2 اکتوبر 2010 - 20:30

تہران کے دورے پر آئے شام کے صدر بشار اسد نے ہفتے کی شام رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں گزشتہ تیس برسوں کے دوران پائيداری و استحکام کے لحاظ سے اسلامی جمہوریہ ایران اور شام کے تعلقات کو بے مثال قرار دیا اور شام کے سابق صدر حافظ اسد مرحوم کو یاد کرتے ہوئے فرمایا کہ دونوں ملکوں کے تعاون کا  اطمینان بخش عمل ماضی سے زیادہ سرعت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔ آپ نے ایران اور شام کے سیاسی تعلقات کو بہترین تعلقات سے تعبیر کیا اور اقتصادی و فنی شعبے میں دونوں ملکوں کے بڑھتے ہوئے تعاون کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اس تعاون میں مزید فروغ کی اب بھی گنجائش ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ علاقے میں کہیں بھی ایسے دو ممالک نہیں پا‏ئے جاتے جن کے درمیان (شام اور ایران کی مانند) تیس سالہ مستحکم تعلقات ہوں، چنانچہ اس تجربے سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے امریکا کو علاقے میں مزاحمت کے مرکزی نقطے کا اصلی مخالف قرار دیا اور مزاحمت کے اس محور کو ختم کر دینے کی امریکی حکام کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کوششیں ماضی کی طرح بے نتیجہ ہی رہیں گی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے دوست ممالک کے درمیان علاقائی تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تمام عراقی جماعتیں ماضی کی طرح عوامی حمایت پر بھروسہ کرتے ہوئے باہمی تعاون اور ہمدلی کے ساتھ عراق کی تعمیر و ترقی، عوامی مشکلات کے خاتمے اور قابض افواج کے نکال باہر کرنے کے لئے موثر قدم اٹھائیں گی۔اس ملاقات میں شام کے صدر بشار اسد نے بھی ایران اور شام کے تعلقات کو مثالی قرار دیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور شام ایک ہی محاذ میں کھڑے ہوئے ہیں اور دونوں کے اہداف مشترکہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تمام شعبوں میں دونوں ملکوں کا تعاون جاری رہے گا جس کے نتیجے میں ہم دن بدن نئی نئی کامیابیاں حاصل کرتے رہیں گے۔اس ملاقات میں صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد بھی موجود تھے۔

...........

/110