20 ستمبر 2010 - 19:30

فائرنگ گزشتہ روز ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہونیو الے تنویر عباس کی نماز جنازہ سے واپس آنے والے افراد پر کی گئی جس سے دو افراد شہید اور دو زخمی ہوئے/ جوابی فائرنگ میں دو افراد ہلاک ہوئے، ترجمان رینجرز کا دعوی

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں کراچی کے علاقے لیاقت آبادمیں رینجرز کی فائرنگ سے دو شہید ور دو زخمی ہوگئے ہیں۔فائرنگ گزشتہ روز ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہونے و الے تنویر عباس کی نماز جنازہ سے واپس آنے والے افراد پر کی گئی جس سے دو افراد شہید اور دو زخمی ہوئے۔فائرنگ لیاقت آباد ڈاکخانہ کے قریب کی گئی اور شہیدوں اور زخمیوں کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔فائرنگ کے بعدعلاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی شروع کردی، جس کے بعد علاقے میں ٹریفک جام ہوگیا اور شہر کے مختلف علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی۔اطلاعات کے مطابق گلبہار کے علاقے رضویہ سوسائٹی میں مشتعل افراد نے تین بسوں، متعدد پتھاروں کو نذرآتش کردیا، جبکہ ملیر، الفلاح اور جعفر طیار میں دکانیں بند ہوگئیں۔ادھر جرم کی مرتکب سندھ رینجرز کے ترجمان کا دعوی ہے کہ لیاقت آباد ڈاکخانے کے قریب فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں!!۔ترجمان نے دعوی کیا کہ بعض نامعلوم افراد نے رینجرز پر فائرنگ کی تھی تاہم جوابی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔واضح رہے کہ کراچی میں گذشتہ شب سے جاری کشیدگی کے نتیجے میں اب تک 14افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔جنازے کے شرکاء پر رینجرز کی فائرنگ انتہائی قابل مذمت ہے، علامہ ناصر عباس جعفریاسلام ٹائمز:مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایک طرف دہشت گرد ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں،تو دوسری طرف حکومتی فوسز بھی دہشت گردوں کی طرح بے گناہوں کو قتل کر رہی ہے  اسلام آباد:اسلام ٹائمز-مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی جنرل سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے شہید تنویر عباس کے تشیع جنازے میں شرکت کے بعد واپس آنے والے افراد پر رینجرز کی جانب سے براہ راست فائرنگ اور دو افراد کی شہادت  کو انتہائی قابل مذمت عمل قرار دیا ہے۔راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ کراچی میں سوگواروں کے قتل اصلی مجرم وزیر داخلہ رحمان ملک اور ڈی جی رینجر ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ اور ڈی رینجر کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے،انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف دہشت گرد ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں تو دوسری طرف حکومتی فوسز بھی دہشت گردوں کی طرح بے گناہوں کو قتل کر رہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کو گرفتار کیا جائے اور انہیں فوری سزا دی جائے۔ کراچی میں رینجرز کی ڈائریکٹ فائرنگ،جنازے میں شریک دو افراد شہید کراچی:کراچی میں گذشتہ روز دہشتگردوں کی ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہونے والے جوان تنویر عباس کے جنازے میں شرکت کے بعد واپسی پر رینجرز نے جنازے کے شرکاء پر ڈائریکٹ فائرنگ کی اور دو مزید جوان شہید کر دیے اور یوں شہید کے جنازے میں شریک ہونے والے بھی شہید ہو گئے،البتہ پاکستان میں اہل تشیع کے یہ پہلے شہید نہیں جو شہید کے جنازے میں شرکت کے جرم میں شہید کر دیئے گئے ہوں،اسی لاوارث شہر کراچی میں بارہا اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں،اور ڈی آئی خان، پاراچنار میں تو پورے کے پورے جنازے کے جلوس کو شہید کر دیا گیا۔ لیکن اس واقعے کا افسوس ناک پہلو امن و امان کی محافظ فورسز کی جانب سے بے گناہ شہریوں کا کھلے ہاتھوں دن دھاڑے قتل عام ہے۔ جو واقعہ آج پیش آیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ طاقتیں چاہتی ہیں کہ اہل تشیع کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو اور وہ کوئی غلطی کر بیٹھیں، لیکن وہ جانتے نہیں کہ اہل تشیع کا پیمانہ صبر بالکل اسی طرح مضبوط اور محکم ہے، جس طرح کہ ان کی استقامت اور بہادری، تم خنجر آزماﺅ ہم جگر آزماتے ہیں، یہ وہ نعرہ ہے، جسے آج اہل تشیع کا بچہ بچہ لگاتا ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے دشمن صرف ہمارے نہیں،بلکہ اس وطن عزیز کے دشمن ہیں جو اس طرح کی اوچھی حرکتوں کے ذریعے ملکی استحکام کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ کل تھانہ رضویہ کی حدود رضویہ سوسائٹی، دہلی مسلم ریسٹورنٹ کے قریب موٹرسائیکل سوار دہشت گردوں کی فائرنگ سے چالیس سالہ تنویر عباس رضوی ولد کاظم حسین رضوی شہید ہوگئے تھے

کراچی کے علاقے رضویہ سوسائٹی کے رہائشی  تنویر عباس کو کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی دہشت گردوں نے اتوار کی شب فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔

شہید تنویر عباس کی نماز جنازہ پیر کے روز بعد نماز ظہرین رضویہ مسجد و امام بارگاہ میں ادا کر دی گئی نماز جنازہ مولانا باقر زیدی کی اقتداء میں ادا کی گئی جبکہ نماز جنازہ میں شہر بھر سے سینکڑوں عزاداران سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے شرکت کی،شہید کے جسد خاکی کو لبیک یاحسین علیہ السلام اور آہوں اور سسکیوں میں سپر ہائی وے پر قائم وادیئ حسین قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

شہید کی نماز جنازہ سے واپس آنے والے غمزدہ افراد رینجرز کی "رینجرگردی" کا شکار ہوئے اور 2 مزید شیعہ محبین وطن نے جام شہادت نوش کیا جن میتیں عباسی اسپتال پہنچائی گئی ہیں۔

تفصیل: کراچی کے علاقے  لیاقت آباد میں ڈاکخانہ کے قریب تنویر عباس کے جلوس جنازہ سے واپس آتے ہوئے شرکائے جنازہ پر رینجرز کے دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے دو نوجوانوں کو شہید کردیا کراچی میں گذشتہ شب سہید ہونے والے چالیس سالہ تنویر عباس کی نماز جنازہ میں شریک سینکڑوں شرکاء شہید تنویر عباس کی تدفین کے بعد جلوس کی صورت میں واپس روانہ ہوئے تھے کہ  لیاقت آباد کے مقام پر متعصب رینجرز کے دہشت گردوں کی دہشت گردانہ کاروائی کے نتیجہ میں دو شیعہ نوجوان شہید جبکہ کئی نوجوان شدید زخمی ہو گئے ہیں۔تازہ اطلاعات کے مطابق شہداء کو گولیوں کی بوچھاڑ کر کے بہیمانہ انداز میں شہید کیا گیا جبکہ دوسری جانب زخمیوں کی حالت بھی تشویش ناک بتائی جا رہی ہے تاہم زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لئے مقامی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110