اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ڈریسڈن شہر کی عدالت کے سربراہ جیرڈ آلفر کو عمر قید کی سزا سنانے کے بعد کہا ہے کہ یہ سزا قطعی ہے اور آلیکس وارنر کی نظر ثانی کی اپیل مسترد ہوگئی ہے. دوسری طرف سے نسل پرست جرمن دہشت گرد وارنر کے وکیل نے کہا ہے کہ کورٹ آف اپیل کے حکم میں اعتراض مسترد ہونے کے بعد اب [نام نہاد] یورپی انسانی حقوق کمیٹی سے رجوع کیا جائے گا. ادھر جرمن اسلامک سینٹر کے سابق سربراہ صلاح جعفراوی نے جرمن عدالت کے حکم کو منصفانہ قرار دیا اور کہا کہ آلیکس وارنر کا جرم نسل پرستی پر مبنی تھا اور اس کے بارے میں عدالتی کاروائی میں تمام قانونی مراحل طے کئے گئے ہیں اور حکم بالکل درست اور منصفانہ ہے. شہیدہ حجاب مروہ الشربینی کے بھائی نے بھی اپنی بہن کے قاتل کے لئے عدالت کی طرف سے عمر قید کی سزا سنائے جانے پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا: ہمیں اس شخص کے لئے اس سے بھی زیادہ سخت سزا سنائے جانے کی توقع تھی. جرمن نسل پرست دہشت گرد آلیکس وارنر نے گذشتہ سال گرمیوں میں عدالت کے احاطے میں ہی شہیدہ حجاب مروہ الشربینی کو چاقو کے اٹھارہ وار کرکے شہید کردیا تھا جبکہ شہیدہ کا شوہر اور تین سالہ بچہ بھی عدالت میں موجود تھے اور جب شہیدہ کے شوہر نے رد عمل دکهانے کی کوشش کی تو قاتل کے اقدام پر خاموش تماشائی بنے پولیس اہلکاروں نے اس کو فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا تھا۔مغرب میں انسانی حقوق کے جهوٹے دعویداروں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی اس ہولناک واردات کے سامنے خاموشی اختیار کی اور ان کا یہ عمل مسلمانوں کی نفرت و انزجار کا سبب بنا گو کہ مغرب کی مکمل خاموشی نے انسانی حقوق کے دفاع کے حوالے سے مغربی طاقتوں کے جهوٹے چہرے کو بے نقاب کردیا۔ ........../110







