موضوع ”بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور تحفظ عزاداری “ رپورٹ : شوکت بھٹی (میڈیا کوآرڈینیٹر مجلس وحدت مسلمین پاکستان) کوئی بھی تنظیم اگر اپنے قیام کے اغراض و مقاصد اور اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کرے تو اس کی اہمیت اور افادیت بڑھ جاتی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا قیام ملت جعفریہ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے، اس کے اجتماعی مسائل کو حل کرنے اور فروغ عزاداری سید الشہداءکے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور اس تنظیم نے حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کو ریلیف دینے، دہشت گردی کا نشانہ بننے والے، ملت جعفریہ کے شہداءکے ورثا کی غمگساری اور ملت جعفریہ کو متحد کرنے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل کے تحت عملی کردار ادا کر کے ثابت کر دیا کہ یہی پاکستان کی چار کڑور شیعہ آبادی کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اسی تنظیم کی زیر نگرانی 3 اکتوبر بروز اتوار ماگلہ ہوٹل اسلام آباد میں ملکی حالات کے تناظر میں عزاداری مظلوم کربلا کے تحفظ کے لیے ”بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور تحفظ عزاداری“ کے عنوان سے ایک عظیم الشان ”قومی شیعہ کانفرنس“ کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کی ۔ ملت جعفریہ کے اس نمائندہ اجتماع میں مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی، مجلس وحدت مسلمین کی شوریٰ عالی کے سربراہ اور ہیت آئمہ جماعت کراچی کے سرپرست شیخ محمد حسن صلاح الدین، ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ترجمان علامہ حسن ظفر نقوی، صوبہ بلوچستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ہاشم الموسوی، گلگت کے صوبائی سیکرٹری جنرل شیخ نیئر عباس مصطفوی، امام خمینی (رح) ٹرسٹ ماڑی انڈس کے سرپرست اعلیٰ علامہ سید افتخار حسین نقوی، امامیہ آرگنائزیشن کے برادر قاسم رضوی، جعفریہ الائنس کراچی کے آفتاب حیدر جعفری، ممتاز مذہبی اسکالر آغا مرتضیٰ پویا، مولانا ع غ کراروی، ایم ڈبلیو ایم کی شورایٰ نظارت اور شیعہ ایکشن کمیٹی کے سربراہ علامہ مرزا یوسف حسین، طوری بنگش سپریم کونسل پاراچنار کے گلاب حسین طوری، جعفریہ سپریم کونسل کشمیر کے چیئرمین شبیر بخاری، ایم ڈبلیو ایم ریاست آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل تصور حسین جوادی، قومی اسمبلی کے سابق رکن سردار شجاع خان بلوچ، ذاکر عارف حسین شاہ جھنگ، ذاکر عمران رضا جھنڈیر، ماتمی انجمنوں فدائے اہل بیت - چکوال، انجمن کاظمیہ، فدائیان حسین (ع)، وحدت کونسل ہنگو، محبان آل محمد، مجلس اہل بیت - پاراچنار اور پنجابی امام بارگاہ اسلام آباد کے نمائندگان سمیت ملک بھر سے مختلف شیعہ تنظیموں کے اکابرین اور زعماءملت جعفریہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرس کا حسب ضابطہ آغاز برادر محمد آصف سروری نے تلاوت قرآن مقدس سے کیا۔ نعت رسول مقبول (ص) پڑھنے کی سعادت برادر ظافر نے حاصل کی۔ برادر اعجاز اور برادر ذوالفقار علی نے ترانے پیش کیے۔ نظامت کے فرائض برادر نثار علی فیضی نے سرانجام دیئے۔ پہلی نشست ۱۔ مجلس وحدت مسلمین کے رہنما اور قومی شیعہ کانفرنس کے آرگنائزر علامہ سید حسنین عباس گردیزی: ۔ علامہ گردیزی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرزمین وطن پر دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور خونریزی کے سبب ملک کا ہر شہری عدم تحفظ کا شکار ہے۔ گزشتہ پندرہ، بیس سالوں میں پاکستان عوام بالخصوص ملت جعفریہ کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کی حالیہ سنگین وارداتیں عزاداری کے پروگراموں کو محدود کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔ دشمنان اہل بیت (ع) چاہتے ہیں کہ مجالس اور ماتمی جلوسوں کو چار دیواری تک محدود کر دیا جائے۔ سانحہ کربلا گامے شاہ اور سانحہ یوم القدس کے بعد سیاسی اکابرین، تنظیموں اور وزیر داخلہ کے بیانات اس امر کی غمازی کرتے ہیں اور بعض بیرونی طاقتوں کے حمایت یافتہ علماء ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ عزاداری کے پروگراموں کو محدود کرنے کی سازش بے نقاب ہو چکی ہے اس لیے ملت جعفریہ کے سنجیدہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سازش کا مقابلہ کریں، ان حالات میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی زیر نگرانی منعقد کی جانے والی یہ قومی شیعہ کانفرنس ملت جعفریہ کے موقف کو اجاگر کرنے اور قومی سطح پر تحفظ عزاداری کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے انتہائی معاون و مددگار ثابت ہو گی اور انشاءاللہ ہمارے اجتماعی موقف اور ٹھوس لائحہ عمل کے سبب عزاداری کو محدود کرنے کے خواب ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ۲ ۔ علامہ نیئر عباس مصطفویٰ (صوبائی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین گلگت): ۔ علامہ نیئر عباس مصطفویٰ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی پہلی واردات 61 ھ میں یزید نے کی تھی جسے مولا حسین (ع) اور ان کے جانثار ساتھیوں نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر ناکام بنایا۔ آج پھر دین اسلام کا چہرہ بگاڑنے کے لیے یزیدی ٹولہ سامنے آچکا ہے جو دین کے نام پر دہشت گردی کر رہا ہے۔ علامہ مصطفویٰ نے کہا کہ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور اس کا حلیہ بگاڑنے کی لیے یہودی لابی کام کر رہی ہے اور ہمارے حکمران یہودیوں کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک دال روٹی اور چپاتی کے نام پر نہیں بلکہ اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ اس لیے ہم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اس کا تحفظ کریں ہمارے پاس سب سے قیمتی چیز ولائے علی (ع) ہے۔ اگر ہم مولائے کائنات علی ابن ابی طالب (ع) کی صحیح معنوں میں پیروی کریں تو دشمنان اسلام کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے گلگت اور بلتستان کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بلیک واٹر تنظیم کا آنا اور چینی فوج کے تذکرے، عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک قتل کے بدلے 9 افراد کو سزائے موت سنائی گئی، یہ کہاں کا انصاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں ملک دشمن عناصر کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کا نشانہ پاک فوج بن رہی ہے یا شیعہ بن رہے ہیں۔ ہمیں ان حالات کے تناظر میں عزاداروں اور عزاداری کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ملکی تحفظ کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔۳ ۔ علامہ سید افتخار حسین نقوی (سرپرست اعلیٰ امام خمینی (رح) ٹرسٹ ماڑی انڈس): ۔ علامہ سید افتخار حسین نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت ہماری قوم بیرونی حملوں کے ساتھ ساتھ اندرونی سازشوں میں بھی گھری ہوئی ہے سٹیج پر لوگوں کے جذبات بھڑکائے جا رہے ہیں، یہ وقت فروعی اختلافات کو بھلا کر قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کا ہے اس لیے ملت جعفریہ کے اکابرین کے ساتھ ساتھ افراد پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اندر اتحاد کا جذبہ پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی (رح) کے سامنے جب دینہ کنونشن کے بانی کرنل محمدخان نے وحدت کا ذکر کیا تھا تو انہوں نے سفید کاغذ پر دستخط کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ مجھے وحدت ملی کی خاطر ہر شرط منظور ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد شہید نے اپنے دور قیادت میں ملت جعفریہ کی وحدت اور یکجہتی کے لیے 36 کوششیں کی اور آخر تک مایوس نہیں ہوئے۔ علامہ افتخار حسین نقوی نے کہا کہ اب پوری دنیا منظم منصوبہ بندی کے تحت شیعہ اور سنی فسادات کرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے اور اس ضمن میں زرکثیر خرچ کی جا رہی ہے جس کے اثرات ہمارے ملک میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں موجودہ حالات کی روشنی میں صبروتحمل سے کام لینا ہو گا اور اپنے اندر قوت برداشت پیدا کرنی ہو گی۔ اگر ہم کسی کے محترم کو گالی دیں گے تو اس کا یقینا رد عمل سامنے آئے گا ۔ حضرت امام حسن (ع) نے صلح کے وقت پہلی شرط یہ رکھی تھی کہ مولائے کائنات حضرت علی (ع) پر سب و شتم بند کیا جائے۔ اگر ہم حضرت امام حسن (ع) کی اسی شرط کی روشنی میں اپنا کردار ادا کریں تو دنیا کی کوئی طاقت ملت اسلامیہ کی وحدت و یگانگت کو پارہ پارہ نہیں کر سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی ترجیحات میں بھی اولین ترجیح وحدت امت مسلمہ ہے۔ ۴ ۔ برادر قاسم رضوی (امامیہ آرگنائزیشن پاکستان کے رہنما و سیکرٹری قومی امور) : ۔ برادر قاسم رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ چودہ صدیوں سے یزیدیت حسینیت کے ساتھ برسرپیکار ہے، عزاداری پر بارہا حملے کیے گئے لیکن عزاداری مظلوم کربلا آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ غلط فہمی دور کر لینی چاہیے کہ عزاداری ہماری وجہ سے زندہ ہے۔ عزاداری کو زندہ رکھنے کا وعدہ خداوند قدوس نے کیا تھا، ہمیں عزداری کے ساتھ ساتھ عزادار کے تحفظ کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں کہا حسینیت نام ہے انقلاب کا، طالبان ہوں یا لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ ہو یا لشکر یزید، را کے ایجنٹ ہوں یا موساد کے وظیفہ خوار، القاعدہ ہو یا جنداللہ سب مل کر بھی حسینی پیغام کو ختم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے تجاویز پیش کیں کہ عزدار اور عزاداری کے تحفظ کے لیے حکومت اور ایجنسیوں پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ خود حفاظتی اقدامات اٹھائیں جائیں، تمام امام بارگاہوں کے لیے خصوصی سیکورٹی پلان مرتب کیے جائیں اور یہ سیکورٹی خود عزادار کریں، مجالس اور جلوسوں میں شامل سو یا سو سے زائد افراد کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ مرکزی سطح پر عزادار کونسل تشکیل دی جائے اور قوم کے ایک لاکھ نوجوانوں کو سیکورٹی کے حوالے سے خصوصی تربیت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ شیعیان حیدر کرار (ع) کی رہنمائی کے لیے عزاداری کونسل کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خواتین کی مجالس کے تحفظ کے لیے بھی ٹھوس لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔ ملت جعفریہ کا ہر فرد مقصد کربلا کا ادراک کرے، یہ ہم پر فرض بھی ہے، قرض بھی ہے، سعادت بھی ہے اور عبادت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چالیس برسوں میں کسی بھی نئے ماتمی جلوس کا لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔ جب کہ آبادی چالیس گناہ بڑھ چکی ہے۔ حکومت اگر شیعیان حیدر کرار (ع) کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے عزاداری کے پروگراموں کو محدود کرنے کی بجائے ماتمی جلوسوں کے نئے لائسنس جاری کرنے ہوں گے۔ ۵ ۔ شبیر بخاری ( چیئرمین جعفریہ سپریم کونسل ریاست کشمیر) : ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شبیر بخاری نے کہا کہ اس وقت پاکستانی قوم کو جن چیلنجز کا سامنا ہے اس کے اثرات خطہ کشمیر میں بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سال کشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ماتمی جلوس میں دہشت گردی ہوئی۔ اس لیے دہشت گردوں کے مقاصد کو سمجھنے اور ان کے سدباب کے لیے ٹھوس حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں شکوہ ہے کہ خطہ کشمیر میں قیام پذیر شیعہ افراد کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ سانحہ کربلا گامے شاہ اور سانحہ یوم القدس کوئٹہ کے بعد کشمیر کے مومنین کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا اور خونریزی کی ان سنگین وارداتوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عزاداری اور عزاداروں کا تحفظ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے اور اگر حکمران یہ ذمہ داری ادا نہیں کر سکتے تو انہیں چاہیے کہ یہ ذمہ داری ہمیں تفویض کر کے اپنی ناکامی کے اعتراف میں اقتدار سے ال
3 اکتوبر 2010 - 20:30
News ID: 207478
پہلی نشست کی رو داد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔