ابنا: چین کا موقف تھا کہ وہ ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری قبول نہیں کرےگا۔ یہ بات 26جنوری 2010 کو سعودی عرب کے نائب وزیرخارجہ شہزادہ ترکی آل سعود نے امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار جیفری فیلٹ میں سے ملاقات میں بتائی۔ شہزادہ ترکی کے مطابق سعودی عرب کو یقین ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ یمن سے متعلق ایران کے کردار پر بھی سعودی عرب کو تشویش ہے ۔ شہزادہ ترکی نے کہا کہ چین کے وزیر خارجہ نے سترہ جنوری کو سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے ان سے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کیلئے چین کو عالمی برادری کے قریبی اشتراک سے کام کرنا چاہئے کیونکہ یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ شہزادہ ترکی کےمطابق سعودی عرب نے یہ بھی واضح کیا کہ چین ایران کو ایٹمی ہتھیار کی تیاری سے روکنے کی کوششوں میں ساتھ دے تو سعودی حکومت انرجی سکیورٹی اور تجارت سے متعلق چین کے خدشات دور کرنے پر تیار ہے۔ اس پر چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ایران کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری قبول نہیں کریگا۔
بشکریه از روزنامه جنگ........یہ الگ بات ہے کہ سعودی عرب بھی جانتا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہین بنا رہا اور یہ بھی جانتا ہی کہ ایران کا نظریہ یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیار جدید دور میں کسی ملک کی سلامتی اور سالمیت کا سبب نہیں ہیں ورنہ صہیونی ریاست 33 روزہ جنگ مین حزب اللہ سے اور 22 روزہ جنگ میں حماس سے شکست نہ کھاتے لیکن سعودی عرب علاقے میں امریکی و صہیونی ریاست کے مفادات کی حفاظت کی ذمہ داری لینے والا ملک ہے جس نے یقیناً امریکہ اور صہیونی ریاست کے کہنے پر ہی ایران کے چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات مخدوش کرنے کی غرض سے چین کو ورغلانے کی کوشش کی ہے تا ہم عرب ڈپلومیسی کی چونکہ کسی ملک سے کچھ منوانے کی پالیسی ہی نہیں رہی ہے اور عرب ڈپلومیسی کی بنیادی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل کی خوشنودی حاصل کرنا ہوتا ہے چنانچہ سعودی حکمران یہاں بھی کسی استکباری طاقت کی درست نمایندگی نہیں کرسکے ہیں اور ایرانی تیل کی بجائے اپنا تیل بھی نہ بیچ سکے ہيں۔