس واقعے کے چند گھنٹے بعدہی امریکہ میں سی آئی اے کی سرپرستی میں زندگی گذارنےوالے گروپ نے اس دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔

ڈاکٹرلاریجانی کے بقول چند روزپہلے یہ خبرملی تھی کہ صہیونی ریاست کی جاسوس تنظیم موساد اور سی آئی اے تہران میں دہشتگردانہ کاروائي کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکہ اور صہیونی ریاست کی جانب سے اس دہشت گردگروپ کو اپنی دہشتگردانہ کاروائيوں کے لئے استعمال کرنے کو بارک اوباما کے لئے نئی رسوائي قرار دیا تھا۔اسلامی جمہوریہ ایران کی انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ محمد جواد لاریجانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کہا تھا کہ امریکہ اور یورپی یونین کے بعض ملک دنیا کےخطرناک دہشت گرد گروپوں کے حامی ہیں جن میں ایم کے او،  پژاک اور ریگي گروپ شامل ہیں۔محمد جواد لاریجانی نے یہ بھی کہا تھا کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں خطرناک دہشت گرد آزادی سے سرگرم عمل ہیں جن کے ہاتھ ہزاروں بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ایران کی ترقی اور پیشرفت اور ایٹمی ٹیکنا لوجی ایران کی دسترسی سے مغرب بری طرح سے بوکھلاہٹ طاری ہے اور ایرانی دانشوروں پر اس طرح کے قاتلانہ حملے ان کی اس بوکھلاہٹ کو نمایاں کرتے ہیں ۔ایران کے جواں سال سائنسدان شہرام امیری کے اغوا کا واقعہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ جنہیں عمرہ کی ادائیگی کے موقع پرامریکی سی آئی اے نے سعودی عرب کی انٹیلی جینس کی مددسے اغوا کرکے امریکہ پہنچادیا تھا۔امریکہ نے ایک پریس بریفنگ میں یہ جھوٹا دعوی کیا کہ شہرام امیری اپنی مرضی سے امریکہ آئے تھے اوروہ اپنے ملک جانے کے لئے آزاد ہيں۔امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان فیلپس کراؤلی نے شہرام امیری کے اغوا کو ان تین امریکی شہریوں کی ایران میں حراست کے معاملے سے مربوط کرکے امریکی ذلت و رسوائی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جو غیرقانونی طریقے سے ایران میں داخل ہوئے تھے لیکن جب پریس بریفنگ کے دوران امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان سے سوال کیا گیا کہ شہرام امیری کب اورکیسے امریکہ آئے ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑ گئیں اور وہ صرف اتنا کہہ سکے کہ میں اس بارے میں کچھ نہيں کہوں گا ۔اس درمیان امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی اپنا شرمناک دعوی کیا کہ شہرام امیری اپنی مرضی سے امریکہ آئے تھے ۔ایران کےایٹمی سائنسدانوں کے اغوا اور قتل کی وارداتوں کے پیچھے امریکہ صہیونی حکومت کا ہاتھ اتنا واضح کہ اسے چھپایا نہیں جاسکتا البتہ امریکہ اور صہیونی حکومت کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس طرح کے بذدلانہ اقدامات اور ناپاک ہتکنڈوں کے ذریعے وہ اس قوم (ملت ایران) کو ترقی اور پیشرفت سے نہیں روک سکتے جس کے بارے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم 14 سوسال قبل فرما گئے ہیں کہ علم اگر سریّا پر بھی پہنچ گیا تو یہ قوم اس کو پالے گی ۔

۔۔۔۔۔۔

/110