17 اگست 2010 - 19:30

انسانی حقوق کی ترک تنظیم کے آئندہ ماہ امدادی سامان پر مشتمل قافلہ غزہ لیجانے کے اعلان کے بعد امریکی قانون سازوں نے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ اگر انقرہ نے اسرائیل کے خلاف معاندانہ رویہ برقرار رکھا تو اس سے واشنگٹن اور ترکی کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

امریکن ڈیموکریٹس نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران نیٹو اتحاد میں شامل ترکی کی جانب غزہ امدادی سامان لیجانے والے قافلے کی حمایت پر انقرہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی ارکان گانگریس نے ترکی کی ایران نواز پالیسی کی بھی مذمت کی ہے۔دوسری جانب ترک وزارت خارجہ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ غزہ امدادی سامان لیجانے والے فریڈم فلوٹیلا پر حملے کے مضمرات کا جائزہ لینے کے لئے ترک وزارتی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔ محصورین غزہ کے لئے امداد لیجانے والے سفینہ حریت پر صہیونی فوج کے کمانڈوز کے حملے میں نو ترک رضاکار شہید ہو گئے تھے۔

 ترک وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت انصاف، خارجہ امور اور میری ٹائم پر مشتمل کمیٹی ترک حکومت کے مطالبے پر قائم کی گئی ہے۔بیان کے مطابق یہ کمیٹی مقامی اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں فریڈم فلوٹیلا پر حملے کے قانونی مضمرات کا جائزہ لے گی۔ مزید تفصیلات بتائے بغیر بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کمیٹی اپنی سفارشات کی روشنی میں متوقع بین الاقوامی تفتیش کے لئے ضروری لوازمہ بھی تیار کرے گی۔اکتیس مئی کو سفیہ حریت پر اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل کو سخت نتائج کی دھکمی دی تھی اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس سلسلے میں بین الاقوامی نگرانی میں تحقیق کرائے۔ اسرائیل نے غیر ملکی مبصرین کی نگرانی میں فلوٹیلا پرحملے کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا تھا لیکن ترکی نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔فریڈم فلوٹیلا پر حملے میں ترکی اور اسرائیل جیسے دو اہم اسٹرٹیجیک حلیفوں کے تعلقات کو خاطر خواہ نقصان پہنچا ہے، اس کا مظہر تل ابیب سے ترک سفیر کی واپسی ہے۔

1

.............

/110