2 ستمبر 2010 - 19:30

ممتاز مذہبی اسکالر اور سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد فاروق قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئے جبکہ واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر حملہ آوروں نے ان کے ملازم کو بھی مار ڈالا۔ جبکہ واقعے کے خلاف سوات کے تاجروں نے شٹر ڈاوٴن ہڑتال کی اور احتجاجی مظاہرہ اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو مردان میں اپنے کلینک میں موجود تھے کہ اس دوران 2 نامعلوم ملزمان عمارت کی دوسری منزل میں واقع ان کے کلینک میں گھس گئے جن میں سے ایک نے گن پوائنٹ پر عملے کو یرغمال بنایا اور دوسرے نے کمرے میں داخل ہو کر ڈاکٹر فاروق پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اس دوران ان کے ملازم سلیم نے مزاحمت کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے انہیں بھی قتل کر ڈالا۔ قتل کی واردات کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ یہاں پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت کی جانب سے یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو خصوصی سیکورٹی فراہم کرنے کے احکامات کے باوجود سوات یونیورسٹی کے شہید وائس چانسلر ڈاکٹر محمد فاروق کو مناسب سیکورٹی فراہمی نہیں کی گئی تھی۔ ادھر ڈاکٹر فاروق خان کے بہیمانہ قتل کے خلاف نیو اڈہ کے تاجروں نے شٹرڈاؤن ہڑتال کی اور احتجاجی مظاہرہ کیا اور پاکستان چوک تک مارچ کیا، مظاہرین نے ڈاکٹر فاروق خان کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ملزمان کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔ دریں اثناء سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد فاروق کی نماز جنازہ شیخ ملتون ٹاؤن میں ادا کی گئی جس میں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ دوسری جانب صدارتی ترجمان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے ملک کے معروف مذہبی اسکالر اور سوات اسلامی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فاروق خان کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ اس قسم کے واقعات دہشتگردی اور انتہا پسندی کیخلاف حکومتی عزم کو کمزور نہیں کرسکتے، ڈاکٹر فاروق خان کا قتل ایک ظلم اور وحشیانہ پن ہے حکومت ہر صورت دہشتگردی کی لع نت کا خاتمہ کریگی۔

.........

/110

نام نہاد طالبان علم کے دشمن ہیں؛ نہیں؟ خود ہی دیکھ لیجئے:

- مہمند اور باجوڑ ایجنسی میں دو اسکول دھماکے سے تباہ