30 اکتوبر 2010 - 20:30

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مغرب کی اتنی خدمت امریکہ یا کسی بھی مغرب ملک کی کسی بھی اداری نے نہیں کی جتنی ان ہی کے پیدا کردہ دہشت گرد ٹولوں نے کی ہے۔ مثال کے طور پر فرانس کے برے حالات کو سدھارنے کی غرض سے بن لادن کی دھمکی آمیز پیغام کا شوشہ چھوڑے جانے کے بعد امریکی انتظامیہ نے بھی آنے والے انتخابات میں شکست سے بچنے کے لئے القاعدہ کا کارڈ استعمال کیا ہے اور حکومت امریکہ اور اوباما نے طور پر کہا ہے کہ اگر کئی سو گرام کا یہ دھماکا خیز مواد امریکہ پہنچتا تو پتہ نہیں کیا مصیبت آتی اور یہ کہ موجودہ امریکی حکومت نے یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے اور اوباما کی ٹیم اور ڈیموکریٹک پارٹی نے "چینج" کے نعرے سے پیدا ہونے والی ذمہ داریوں سے عہدہ برآنے ہونے میں ناکامی کے باوجود امریکہ کو اس عظیم خطرے سے بچا لیا ہے چنانچہ امریکی اسی پارٹی کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیں ورنہ القاعدہ امریکہ کو اغوا کرکے "تورا بورا" کی پہاڑیوں میں چھپا لے گی۔

دعوے:1- دھماکا خیز مواد سے بھرے دو پارسل "یمن سے امریکہ" بھیجنے کی کوشش ناکام بنادی گئی ہے۔ یمن سے آنے والے پارسلز میں 280 سے 400 گرام تک دھماکا خیز مواد رکھا گیا تھا۔2- امریکی صدرباراک اوباما نے مبینہ پارسل کا یمن سے بھیجے جانے کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پر دہشت گردانہ حملے کا خطرہ موجود تھا؛ امریکی صدر نے ایک ٹی وی پروگرام میں اس خطرے کو ناکام بنا دیئے جانے کا دعوی کیا اور کہا کہ دونوں پیکٹ یمن سے شکاگو کی دو یہودی عبادت گاہوں کے پتے پر بھیجے گئے تھے اور یہ کہ یہ دونوں پیکٹ امریکہ پہنچنےسےپہلے برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں ضبط کرلئےگئے۔4- دعوی کیا گیا کہ مذکورہ دو پارسل یمن سے امریکہ بھیجنے کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے یمن سے آنے والے پارسلوں کی ترسیل روک دی ہے۔ 5۔ واشنگٹن میں انسداد دہشت گردی کے متعلق وائٹ ہاؤس کے مشیر جان برینن نے بتایا کہ سعودی عرب نے اس بات کی اطلاع دی تھی کہ یمن کی جانب سے ایک بڑے خطرے کا سامنا ہے، انھوں نے کہا کہ خطرے کی نشاندہی پر امریکہ سعودی حکومت کا شکرگزار ہے۔ رابرٹ گبز کے مطابق پرسوں رات یمن کی دوکارگو پروازیں دبئی اور لندن آئی تھیں اور ان پروازوں سے دھماکا خیز مواد سے بھرے پارسل برآمد ہوئے تھے۔ جس کے بعد امریکی و برطانوی ہوائی اڈوں پر سیکورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے۔ 6- ادھر یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے اور یمنی حکومت امریکہ سے مکمل تعاون کر رہی ہے۔ ان دعوؤں کے بعد یمن سے براستہ دبئی آنے والی امارات کی کارگو پرواز کو امریکی لڑاکا طیاروں کے گھیرے میں جان ایف کینڈی ایئرپورٹ پر اتارا گیا تھا۔مقصد کیا تھا یا مقاصد کیا تھی؟امریکہ میں آنے والے دنوں میں وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں؛ اسی اثناء میں یمن سے دھماکا خیزمواد امریکہ بھیجے جانے کا پروپیگنڈا اور وھائٹ ہاؤس کے حکام کا واویلا مچانا اور اوباما کی جانب سے اسے امریکہ پردہشتگردانہ حملے سے کے خطرے سے تعبیر کیا جانا، واقعی قابل غور ہے۔کسی زمانے میں امریکہ کی بات پوی دنیا میں آخری بات ہوتی تھی اور عالمی طاقت ہونے کے ناطے اس کو دقیق اور صحیح سمجھا جاتا تھا لیکن اب زمانہ وہ نہیں رہا چنانچہ دنیا والے غیرجانبدار ذرائع کی طرف بھی دیکھتے ہیں جنہوں نے اس امریکی دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے اور اگر معمول کے مطابق القاعدہ کی طرف سے انجام نہ پانے والے اس عمل کی ذمہ داری بھی قبول کی جائے پھر بھی دنیا والے امریکہ کی بات کو شک کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ اس قصے کے بنیادی کردار امریکی اور سعودی حکام ہیں جن کے درمیان غیر مقدس دوستی کے رشتے کسی سی بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں؛ سعودی عرب دہشت گردی کے خلاف نام نہاد مغربی جنگ میں امریکہ کا قریبی حلیف ہے جبکہ اس جنگ کا اصل نشانہ اسلام، اسلامی ممالک اورمسلم امہ ہے۔قابل ذکر ہے کہ کہ امریکی حکومتیں ـ چاہے ڈیموکریٹ ہوں یا پھر ریپلیکنز ـ امریکہ پردہشتگردانہ حملے کے خطرے کا دعوی صرف اسی صورت میں کرتے ہیں جب امریکہ میں انتخابات ہونے والے ہوتے ہیں یا پھر امریکہ کو کسی اسلامی ملک پر حملہ کرکے اس ملک پر قبضہ کرنا ہوتا ہے اور پھر القاعدہ والے بھی حق نمک ادا کرتے ہوئے امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ اپنے ناطے کا اظہار کرتے ہوئے اور مبینہ حملوں کی ذمہ داری اپنے سر لیتے ہیں اور شاید پھر یہ تینوں اپنی نجی محفلوں میں دل کر دنیا کو بیوقوف بنانے پر دل کھول کر ہنستے ہیں!چینج اور تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اور بش انتظامیہ پر کڑی تنقید کرنے والے صدر جو ان ہی نعروں اور دعوؤں کی بدولت پہلے سیاہ فام امریکی صدر بن گئے ہیں نے بھی بش کی راہ پر گامزن ہوکر وہی ہتھکنڈہ استعمال کیا ہے۔ بش کے زمانے میں جب کبھی انتخابات ہوتے تو انتخابات کے موقع پر القاعدہ کی جانب سے امریکہ پر حملے کا خطرہ پیدا کردیا جاتا تھا اور کسی نامعلوم مقام سے بن لادن یا ایمن الظواہری کی جانب سے جاری ہونے والا ویڈیو پیغام الجزیرہ ٹی وی یا العربیہ چینل سے نشر کروایا جاتا جس میں اسامہ یا الظواہری ان خطرات کی تصدیق کرتے اور امریکہ کو دھمکیاں دیتے جیسا کہ 11 ستمبر کی مشکوک صہیونی ـ امریکی سازش کے بعد بھی ایسا ہی ویڈیو پیغام سامنے آیا جب امریکہ کو افغانستان پر حملہ کرنا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ اگر امریکہ کو معاشی بحران کا سامنا نہ ہوتا اور عالمی کساد بازاری امریکی عوام بش سے دور نہ کرتے تو ان کی جماعت اسامہ اور القاعدہ کی موہوم موجودگی اور خطرات کی بنیاد پر پھر بھی کامیاب ہوجاتی لیکن اوباما نے اس صورت حال کو بدلنے کا نعرہ لگایا جس کی وجہ سے بش ناکام ہوگئے اور ان کی جماعت بھی ناکام ہوئی۔ اوباما تبدیلی کا نعرہ لگا کر آئے تھے لیکن وہ تبدیلی نہ لا سکے؛ وہ حتی گوانتامو کے بدنام زمانہ اذیت کدے کو بند کرنے کا وعدہ تک نہ نبھا سکے اور دوسری طرف سے دو جنگوں میں سینکڑوں ارب ڈالر خرچ کرنے کی وجہ سے امریکہ کی کساد بازاری نے اوباما کا دامن بھی پکڑ لیا اور تبدیلی کے نعرے دھرے کے دھرے رہنے اور معاشی بدحالی کی وجہ سے ان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گرنے لگا حتی کہ انہیں مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹک جماعت کی شکست کا خطرہ شدت سے محسوس ہوا چنانچہ انھوں نے بھی مجبور ہوکر بش کی گھسے پھٹے دعوؤں کا سہارا لے کر "القاعدہ کے بابرکت وجود" سے فیض حاصل کرنے کا فیصلہ کیا لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ بش اپنے آلہ کار دہشت گرد ٹولے القاعدہ کے سرغنے اسامہ بن لادن کا نام استعمال کیا کرتے تھے اور اوراوباما نے یمن میں فعال القاعدہ کا نام استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ ایک تیر سے دو نشان مارنا چاہتا ہے: 1- آنے والے انتخابات میں ڈیموکریٹک جماعت کی کامیابی اور 2- عراق سے نکلنے کے بعد یمن کو نشانہ بنانا اور اس ملک کو بھی عراق اور افغانستان کی صورت حال سے دوچار کرنا۔اسی سال 27 اگست کو ایک خبر آئی تھی کہ  عراق کے بعد امریکہ کا اگلا ہدف یمن ہے اور القاعدہ کی موجودگی کے بارے میں امریکہ کی تشہیراتی مہم کے آغاز کا مقصد بھی یہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بدنام زمانہ امریکی جاسوس ادارے C I A نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ کی سلامتی کو اب یمن میں موجود القاعدہ، سب سے بڑا خطرہ ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خبر رساں ادارے کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ سی آئی اے کو یقین ہے کہ یمن میں موجود القاعدہ کی شاخ اسامہ بن لادن کے بانی تنظیم القاعدہ سے زیادہ طاقتور بن چکی ہے۔چنانچہ امریکہ کے حالیہ دعوے کی دو ہی مقاصد ہیں جن کی طرف اشارہ کیا گیا اور اس دعوے میں در حفیقت کوئی حقیقت نہیں ہے جیسا کہ 11 ستمبر 2001 کے سلسلے میں امریکی دعوے بھی بے بنیاد تھے اور صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر احمدی نژاد نے جب جنرل اسمبلی میں مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کو 11 ستمبر کے بارے میں تفتیش کے لئے غیرجانبدار ٹیم تشکیل دینی چاہئے تو امریکہ کا پورا نظام غصے سے آگ بگولا ہوگیا اور امریکی وفد سمیت اس کے مغربی حلیف ممالک کے وفود نے بھی واک آؤٹ کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔ بہر حال اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ اور یورپ کو جب بھی اندرونی مسائل سی چھٹکارا پانا ہو یا کسی ملک پر حملہ کرنا ہو تو وہ القاعدہ کو فعال کردیتے ہیں اور عالم اسلام کے سینے پر اس پیپ بھرے زخم اور گندے ناسور سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔آخر میں حالیہ رپورٹ کے بارے میں مزید اطلاعات:رپورٹ غلط ہےاسی حال میں جبکہ امریکہ اور یورپ میں القاعدہ کے نئے اقدام کے بارے میں بحث زور و شور سے جاری تھے کچھ مختلف قسم کی رپورٹیں بھی پڑھنے کو ملیں جو پڑھنے کے قابل ہیں:1- کسی بھی غیرجانبدار ذریعے سے اس امریکی دعوے کی تصدیق نہ ہو سکی ہے۔2- بعض ذرائع نے ایف بی آئی کے حوالے سے کہا ہے کہ پارسل سے کوئی دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔ 3- بی بی سی اور اسکائی نیوز کے مطابق پارسل میں بم تو نہیں مگر خطرناک مواد ضرور تھا! - ایف بی آئی کے ترجمان کے مطابق طیارے سے کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی۔فیصلہ آپ خود کریں .......

.............

/110

لنکس:

القاعدہ کی موجودگی، امریکہ نے تشہیراتی مہم کا آغاز کیا

یمن میں سعودی عرب کی تیز رفتار شکست

2009/11/14

سعودی مداخلت نے یمن کے بحران کو شدت بخشی

2009/11/11

سعودی مداخلت اس ملک کے مفاد میں نہیں

2009/11/11

رياض اور صنعا جنگ بند نہیں کرنا چاہتے