19 ستمبر 2010 - 19:30

کام سب نلیک واٹر کا ہوتا ہے تحریک طالبان کا کام صرف ذمہ داری قبول کرنا ہے۔

وین میڈسن نے بتایا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان امریکا کے محکمہ خارجہ کی ہی دہشت گرد تنظیم ہے۔جس کے رہنما حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمان کو مغرب کے خلاف نام نہاد عالمی جہاد کیلئے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی جگہ مقرر کیا گیا امریکا کے محقق صحافی وین میڈسن نے انکشاف کیا ہے کہ بلیک واٹر پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہے۔تحریک طالبان پاکستان امریکا کی مقرر کردہ دہشت گرد تنظیم ہے۔وین میڈسن نے اسپیشل رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان امریکا کے محکمہ خارجہ کی ہی دہشت گرد تنظیم ہے۔جس کے رہنما حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمان کو مغرب کے خلاف نام نہاد عالمی جہاد کیلئے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی جگہ مقرر کیا گیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے،بلیک واٹر کراچی،پشاور،اسلام آباد اور دیگر شہروں میں سی آئی اے کے احکامات پر دہشت گرد کارروائیاں انجام دے رہی ہے۔جس کا الزام تحریک طالبان پاکستان پر لگا دیا جاتا ہے۔کوئٹہ میں دہشت گردی کی بیشتر کارروائیوں میں بھی بلیک واٹر ملوث ہے۔اسی طرح امریکا کے شہر نیویارک میں ٹائم اسکوائر دہشت گردی کی سازش میں بھی تحریک طالبان پاکستان کا نام لیا گیا۔تحریک طالبان پاکستان کا کام محض الزامات اپنے سر لینا ہے۔ وین میڈسن کے مطابق پرویز مشرف کے دور میں بلیک واٹر کو پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کی منظوری دی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس انکشاف پر تحقیقی ٹیم کو ایف بی آئی اور سی آئی اے کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کا سامنا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

طالبان و بلیک واٹرکا گہرا گٹھ جوڑ 
امریکی محقق اورصحافی وائین میڈسن کے انکشافات:
پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیاں اور بم دھماکے پرائیویٹ امریکی سیکورٹی کمپنی بلیک واٹر کرارہی ہے جس نے اب اپنا نام بدل کر "ژی سروسز" رکھ لیا ہے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان اس کمپنی کا پورا ساتھ دے رہی ہے اوراس کے افراد ہی خودکش بم دھماکے کرتے ہيں۔
بلیک واٹر ہی پاکستان میں اسلحہ اورگولہ بارود اسمگل کرتی ہے اور اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت تمام بڑے شہروں میں دہشت گردانہ کاروائياں بلیک واٹر کمپنی کے ہی اشارے پرانجام پارہی ہيں۔
جمعۃ الوداع کو کوئٹہ میں عالمی یوم قدس کی ریلی اور اسی طرح پچھلے سال کراچی میں عاشورا محرم کے جلوس میں ہونے والا حملہ بھی بلیک واٹر نے ہی کرایا تھا جن کی ذمہ داری طالبان اور لشکر جھنگوی نے قبول کی تھی۔
بلیک واٹر کا پسندیدہ عمل عام شہریوں کا قتل عام کرنا ہے۔
بلیک واٹر پاکستان کے بھولے بھالے نوجوانوں کو خودکش حملوں کے لئے تیار کرتا ہے اور اس پورے کام میں بلیک واٹرکی سرپرستی سی آئی اے کرتی ہے۔

مذکورہ امریکی صحافی اپنی پیشہ وارانہ صحافتی سرگرمیوں سے قبل امریکی بحریہ میں بھی کام کرچکا ہے وہ امریکی بحریہ میں قومی سلامتی کے ادارے سے متعلق شعبے میں کمپیوٹر کے ماہرکے طور پر تعینات کیا گیا تھا جس کے ذریعے پاکستان میں بلیک واٹر کے جرائم اور مجرمانہ اقدامات کا انکشاف کئے جانے کے بعد اسے جان سے ماردیئے جانے کی مسلسل دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، کیونکہ بلیک واٹر کو پاکستان افغانستان اور عراق میں دہشت گردانہ کاروائياں انجام دینے کے سلسلے ميں امریکی وزارت دفاع اور خارجہ کا داہنا بازو سمجھا جاتا ہے اسی لئے ان امریکی اداروں کی کوشش ہوتی ہے کہ جس قدر بھی ممکن ہو بلیک واٹر کی سرگرمیوں کو خفیہ رکھا جائے اورجب کبھی بھی اس کی دہشت گردانہ سرگرمیاں فاش ہوتی ہيں تو امریکی وزارت دفاع و خارجہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوجاتی ہیں۔
افغانستان، پاکستان اور عراق میں بلیک واٹر کی دہشت گردانہ کاروائیوں کا پردہ فاش ہونے پرامریکہ کے خلاف ہونے والی تنقید میں اضافہ اس بات کا باعث بنی ہے کہ امریکی وزارت خارجہ مجبور ہوکر بلیک واٹر سے اپنے کسی بھی طرح کے رابطے سے انکار کردے۔
امریکی وزارت خارجہ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس کمپنی نے اب تک 288 مرتبہ اپنے فرائض کی خلاف ورزی کی ہے جس میں غیر قانونی فوجی سرگرمیاں شامل ہيں۔
اس کے علاوہ اس تنظیم نے تشدد کو ہوا دینے اور اسمگلنک جیسے جرائم کا بھی ارتکاب کیا ہے اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلیک واٹر یا (ژی سروسز) نے افغانستان کے لئے غیرقانونی ہتھیاروں کی اسمگلنک جیسے جرم کا بھی ارتکاب کیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ نے ڈرامہ رچاتے ہوئے اس تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے غیرقانونی اقدامات کے تلافی کے طورپر 42 ملین ڈالر تاوان ادا کرے۔
اس میں شک نہيں کہ پاکستان میں جس بڑے اورمنظم پیمانے پر دہشت گردانہ کاروائیاں ہورہی ہيں ان کے پیچھے کئي مقاصد ہيں جن میں پاکستان کے مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنا، ملک میں عام شہریوں کا قتل عام کرکے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانا اور پھر نتیجے میں پاکستان کے ایٹمی گوداموں تک رسائی حاصل کرنا ہے جس کی طرف امریکی صحافی نے بھی اشارہ کیا ہے۔
امریکی صحافی کے اس انکشاف سے اب کچھ سادہ لوح طبیعت کے حامل لوگوں کو بھی یہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ امریکہ نے اسلام کو بدنام کرنے کے لئے طالبان جیسے شدت پسند گروہوں کو کیوں استعمال کیا ہے اور جو لوگ یہ بات کہتے چلے آرہے تھے کہ طالبان اکیلے دم پر پاکستان کے اندر اس وسیع پیمانے پردہشت گردانہ کاروائیاں انجام نہیں دے سکتے ان کا شک ، گمان و یقین بالکل درست تھا کہ طالبان اور امریکہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
دریں اثناء امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی بلیک واٹرکے مجرمانہ اقدامات کا راز فاش کرتے ہوئے لکھا کہ یہ تنظیم سوڈان میں حکومت کے باغیوں کی ٹریننگ میں مصروف ہے جس سے اس بات کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ اس بدنام زمانہ امریکی سیکورٹی کمپنی کی سرگرمیوں کا دائرہ دور دور تک پھیلا ہوا ہے ، جو براہ راست امریکی وزارت دفاع اور خارجہ کی زیرنگرانی کام کررہی ہے۔
اس بات کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ جب امریکی کانگریس نے بلیک واٹر کے ساتھ سی آئی اے کے 100ملین ڈالر کے معاہدے پرتنقید کی تو اس کے جواب میں سی آئی اے کا کہنا تھا کہ بلیک واٹر ایک سیکورٹی کمپنی ہے جوپاکستان عراق اورافغانستان میں امریکی توقعات اورمفادات کو پورا کرسکتی ہے۔
دوسری طرف امریکی وزارت خارجہ کی مکاری یہاں پر کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایک طرف تو وہ اس تنظیم پر الزام لگاتی ہے کہ اس نے سیکڑوں مرتبہ اپنے فرائض کی خلاف ورزی کی ہے اور تشدد کو ہوا دیا لیکن دوسری جانب وہ افغانستان میں اپنی سرگرمیاں انجام دینے کے لئے بلیک واٹر کے ساتھ ایک سوبیس ملین ڈالر کا معاہدہ بھی کرتی ہے ۔ اگرچہ خود افغانستان کی حکومت نے بلیک واٹر کمپنی کو چارمہینوں کی مہلت دی ہے کہ وہ اس عرصے میں اپنی سرگرمیاں بند کردے ۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں پچھلے کئی برسوں سے فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات ہورہے تھے مگر بلیک واٹرکے پہنچنے کے بعد دہشت گردانہ اقدامات میں پانچ گنا اضافہ ہوگیا ہے ۔
اب سوال یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ اسلام کا نام لے کر اس بدنام زمانہ امریکی سیکورٹی کمپنی کی خدمت کررہے ہيں کیا وہ اسلام کی خدمت کا نعرہ لگانا پھر بھی جاری رکھنا چاہیں گے؟ اور کیا امریکہ کی خدمت اسلام کی خدمت کے زمرے میں آتی ہے؟