1 ستمبر 2010 - 19:30

ملک بھر کی طرح پاکستان کے صوبائی دارالحکومت میں لاہو ر میں بھی یوم شہادت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے موقع پر جلوس عزاء نکالے گئے، تاہم لاہور میں جلوس عزاء پر ناصبی دہشت گردوں نے خودکش حملے کر کے 40عزاداران امام علی (ع) کو شہید اور 200 سے زائد کو زخمی کردیا۔

واضح رہے کہ ناصبی طالبان کے عنوان تلے دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے والے دہشت گرد ٹولوں کی جانب سے ملک بھر ۔ بالخصوص کراچی میں ۔ سانحہ عاشور اور سانحہ اربعین امام حسین علیہ السلام کے بعد سے دہشت گردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں شیعیان حیدر کرار شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔دوسری جانب پولیس اور انتظامیہ ناصبی طالبان دہشتگردوں کو گرفتار کرنے میں تاحال ناکام نظر آرہی ہے جبکہ پنجاب حکومت میں شامل وزراء ناصبی تکفیری دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

...............

8 شہداء کی نماز جنازہ ادا کر دی گئیلاہور میں گزشتہ رات امام علی علیہ السلام کے یوم شہادت کے موقع پر دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہونے والے8 شہداء کی نماز جنازہ مولانا حیدر علی موسوی کی زیرِ اقتداء ناصر باغ لاہور میں ادا کر دی گئی۔ جبکہ بعض شہداء کی نماز جنازہ آج صبح ادا کردی گئی تھی اور کئی شہداء کی میتیں تدفین کے لیے اْنکے آبائی علاقوں میں روانہ کر دی گئی ہیں۔ناصر باغ لاہور میں شہداء کی نماز جنازہ کے موقع پر انتہائی جذباتی اور رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے جبکہ حکومت کی جانب سے سیکورٹی کے نام پر ناصر باغ جانے والے راستوں کو بلاک کئے جانے کے باوجود ہزاروں سوگواران اہلیبیت علیہم السلام جلوس جنازہ میں شریک ہوئے۔ جبکہ نماز جنازہ کے موقع پر نہ ہی کسی سیاسی جماعت کا رہنما اور نہ ہی کوئی اعلٰی حکومتی عہدیدار موجود تھا۔تشئیع جنازہ میں مجلس وحدت مولانا حسن ظفر نقوی، مولانا امین شہیدی، مولانا ابوزر مہدی ، مولانا شبیر بخاری اور آئی ایس او کے مرکزی رہنماؤں سمیت مولانا جواد نقوی اور مولانا عبدالخالق اسدی شریک تھے۔ 

..........

/110

بشکریہ از شیعیت نیوز