العالم کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے اس نوجوان کو چھے دنوں سے قید میں رکھا ہوا ہے۔ یہ نوجوان ایک سیاحتی کمپنی میں مینجر ہے۔ اس سعودی نوجوان کو پولیس نے تھانے بلایا تھا اور جیسے ہی وہ تھانے پہنچا اسے گرفتار کرلیا گيا اور اسے زد و کوب بھی کیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی سعودی پولیس نے الاحساء کے بہت سے نوجوانوں کو گاڑیوں میں سید حسن نصراللہ کی تصویریں لگانے پر گرفتار کر لیا تھا۔یاد رہے کہ متعدد سروے رپورٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ عرب دنیا کے سب سے محبوب رہنما ہیں اور ان سے ہرکوئي محبت کرتا ہےخواہ شیعہ ہو یا سنی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔
صہیونی اور سعودی سید حسن نصر اللہ کی تصویر سے بھی یکسان طور پر خائف ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110