ایران کےجنوب مشرقی شہرزاہدان کی جامع مسجد میں جمعرات کی رات ہونےوالے دہشت گردانہ بم دھماکے اوربے گناہ شہریوں کوبزدلانہ طریقے سے شہید کرنے کا واقعہ ہرچیزسے پہلے ایران اورایرانی عوام کے مقابلے میں امریکہ اوراس کے اتحادیوں کی عاجزی اوربے بسی کا پتہ دیتا ہے خاص طور پراس لئے گذشتہ سترہ اٹھارہ مہینوں سے امریکہ اوراس کے اتحادیوں نے ایران کے خلاف جو بھی سازشیں تیار کیں وہ سب کے سب ناکام رہيں ۔ زاہدان کے تازہ ترین دہشت گردانہ واقعہ کے بعد امریکہ کی تیار کردہ دہشت گرد تنظیم ـ جس کانام اگرچہ جنداللہ رکھا گیا ہے مگر ایران کے عوام اسے جندالشیطان کہتے ہيں ـ نے اس سفاکانہ واقعہ کی ذمہ داری قبول کی لیکن جب ہم اس واقعہ کے پس پردہ محرکات پرنظرڈالتے ہيں تو بہت سی باتیں نکل کرسامنے آتی ہيں عبدالمالک ريگی گذشتہ مارچ میں ایران کی انٹلیجنس کے اداروں کے چابک دست اورہوشیار جوانوں کے ہاتھوں فضا میں دبوچا گیا جو دوبئی سے قرقیزستان میں مناس امریکی فوجی اڈے میں ایک اعلی امریکی عہدیدار سے ملنے جارہا تھا۔ یہ واقعہ امریکہ کے پیکر پر ایک کاری ضرب تھا۔ عبدالمالک ريگی نے اپنی گرفتاری کے بعد اعتراف کیا کہ امریکہ ہی اس کی ہرطرح کی مالی اسلحہ جاتی اورتربیتی مدد کررہا ہے دوسری طرف عبدالمالک ریگی کوپھانسی دے دیئے جانے کے بعد جس نے اسیّ کے قریب ہولناک دہشت گردانہ اقدامات انجام دے کر دسیوں ایرانی شہریوں کوجن میں شیعہ وسنی سبھی شامل ہیں شہید کیا تھا ایران کے جنوب مشرق علاقے میں نسبتا امن کاماحول حکمفرما ہوگیا تھا اورصوبہ سیستان بلوچستان کے عوام اس کوپھانسی دئے جانے کے بعد راحت کا سانس لینے کے ساتھ بہت خوش بھی تھے لیکن ريگي کی پھانسی کے بعد ہرچند اس گروہ کا شیرازہ بکھر چکا ہے لیکن ابھی بھی اس دم توڑتے دہشت گرد گروہ کو امریکہ نے دوبارہ زندہ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے ۔امریکہ کوآج ایرانی عوام کی جو بات سب سے زیادہ کھٹک رہی ہے وہ ان کی صفوں میں مضبوط ومستحکم اتحاد ہے امریکہ اوراس کے حواری ایران کے اندر عوام کے درمیان پائے جانےوالے اتحاد ویکجہتی سے ہر محاذ پر طمانچے کھا رہے ہيں ۔گذشتہ ایک سال سے اورخاص طورپرایران کے دسویں صدارتی انتخابات کے بعد امریکہ نے اس کوشش میں اپنا سب کچھ داؤں پرلگادیا کہ ایرانی عوام میں اختلاف پیدا کرے مگرایران کے عوام نے اپنی ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنی صفوں میں کسی طرح کا شگاف پیدا نہيں ہونے دیا بلکہ ان کا اتحاد پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ومستحکم ہوگیا ۔ اوراس عرصے ميں مختلف میدانوں میں ایرانی عوام نے امریکہ کے منہ پرزوردار طمانچے رسید کئے ہيں ۔ اورخودمختلف محاذوں پرایران سے شکست کھاتا رہا ہے جن میں سے ایک ایران کے سائنسداں شہرام امیری کا امریکی سی آئي اے کے ہاتھوں اغواء اوراس کا رازفاش ہوجانے کے بعد شہرام امیری کی چودہ مہینوں بعد ایران واپسی کا واقعہ بھی اہم ہے امریکیوں نے اس طرح کے دہشت گردانہ اقدامات کی منصوبہ بندی کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ابھی بھی دہشت گردوں کےہاتھوں ایران کے اندر دہشت گردانہ کاروائیوں کی انجام دہی کی اسٹرٹیجی اپنائے ہوئے ہيں اس کامطلب یہ ہے کہ امریکی حکام ایران کے عوام سے براہ راست انتقام لینا چاہتے ہيں وہ بھی خودکش دہشت گردانہ کاروائیوں کے ذریعہ ۔ اگرچہ آج امریکیوں کو اس بات کا اچھی طرح علم ہوگیا ہے کہ ایران کے اسلامی جمہوری نظام کی اصل طاقت ایران کے عوام ہيں اوراسی لئے وہ ایران کے عوام براہ راست دہشت گردی کا نشانہ بنارہے ہيں لیکن ایسالگتا ہے کہ امریکی حکام یہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کررہے ہيں کہ ان کے اس طرح کے دہشت گردانہ بزدلانہ اور رذیلانہ اقدامات سے حکومت اوراسلامی نظام کی حمایت میں ایران کے عوام کے عزم و ارادے اورزیادہ مستحکم ہوجائيں گے ۔ جب ہم گذشتہ اکتیس برسوں کی تاریخ پر نظرڈالتے ہيں تو یہی ملتا ہے کہ جب بھی امریکہ اورسامراجی طاقتوں نے دہشت گردانہ اقدامات کے ذریعہ ایرانی عوام کوگھٹنے ٹیکنے پرمجبور کرنے کی کوشش کی ہے اسلامی نظام اورانقلاب کے مشن کوآگے بڑھانے کے سلسلےمیں ملت ایران کا ایمان ویقین کئي گنہ زیادہ پختہ ومستحکم ہوا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110