خودکش دھماکا گزشتہ روز نیم قبائلی علاقہ درہ آدم خیل میں اس وقت ہوا جب اخوروال کے گاؤں اٹاری وال کی مسجد ولی محمد میں نمازجمعہ ادا کی جا رہی تھی۔پولیٹیکل انتظامیہ ذرائع کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد95 ہوگئی ہے اور اب تک اخوڑ وال میں80 افراد کی تدفین کردی گئی ہے۔ اس موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور علاقہ کی فضا سوگوار ہے۔ تدفین کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔
بشکریہ از روزنامہ جنگ
.....
یہ سب کیوں ہورہا ہے؟ درہ آدم خیل والوں نے تو طالبان کو اسلام کے سپاہی سمجھ کر انہیں بہت زیادہ سہارا دیا اور انہیں اپنے گھروں میں بسایا اور ان ہی کی مدد سے طالبان نے متعدد افراد کو راستے سے پکڑ کر سر عام ذبح کیا اور ان لوگوں نے ہی مسلمانون کو ذبح کرنے پر طالبان کے لئے تکبیر کے نعرے بھی لگائے کیا اب بھی قبائلی عوام ہوش کے ناخن نہیں لیں گے؟ کیا دہشت گرد کو پناہ دینے کا نتیجہ اس سے بہتر بھی ہوسکتا ہے؟ کیا علاقے کے عوام اب بھی ان کے نعروں سے دھوکا کھاتے رہیں گے؟ کیا مسلمان نماز پر حملہ کرسکتا ہے؟ کیا کوئی مسلمان نمازیوں کو خون میں نہلاسکتا ہے؟ ابھی تو پشتخرہ کی مسجد کے شہداء کی تدفین کو زیادہ دن بھی نہیں ہوئے کہ طالبان نے ایک بار پھر اپنی درندگی جاری رکھتے ہوئے مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگ لئے ہیں کیا اب بھی طالبان مسلمانوں کے نمائندے اور اسلام کے غازی کہلائیں گے؟ کیا اب بھی اس بات میں کوئی شک باقی رہتا ہے کہ یہ لوگ بالفطرہ مجرم اور خونخوار ہیں اور ان کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے؟
...........
مساجد پر طالبان کے حملے:
- خودکش حملوں کا رخ درگاہوں سے مساجد کی جانب
- پشاور، مسجد میں نماز جمعہ کے دوران بم دھماکا، 5 نمازی جاں بحق، 22 زخمی
- تحصیل لنڈی کوتل میں دھماکے، مسجد اور مزارات شہید
- بڈھ بیر میں خود کش دھماکا،چھ جاں بحق،42 زخمی/ مسجد شہید
- رواں سال میں ہونے والے خودکش حملے اور بم دھماکے
- مسجد میں دھماکے، 30 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی
- راولپنڈی: طالبان کا پھر بھی مسجد پر حملہ!!
- واناکی مسجدمیں دھماکہ ، بیس ہلاک
- افغانستان: مسجد میں بم دھماکہ، گورنر سمیت 15ہلاک
- پاکستان - مسجد میں دھماکہ، پینتیس ہلاک