ابنا: عالمی طاقتوں کے بارے میں نت نئے انکشافات کرنے والی ویب سائٹ کے مطابق یمن کی حکومت نے امریکا کوہر قسم کی پابندیوں سے آزاد اورالقاعدہ کے خلاف مکمل کنٹرول دینے کی آفر کی تھی۔وکی لیکس کے مطابق مقامی اور عرب آراکے برعکس یمنی صدر علی عبداللہ صالح نے باراک اوباما کے قومی سلامتی کے ڈپٹی ایڈوائزر جون برینان سے بات کرتے ہوئے کہاتھا کہ یمن نے تودہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے امریکی فوج کیلئے دروازے کھولنے کی پیشکش کی ہے اس لئے وہ کسی گڑ بڑکے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔خفیہ دستاویزات کے مطابق یمنی حکومت نے القاعدہ کیخلاف کارروائیوں میں ہمیشہ اپنی فوج کا کردار آگے رکھالیکن یمنی صدر نے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس سے ملاقات میں اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ انہوں نے قوم سے جھوٹ بولا ہے۔وکی لیکس کے مطابق گزشتہ سال دسمبر میں امریکی کروز میزائل کے حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے ان میں "مبینہ" دہشت گرد بھی شامل تھے۔
بشکریہ از روزنامہ جنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گذشتہ سال جولائی سے لے کر اس سال جنوری تک ایک طویل جنگ شیعیان یمن کے خلاف مسلط کی گئی جس کو چھٹی جنگ کا نام دیا گیا اس جنگ میں سعودی عرب، خلیج فارس کی ریاستوں، مصر، اردن اور صہیونی ریاست اور امریکہ نے بھی شیعیان یمن کے خلاف اپنی قوت استعمال کی مگر شیعہ مجاہدین کے ایک مورچے پر بھی یہ ساری قوتیں قبضہ نہ کرسکیں۔ اس جنگ کے آخری ایام میں امریکی ہوائی جہاز بھی شامل ہوئے اور امریکی میزائل حملے بھی ہوئے لیکن ان کا نشانہ القاعدہ کے دہشت گرد نہیں بلکہ شمالی یمن کے نہتے شیعہ تھے جنہیں ان سب قوتون نے اپنی ستم کا نشانہ بنایا مگر وہ جنگ ان قوتوں کی شکست پر منتج ہوئی اور اس سال عید غدیر کے ایام میں سعودی و امریکی قوتوں سے وابستہ القاعدہ کے دہشت گردوں نے اہل تشیع کو خودکش حملوں کا نشانہ بنایا اور ان حملوں میں 19 افراد شہید ہوئے۔
...........
/110
- ہم امریکہ کے ساتھ تعاون کررہے ہیں امریکہ سے مدد نہیں مانگی!
- شیعیان یمن کو کچلنے کے لئے یمن ـ امریکہ مفاہمت
- اوبامہ نے یمن پرحملہ کا حکم دے دیا- وھائٹ ہاؤس کے سامنے جنوبی یمن کے علیحدگی پسندوں کا اجتماع
- آل سعود کے مفتی بدستور امریکہ کے خدمت گزار
- شیعیان یمن کے خلاف صہیونی، امریکی، سعودی اور بعثی قوتوں کی جانب سے مسلط کردہ چھٹی جنگ کی رو دادیں
-