23 نومبر 2010 - 20:30

رہبر معظم نے کریمہ اہل بیت سیدہ فاطمہ معصومہ (س) کے حرم میں ہزاروں علماء، فضلاء اور طلباء کی مجمع سے خطاب فرمایا جسے اہالیان قم نے منشور حوزات علمیہ کا عنوان دیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، 13 ذى‌القعدہ 1431 کو قم کے علماء، فضلاء اور طلباء کی اکثریت نے حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای ـ حفظہ اللہ تعالی ـ سے ملاقات کی۔ رہبر معظم نے ملاقات کے لئے آنے والے ہزاروں افراد سے خطاب فرمایا:

13 ذى‌القعدہ 1431

متن خطاب:

بسم‌اللَّہ‌الرّحمن‌الرّحيم‌

الحمد للَّہ ربّ العالمين و الصّلاة والسّلام على سيّدنا و نبيّنا ابى‌القاسم محمّد و على آله  الأطيبين الأطهرين المنتجبين الهداة المهديّين المعصومين سيّما بقيّةاللَّه فى الأرضين‌۔

السّلام عليك ايّتها السّيّدة يا فاطمة المعصومة يا بنت موسى‌بن‌جعفر عليك و على ابائك الطّيّبين الطّاهرين المعصومين افضل الصّلاة و السّلام‌۔

حضرت امام علی بن موسی الرضا (علیہ آلاف التحیة و الثناء) اور آپ (ع) کی ہمشیرہ حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا) کی ولادت با سعادت سے ہماری یہ عظیم ملاقات ـ جسے اساتذہ، بزرگ علماء اور حوزہ علمیہ قم کے عزیز طلباء کی موجودگی نے عظمت بخشی ہے ـ کی معاصرت، ہمیں ان دو بھائی بہن کی عظیم اور مبارک حرکت اور ان دو بزرگوں کی با معنی ہجرت کی یاد دلاتی ہے جو بلا شک ملت ایران اور تشیع کی تاریخ میں ایک تعمیری اور مؤثر حرکت و ہجرت کے عنوان سے ثبت ہوئی ہے۔

اس میں شک نہیں ہے کہ قم کے قم ہونے اور اس تاریخی و مذہبی شہر کے عظمت پانے میں حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا) کا کردار ایسا ہے جس میں کوئی کلام نہیں ہے۔ یہ بزرگوار خاتون اور اہل بیت (ع) کے دامن میں پروان چڑھنے والی یہ نوجوان بی بی ائمہ علیہم السلام کے اصحاب و اعوان کے ہمراہ مختلف شہروں سے گذر کر راستے میں تمام علاقوں میں معرفت اور ولایت کا بیج بوکر قم تشریف لائیں اور آپ (س) کی تشریف آوری کے باعث جابر و ظالم حکمرانوں کے اس تاریک اور ظلمانی دور میں شہر قم اہل بیت (ع) کے معارف و تعلیمات  کے مرکز کے طور چمکنے لگا اور ایسے مرکز میں تبدیل ہوا جو اہل بیت (ع) کے علوم و معارف کے انوار کو مشرق سے مغرب تک پوری دنیائے اسلام میں پھیلا رہا ہے۔

آج بھی دنیائے اسلام کا معرفتی مرکز شہر قم ہے۔ آج بھی اسی دور اول کی مانند، قم ایسا فعال اور متحرک قلب ہے جو امت اسلامی کے پیکر میں معرفت، بصیرت، بیداری اور آگہی کا خون بھر سکتا ہے اور اسے ایسا کرنا بھی چاہئے۔ ابتدائی ایام میں شیعہ فقہ اور شیعہ تعلیمات اور پیروان اہل بیت (ع) کی پہلی کتابیں اسی شہر سے نکلیں۔ فقہاء، علماء اور محدثین کے لئے قابل اعتماد اور بنیادی کتابیں شہر قم میں قم کے حوزہ علمیہ کے توسط سے میدان میں آئیں۔ محمد بن احمد بن یحیی کی کتاب "نوادر الحكمۃ"، صفار کی کتاب "بصائر الدرجات" علی بن بابویہ قمی کی کتاب «الشرائع»، برقی کی کتاب «المحاسن»، احمد بن محمد بن عيسى کی کتابیں اور دسیوں بلکہ سینکڑوں دیگر کتابیں اسی شہر میں معرض وجود میں آئیں۔ اس شہر میں ایسی شخصیات پروان چڑھیں کہ جب وہ عالم اسلام کے مختلف علاقوں کا سفر اختیار کرتے ان کی محافل فیض کی محافل ہوا کرتی تھیں۔ شیخ صدوق (رضوان اللہ علیہ)، جو اس عظیم حرکت کی تیسری اور چوتھی نسل میں سے ہیں، جب بغداد پہنچے تو اس وقت بغداد تشیع کا مرکز تھا اور حدیث کا مرکز تھا۔ شیخ صدوق کے حضور علماء، فضلاء اور بزرگ شخصیات نے اجتماع کیا اور ان سے فیض حاصل کیا؛ آپ جانتے ہیں کہ شیخ صدوق شیخ مفید (رضوان اللہ علیہما) کے استاد ہیں۔ چنانچہ قم مرکز میں تبدیل ہوا۔

آج بھی قم مرکز ہے۔ یہاں طویل عرصے کے دوران دسیوں ہزار عاشق پروانے معارف اہل بیت (ع) کے گرد طواف کررہے ہیں، علم حاصل کرتے ہیں، بہت زیادہ صعوبتیں جھیلتے ہیں، اعلی اور معنوی اہداف کو مدنظر رکھتے ہیں اور ان مشکلات و مسائل کو توجہ دیئے بغیر آگے بڑھتے ہیں۔ شاید دنیا میں ہمیں کم ہی کوئی ایسا شہر معلوم ہو شاید ایسا شہر ہمیں معلوم ہی نہ ہو جس میں انسانوں کی اتنی بڑی تعداد علوم دینیہ اور معرفت و معنویت اور اجتماعی سلوک سیکھنے کے درپے ہو؛ جس میں مرد بھی اور خواتین بھی محنت میں مصروف ہوں اور شب و روز معنوی، علمی اور تہذیبی و ثقافتی مجاہدت کررہے ہوں۔ یہ آج کی تاریخ کا حوزہ قم ہے جو ایک ممتاز عالمی مقام پر فائز ہے؛ وہ قم کا تاریخی پس منظر ہے اور وہ یوں کہ تشیع کا سب سے پہلا بنیادی حوزہ اسی شہر میں تأسیس ہوا ہے۔ اور شیخ کلینی اور شیخ صدوق اور دیگر اکابرین فیض کے اسی سرچشمے سے سیراب ہوئے ہیں جن کی کاوشیں صدیوں کے دوران اہل بیت علیہم السلام کے معارف و تعلیمات کی حفاظت کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

بہرصورت حوزات علمیہ ـ بالخصوص حوزہ علمیہ قم ـ تاریخ کے کسی بھی دور میں آج کی طرح عالمی افکار اور عالمی نگاہوں کے لئے قابل توجہ نہیں رہے؛ آج کی طرح بین الاقوامی اور عالمی مقدرات پر اثرانداز نہیں تھے۔ کبھی بھی حوزہ قم کے آج جتنے دوست اور دشمن نہیں تھے؛ آپ حوزہ علمیہ قم کا ساتھ دینے والے حضرات کے آج، پوری تاریخ سے زیادہ، دوست ہیں؛ آپ کے دشمن بھی زیادہ اور خطرناک ہیں۔ آج ـ حوزہ علمیہ قم ـ حوزات علمیہ کی چوٹی پر واقع ہوا ہے اور اس کی ایک ایسی حساس پوزیشن ہے۔

ایک مغالطہ

یہاں ایک مغالطہ ہے جس کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔

ممکن ہے کہ کوئی کہہ دے کہ اگر حوزات علمیہ عالمی مسائل، سیاسی مسائل اور چیلنج بھرے مسائل میں داخل نہ ہوتے تو ان کے اتنے سارے دشمن بھی نہ ہوتے اور آج یہ حوزات سب سے زیادہ قابل احترام ہوتے!

یہ ایک مغالطہ ہے۔ [کیونکہ] کوئی بھی گروہ، ادارہ، بیش قیمت مجموعہ گوشہ نشینی، کنارہ کشی اور بے اثر اقدامات کے بل بوتے پر کبھی بھی رائے عامہ کے نزدیک محترم نہیں ٹہرا اور اس کے بعد بھی ایسا نہیں ہوگا۔ بےحسی کا شکار، غیرجانبدار اور دوسروں سے دوری پسند اور چلیج بھرے مسائل سے دامن بچانے میں مصروف حلقوں کا احترام صوری اور ظاہری احترام ہے جو اپنے معنی اور باطن میں بے احترامی ہے؛ [جامد اور بے جان] اشیاء کے احترام کی مانند ہے جو حقیقی احترام شمار نہیں ہوتا؛ تصاویر، تماثیل اور صورتوں کے احترام کی مانند ہے؛ احترام شمار نہیں ہوتا۔ کبھی تو یہ احترام اہانت آمیز بھی ہوتا ہے اور ظاہری احترام کرنے والے شخص کی جانب سے باطنی تحقیر و تذلیل کے ہمراہ ہے۔ وہ موجود جو زندہ ہے، فعال ہے، اثر گذار ہے، وہ لوگوں کا احترام ابھارتا ہے دوستوں کے دلوں میں، نیز دشمنوں کے دلوں میں بھی جو بظاہر دشمنی کرتے ہیں لیکن اس زندہ اور فعال موجود کے لئے دل میں احترام کے قائل ہیں۔

پہلی بات: کنارہ کشی حذف ہونے کا سبب

اولاً حوزہ علمیہ قم یا دیگر حوزات علمیہ کی کنارہ کشی حذف ہونے پر منتج ہوتی ہے۔ اگر حوزہ علمیہ معاشرے اور سیاست کے مسائل اور چیلنجوں میں داخل نہ ہو تو رفتہ رفتہ دور سے دورتر ہوجائے گا اور فراموش اور گوشہ نشین ہوجائے گا۔ لہذا شیعہ علماء ـ فردی اور وقتی استثنائات کے سوا ـ اپنے پورے وجود کے ساتھ ہمیشہ سے حوادث اور وقائع کے متن میں موجود رہے ہیں۔ اسی بنا پر شیعہ علماء معاشرے میں ایک نفوذ اور گہرے اثر و رسوخ کے حامل ہیں اور یہ اثر و نفوذ اتنا گہرا اور مضبوط ہے کہ کوئی بھی علمی مجموعہ ـ خواہ وہ اسلامی ہو خواہ غیر اسلامی ہو ـ اتنی گہرائی اور اتنے اثر و نفوذ کا حامل نہیں ہے۔

علماء کی گوشہ نشینی دین کا نقصان