17 اگست 2010 - 19:30

حزب اللہ کے سیکریتری جنرل نے آزادی بیرے پر صہیونی حملے میں شہید ہونے ترک باشندوں کے پسماندگان کو تعزیت اور کاروان آزادی کے زندہ بچنے والے افراد کو خراج تحسین پیش کراے ہوئے لبنان، فلسطین کے عوام اور عرب قوم سے آزادی کاروان میں شامل افراد کی تکریم کی محافل میں شرکت کریں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین سید حسن نصراللہ نے روز جمعہ، رہبر انقلاب اور اسلامی جمہوری نظام کے بانی حضرت امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے انتقال کی اکیسویں برسی کے موقع پر ضاحیہ بیروت میں حسینیہ سیدالشہداء (ع) میں منعقدہ اجتماعی سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا: امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کا قیام اسلامی امت کے لئے بہت سے فوائد کا پیش خیمہ ثابت ہوا اور ان آثار و فوائد میں سے ایک یہ تھا کہ آپ کے انقلاب نے اسلامی اور عربی اقوام میں ظلم و جبر کے خلاف انقلاب و قیام کا جذبہ زندہ کیا۔ دنیا کے بہت سے حریت پسند انسانوں نے طاغوتوں، گھٹن بھرے فضاؤں اور معاشرتی ترقی کے سامنے موجودہ رکاوٹوں اور مصائب و مسائل کا مقابلہ کرنے کے لئے امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے انقلاب سے سبق لیا۔ انھوں نے کہا: امام خمینی رحمۃاللہ علیہ نے اپنے انقلاب اور قیام کے ذریعے ـ آرام طلبی اور شہوت پرستانہ حیوانی جذبوں سے مغلوب ہوکر سو جانے والی روح کو عزت و عظمت، بیداری و فتانت اور انصاف پسندی کے معارف و تعلیمات سے روشناس کرایا۔ سید حسن نصراللہ نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا: مجھے برجستہ طور پر بولنے دیں کہ امام خمینی رحمۃاللہ علیہ نے پوری انسانیت میں قیام، معنویت اور اللہ تعالی سے اتصال کا جذبہ بیدار کردیا... امام خمینی رحمۃاللہ علیہ اپنے انقلاب کو کامیاب کرنے کے لئے اپنی جدوجہد کے وقت صرف مسلمانوں ہی پر اپنی فکر مرکوز نہیں کی بلکہ دنیا کے مستضعفین اور محرومین آپ کے مد نظر تھے اور آپ نے ارادہ کررکھا تھا کہ کسی بھی شکل میں ظاہر ہونے والے کسی بھی قوم پر ظلم کرنے والے طاغوت کو نیست و نابود کرنے کا عزم لے کر اٹھے تھے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا: امام خمینی رحمۃاللہ علیہ صرف قرآن و سنت کا ہی سہارا نہیں لیا تھا بلکہ انسانی عقل کو بھی ہمیشہ اہم سمجھتے تھے اور ان کی تمام باتیں ہمیشہ انسانی عقل کے عین مطابق ہوا کرتی تھیں۔جناب سید حسن نصراللہ جو صہیونیت کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، نے حال ہی میں آزادی بیڑے پر صہیونیوں کے وحشیانہ حملے اور کئی ترک باشندوں کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج دنیا سمجھ گئی ہے کہ مسئلہ فلسطین صرف عربوں یا مسلمانوں تک ہی محدود نہیں ہوتا بلکہ آج دنیا والے اس کو ایک انسانی مسئلہ سمجھتے ہیں کیونکہ غزہ میں نہتے اور بے گناہ انسانوں کی اچھی خاصی آبادی نسل پرست صہیونی ریاست کے ہاتھوں میں پھنسی ہوئی ہیں اور انہیں اشیاء خورد و نوش، ادویات اور زندگی کی بنیادی ضروریات کے سلسلے میں تین سالہ ناکہ بندی کا سامنا ہے۔ اسی بنا پر ہم نے دیکھا کہ آزادی بیڑے میں عیسائیوں سمیت انسانی حقوق کے حامی متعدد افراد مسلمانوں کے ساتھ ملکر قابض و غاصب صہیونی ریاست کے ہاتھوں سے غزہ کی آزادی کے مشن میں شریک ہوگئے تھے۔ انھوں نے کہا: صہیونی ریاست جان لے کہ اس وحشیانہ اقدام کے نتیجے میں اسے نہایت کاری ضرب برداشت کرنی پڑے گی اور عالمی برادری کو بھی غاصب صہیونیوں کے خلاف زیادہ سخت موقف اپنانا چاہئے۔.......

/110