اطلاعات کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے انکشاف کیا ہے ایران پردباؤ ڈالنے کے لئے آیندہ تین مہینوں میں مشرق وسطی کے دو ملکوں پر امریکہ اور صہیونی ریاست حملہ کرسکتے ہیں۔صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ ہمارے پاس صحیح اور موثق معلومات ہیں کہ امریکہ نے ایران کے خلاف شدید پروپیگنڈا جنگ شروع کرنے کی سازش رچی ہے اور روسی صدر کا بیان دراصل اس جنگ کا اشتہار ہے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ روسی صدر کا یہ بیان کہ ایران ایسی ٹیکنالوجی پردسترس حاصل کرنے والا ہے جو ایٹم بم بنانےمیں مفید ثابت ہوتی ہے در اصل اس امریکی سازش کا آغاز تھا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ چونکہ امریکہ اور صہیونی ریاست براہ راست ایران کے خلاف جنگ نہیں چھیڑ سکتے لہذا انھوں نے ایران کے دوست ملکوں پرحملہ کرکے ایران پر دباؤ ڈالنے کی سازش رچی ہے۔ صدر احمدی نژاد نے کہا کہ امریکہ اس سازش کے سہارے دو اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس کا پہلا ہدف ایران کو ترقی کے سفر سے روکنا اور دوسرا ہدف جنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صہیونی ریاست کو نجات دینا اور موجودہ بحران سے نکالنا ہے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے امریکی صدر کو نصیحت کی کہ سابق صدر بش کی پالیسیوں پر چلنے سے پرہیز کریں۔ انھوں نے روسی حکام کو بھی انتباہ دیا کہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے واشنگٹن کے ہاتھوں میں کھلونا نہ بنیں۔ صدر احمدی نژاد کے بیان کے تعلق سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ آج کا ایران 1979 کے ایران کی نسبت بہت زیادہ طاقتور اور مضبوط ہے ۔
.........
/110