24 اکتوبر 2010 - 20:30

کل رات کو رہبر معظم نے حوزہ علمیہ کی ممتاز طلباء اور فضلاء نے رہبر معظم سے ملاقات کی اور رہبر معظم نے حوزہ کے علمی اخلاقیات کے حوالے سے علمی انصاف اور علمی کاموں میں سنجیدگی پر زور دیتے ہوئے فرمایا: حوزہ کے استاد کو مطالعہ اور فکر و تدبر کرکے نئی سوچ پیدا کرنی چاہئے تا کہ حوزہ علمیہ جدید تعلیمی نظام کی آفتوں میں مبتلا نہ ہو۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم کے ممتاز طلبا اور اساتذہ نے کل (اتوار کی رات) کو رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات اور بات چیت کی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: علم و دانش حوزات علمیہ کا حقیقی تشخص ہے اور اس علمی سلسلے کی عملی پابندی ضروری ہے۔آپ نے سوال اور شبہات کا خیر مقدم کرنے کے حوالے سے حوزات علمیہ کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے آزاد فکری، تحجر اور فکری جمود سے دوری، علمی میدان میں خود اعتمادی،  مخالف نظریات و آراء کا سامنا کرتے ہوئے منطقی اور معقول روشوں کا سہارا لینے، حوزات کے لئے مختلف مضامین اور موضوعات پر کام کرنے کی ضرورت، حوزہ علمیہ کے اخلاقی اور تربیتی نظام اور اور دشمن شناسی کی ضرورت پر تأکید فرمائی۔ یہ ملاقات چار گھنٹے سے زائد عرصے تک جاری رہی اور رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں علم کو حوزات علمیہ کی حقیقی اور اصلی بنیاد قرار دیا اور فرمایا: حوزہ علمیہ کی بنیاد علم و دانش پر استوار ہے چنانچہ حوزہ علمیہ کو چاہئے کہ وہ علم کی محوریت و مرکزیت کے پابند رہیں۔رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: سوالات اور شبہات کا خیرمقدم کرنا علم کی محوریت کی پابندی کا ایک حصہ ہے، علم سوال برانگیز اور سوال آفرین ہے اور حوزات علمیہ سمیت علم و دانش کو محور و مرکز قرار دینے والے مراکز کو سوالات، شبہات اور ابہام کا دل کھول کر خیرمقدم کرنا چاہئے۔ رہبر معظم نے حوزات کی تاریخ میں علمی اور بہت سنجیدہ معارضات و مباحثات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حوزہ علمیہ کے تمام مضامین میں اس قابل قدر روایت کو تقویت پہنچانی چاہئے۔ آپ نے سوال کے انقطاع اور خاتمے کو علم کا انقطاع اور خاتمہ قرار دیا اور فرمایا: سوال اٹھانے، مسئلہ بیان کرنے اور نئے شیوے استعمال کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے اور اگر پیش کی جانی والی بات غلط ہی کیوں نہ ہو اس کا سامنا علمی روشوں سے ہی کرنا چاہئے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے آزاد فکری اور آزاد اندیشی کو حوزات علمیہ میں رائج روایات میں سے ایک اہم روایت قرار دیا اور اس خوبصورت روایت (سنت حسنہ) کو مزید گہرائی دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا: آزاد فکری و آزاد اندیشی علمیت اور علمی ہونے کی خصوصیت ہے اور علم کے میدان میں جمود بالکل بے معنی اور مہمل ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حوزہ میں تنقید اور آزدی کی فضا نہ ہونے کے بارے میں بعض اظہار خیالات کو تہمت و بہتان عظیم قرار دیا اور فرمایا: حوزہ علمیہ میں آزاد اندیشی پہلے سے بھی کہیں زیادہ ہوگئی ہے لیکن اس آزاد اندیشی کو مختلف سطوح میں فروغ اور گہرائی دینے کی ضرورت ہے اور اہل فکر کو تمام مضامین و موضوعات میں اپنی آراء مکمل آزادی کے ساتھ بیان کرلینی چاہئیں۔ آپ نے خود اعتمادی اور علمی خود اعتمادی کو حوزات علمیہ کے علمی تشخص کے تسلسل کی ایک اور کڑی گردانتے ہوئے فرمایا: آراء اور افکار کے تقابل کے حوالے سے حوزات علمیہ میں علم کو بہت زیادہ قدر و قیمت حاصل ہونی چاہئے؛ تاہم تقوی، زہد و پارسائی اور خشوع برتر قدریں ہیں لیکن علم کو پرکھا جاسکتا ہے لہذا اس تناظر میں عالم ترین افراد کو حوزات میں سب سے زیادہ عظمت و قدر و قیمت حاصل ہونی چاہئے۔ آپ نے حوزہ کے علمی اخلاقیات کے حوالے سے علمی انصاف اور علمی کاموں میں سنجیدگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا: حوزہ کے استاد کو مطالعہ اور غور و فکر کرکے نئی فکر پیدا کرنی چاہئے تا کہ حوزات علمیہ کبھی بھی جدید نظام تعلیم کی آفات کا شکار نہ ہوں۔رہبر انقلاب اسلامی نے حوزہ کے علمی تسلسل کے تحفظ کی غرض سے علمی و قومی اور بین الاقوامی حلقوں کے ساتھ گہرے اور فعال رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا: حوزہ علمیہ قم کو ملک کی اندرونی جامعات اور دیگر حوزات سمیت علمی اسلام کے حوزات علمیہ کے ساتھ منظم اور باضابطہ علمی رابطہ رکھنا چاہئے اور ابلاغ عامہ کے جدید وسائل کا استعمال ان تعلقات و روابط کو آسان اور تیز رفتار کرنے میں ممد و معاون ہوسکتا ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے افکار و آراء کی سرکوبی کی شدید مخالفت کو حوزہ علمیہ کی ایک اور خوبصورت اور زندہ جاوید روایت قرار دیا اور فرمایا: حوزات میں مخالف آراء کو رد کرنے کے لئے غیر علمی روشوں سے ہرگز استفادہ نہیں ہونا چاہئے۔آپ نے استدلال، مخالف فریق کو عقلی طور پر قائل کرنے کو حوزات علمیہ کی علمی روشوں کی بنیاد قرار دیا اور تکفیر کو غیر علمی روش قرار دیتے ہوئے علماء اور فضلاء کو ہدایت کی کہ وہ غلط آراء کا مستحکم  مقابلہ کریں لیکن ان کا جواب مدلل ہونا چاہئے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: علمی تشخص کی پابندی کے سلسلے میں حوزات علمیہ کی پابندی کا لازمہ یہ بھی ہے کہ تعلیم و تعلم تفکر، تحقیق اور تدبر کے ہمراہ ہو اور محترم اساتذہ کو چاہئے کہ وہ طلباء کو ابتداء ہی سے مطالعہ، تفکر اور تحقیق کا سہارا لینے کی تربیت دیں۔ فقہ حوزات علمیہ کی ریڑھ کی ہڈیآپ نے فرمایا: حوزہ علمیہ کا محور تحقیق ہونی چاہئے اور حوزات علمیہ کو فلسفہ سمیت مختلف علوم کی اشد ضرورت ہے۔ گو کہ فقہ حوزات علمیہ کی ریڑھ کی ہڈی ہے لیکن کو علوم کی ترجیح بندی کرکے، تفسیر، تبلیغی فنون اور انسانی علوم (Humanities) میں بھی ماہرین و متخصصین تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے تعلیم و تربیت اور علم پیدا کرنے (Knowledge Production) کے لئے نئی روشوں اور شیووں کا خیر مقدم کرنے کو ضرورت قرار دیا اور فرمایا: حوزات علمیہ کو حوزہ سے باہر کی دنیا ـ بالخصوص تعلیم و تربیت کے وسیع میدان میں ـ زیادہ سے زیادہ فعال اور متحرک ہونا چاہئے۔ آپ نے اس ہدف کے حصول کے لئے تعلیم و تربیت اور اخلاقیات کے ماہرین کی تربیت کی ضرورت پر زور دیا اور حوزہ علمیہ کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس ضرورت کو کافی و شافی توجہ دیں۔ رہبر انقلاب نے اندرونی اور بیرونی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے جدید وسائل اور جدید شعبوں اور میدانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مختلف النوع افکار اور شبہات و سوالات کے تسلسل کا امکان حوزہ علمیہ کی ذمہ داریاں بڑھا دیتا ہے اور اس کی بنا پر حوزہ علمیہ کی جانب سے جدید اور مختلف النوع موضوعات کی طرف توجہ کو لازم قرار دیتا ہے۔آپ نے زیادہ سے زیادہ با صلاحیت اور مشتاق افراد کو حوزہ کی جانب راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حوزہ علمیہ قم کی جانب سے انجام پانے والے مثبت اور اہم اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حوزہ علمیہ قم کے متین اور قابل قبول مدیران ـ جنہیں مراجع تقلید کی تأئید و حمایت بھی حاصل ہے ـ ان اقدامات کی انجام دہی میں پوری طرح مؤثر تھے۔ توجہ رکھیں کہ جامعہ مدرسین (Teachers Society) جیسے اداروں کو نقصان نہ پہنچےرہبر انقلاب اسلامی نے حوزہ علمیہ کی سپریم کونسل اور ڈائریکٹریٹ کو کمزور کرنے سے اجتناب پر زور دیتے ہوئے فرمایا: سب توجہ رکھیں کہ جامعہ مدرسین جیسے عمیق اور تاریخی اداروں کو کوئی نقصان نہ پہنچنے پائے۔حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عالمی استکبار ـ بالخصوص امریکہ اور صہیونیت ـ کی جانب سے دنیا میں دینداری کے فروغ سے عناد و عداوت کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اہانت آمیز خاکوں، قرآن سوزی اور صہیونی نیٹ ورک کی جانب سے دیگر اقدامات جیسے منصوبوں اور سازشوں سے دشمنان اسلام کی خباثت کی گہرائی کا پتہ ملتا ہے اور ہمیں ان سازشوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ آپ نے فرمایا: حوزہ علمیہ طبیعتآً ان عداوتوں کے سامنے خاموش نہیں رہ سکتا اور کیاست و ہوشیاری کے ساتھ استکبار کے اقدامات کا رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ رہبر معظم نے دشمن شناسی اور دشمن کے ترسیم کردہ راستے پر گامزن ہونے سے اجتناب کو ضروری قرار دیا اور فرمایا: حوزات سے وابستہ افراد سمیت ملت کے تمام افراد کو ہر وقت محتاط اور ہوشیار رہنا چاہئے کہ کہیں ایک لفظ بھی دشمن کے مطلوبہ اہداف کے حق میں نہ بولا جائے اور ایک قدم بھی اس راستے میں نہ اٹھایا جائے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے معنویت، توسل، تضرع، پرہیزگاری، پارسائی اور دنیاوی امور سے بے رغبتی کو حوزہ علمیہ کے تمام امور کی بنیاد قرار دیا اور فرمایا: اگر تمام علمی انتظامات اور اسباب و وسائل منطقی اور معقول انداز میں فراہم بھی ہوجائیں لیکن اخلاقی و معنوی روح اور رجحان حکمفرما نہ ہو تو امور اپنے صحیح راستے پر آگے نہیں بڑھیں گے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے طلباء کو نصیحت کرتے اور انہیں اخلاق و معنویت کی دعوت دینے کے سلسلے میں امام خمینی رحمۃاللہ علیہ سمیت حوزہ کے بزرگ اور روشن ضمیر اساتذہ و علماء کی سیرت کی یادآوری کرتے ہوئے فرمایا: نوجوانوں کے قلوب نصیحت قبول کرنے اور عالی معنوی درجات پر فائز ہونے کی صلاحیت سے سرشار ہیں اور اس مناسب و مساعد امکان سے استفادہ کرتے ہوئے طلباء کو قول و عمل کے ذریعے آخرت کے سلسلے میں غور و فکر اور خالص الہی نیت سے علم آموزی کی دعوت دینی چاہئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110

متعلقہ لنکس:

 رہبر معظم سے حضرت ایت الله العظمی صافی گلپائگانی کی ملاقات

۔ حوزہ علمیہ قم کی تحقیقاتی کاوشوں کی نمائش کی تیاری

- رہبر معظم نے حوزہ علمیہ قم کی تحقیقاتی کاوشوں کی نمائش کا معائنہ کیا

- مدرسه حجتیہ میں رہبر معظم کے کمرے کا علامتی افتتاح

- ہزاروں بسیجیوں نے رہبر معظم سے ملاقات کی

- شہر مقدس قم میں رہبر معظم کی کل کی مصروفیات

- رہبر انقلاب سے آیت اللہ العظمی صافی گلپائگانی کی ملاقات

- حوزہ علمیہ قم کی انجمن اساتذہ سے رہبر معظم کا خطاب / متعلقہ لنکس

- رہبر معظم سے اراکین جامعۂ مدرسین حوزۂ علمیۂ قم کی ملاقات

- رببر معطم نے مسجد جمکران میں عبادت کی اور نماز صبح ادا کی

- رہبر معظم انقلاب اسلامی کا صوبۂ قم کے شہداء اور حضرت علی بن جعفر (ع) کو خراج عقیدت

- رہبر معظم سے حضرت ایت الله العظمی صافی گلپائگانی کی ملاقات

- صوبۂ قم کے تین شہیدوں کے خاندانوں سے رہبر معظم کی ملاقات

رببر معظم سے ہزاروں علماء، فضلاء اور طلباء کی ملاقات