19 نومبر 2010 - 20:30

افغانستان میں نیٹو کے سینئر سول نمائندے مارکSedwill نے پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ حقانی گروپ کے ساتھ مذاکرات مثبت ثابت نہیں ہورہے۔

پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ حقانی گروپ کی طرف سے جو مطالبات کئے جارہے ہیں انہیں کوئی افغان حکومت پورا نہیں کرسکتی۔
حقانی گروپ کے ساتھ مذاکرات کا انکشاف پہلی مرتبہ ہوا کیونکہ اب تک اتحادی حکام یہ کہتے رہے ہیں کہ افغان جنگجو دھڑوں میں حقانی گروپ سب سے زیادہ ناقابلِ مصالحت ہے۔
مارک سیڈ ول کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اپنی سرزمین پر مقیم افغانوں کو کرزئی حکومت کے ساتھ مصالحت کے لئے قائل کرکے مفاہمت کے پیچیدہ عمل میں مدد کر سکتی ہے۔
نیٹو کے سینئر سول نمائندے نے یہ اعتراف بھی کیا کہ افغانستان میں ذمے داریوں کی منتقلی کے عمل میں پاکستان سہولتیں فراہم کرسکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ذمے داریوں کی منتقلی کی سطح اور رفتار کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان اپنے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا کتنی تیزی سے خاتمہ کرتا ہے ۔ 
 روزنامہ جنگ
 ۔۔۔۔۔۔۔
 حال ہی میں پاراچنار پر شلوزان کے پہاڑی علاقوں سے حملے کے لئے جلال الدین حقانی گروپ کے 2000 مسلح دہشت گردوں نے نیٹو اور امریکی افواج کے تعاون سے افغانستان کے راستے لمبا مارچ کیا تھا جن کے پاس بھاری ہتھیار بھی تھے اور وہ چھپ چھپ کر نہیں بلکہ بڑے قافلوں میں ریلی کرکے سپینه شگہ کے راستے شلوزان کے پہاڑی علاقے میں داخل ہوئے تھے اور ہم نے اپنی رپورٹوں میں اشارہ کیا تھا کہ طالبان دہشت گردوں کو نیٹو کی حمایت حاصل ہے اور یہ کہ نیٹو اور امریکہ نے انہیں پیچیدہ اور خطرناک ہتھیاروں سے لیس کیا تھا چنانچہ حقانی گروپ سے نیٹو کے تعلقات کا راز بہت پہلے فاش ہوگیا تھا۔
 

- شلوزان کے علاقے میں شہداء کی تعداد 25 ہوگئی ہے / اپڈیٹ

- مقبوضہ گاؤں طالبان دہشت گردوں سے آزاد کرالیا گیا / سرکاری ہیلی کاپٹروں کے شیعہ مدافعین پر شدید حملے / اپڈیٹ: تازہ صوت حال