17 اگست 2010 - 19:30

غزہ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں صہیونی ریاست کے حالیہ جرم کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان وحشیانہ جرائم پر پوری مسلم امہ کی طرف سے اسلامی غیرت کے مظاہرے کی اپیل کی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بزرگ مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپائگانی نے صوبھ قم میں امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی برسی کمیٹی کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے اقدام کی مذمت کی اور کہا: اس انسانیت سوز جرم نے صہیونی ریاست کی خباثت اور درندگی طشت از بام کر رکھی ہے۔انھوں نے کہا: صہیونی ریاست ہر روز نت نئے جرائم کا ارتکاب کرکے اپنی سنگدلی اور درندگی کا ثبوت دے رہی ہے اور جو قوتیں عالمی سطح پر اس ریاست کی حمایت کرتی ہیں اور دنیا والوں کو اسے سبق سکھانے نہیں دیتیں خود بھی صہیونی ریاست کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں؛ صہیونیوں کے جرائم اتنے ہیں کہ انہیں لکھتے لکھتے کئی تدوین کی جاسکتی ہیں؛ یہ ریاست گذشتہ عشروں سے مسلسل جرم و ظلم کا سلسلہ جارری رکھی ہوئی ہے اور یہ اس کا ابتدائی منصوبھ تھا جس پر عملدرآمد آج بھی جاری ہے۔ انھوں نے کہا: خوش قسمتی سے مسلم اقوام نے مختلف تحریکوں کے ذریعے ان جرائم کی مذمت کی ہے لیکن بعض اسلامی ممالک کے حکمران بکے ہوئے اور نوکر ہیں جنہوں نے اس مسئلے میں کوتاہی کی ہے اور اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکے ہیں اور ان کی اس ناکامی کا سبب یہ ہے کہ وہ اجنبی قوتوں سے وابستہ ہیں۔ آیت اللہ العظمی صافی گلپائگانی نے کہا: اگر دنیا کے مسلمان متحد ہوجائیں تو فلسطین کا مسئلہ بآسانی حل ہوجائے گا۔ لیکن بعض لوگ صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفا کررہے ہیں اور یہ امر عالم اسلام کے لئے باعث افسوس ہے۔ انھوں نے اسلامی کانفرنس تنظیم کی کارکردگی کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا اور کہا: آج اسلامی کانفرنس تنظیم کا کوئی وجود ہی نہیں ہے کیونکہ یہ تنظیم دنیا کے مظلوموں کی حمایت کا حق ادا کرنے میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ انھوں نے غزہ اور فلسطین کی صورت حال اور حالیہ اسرائیل جرم پر عرب لیگ کی مجرمانہ خاموشی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: باعث افسوس ہے کہ ان میں سے بھی بعض گروہ اجنبیوں کے ہاتھوں بک چکے ہیں جبکہ ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانان عالم کا دفاع اور تحفظ کریں اور اپنے وجود کو ثابت کرکے دکھائیں۔انھوں نے مسلمانان عالم سے مخاطب ہوکر کہا: اپنی اسلامی غیرت کی بنیاد پر اٹھ کر کھڑے ہوجائیں اور جان لیں کہ "الاسلام یعلو و لا یعلی علیہ" (اسلام غالب ہے اور کوئی چیز اس پر غلبھ نہیں پائے گی) اور اسلامی ممالک کے سربراہان بھی سمجھ لیں کہ "وہ کن لوگوں سے دوستی کررہے ہیں؟"۔انھوں نے کہا: ہم اس جرم و ظلم کی مذمت کرتے ہیں اور اس عظیم مصیبت پر حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالی فَرَجَہ الشریف کی بارگاہ میں تعزیت پیش کرتے ہیں کیونکہ حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ ـ سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ـ مسلمانوں کی کمزوری سے متأثر ہوجاتے ہیں۔ انھوں نے امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی وفات کی برسی کے حوالے سے متعلقہ کمیٹی کے اراکین سے مخاطب ہوکر کہا: آپ کا یہ پروگرام بھی درحقیقت مظلوموں کی حمایت کے زمرے میں آتا ہے اور اگر امام خمینی رحمۃاللہ علیہ آج حیات ہوتے تو وہ بھی یہی موقف اپناتے اور آپ کے تمام کاموں کا مقصد بھی امام خمینی رحمۃاللہ علیہ اور انقلاب اسلامی کے اہداف کا حصول ہونا چاہئے؛ امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی برسی منانے کے سلسلے میں آپ حضرات کا تعاون بہت ہی قابل قدر ہے اور قم کے عوام سے بھی توقع ہے کہ اس سلسلے میں دوسروں پر سبقت لیں؛ کیونکہ انقلاب اسلامی قم سے اور قم کے مراجع تقلید کی حمایت سے شروع ہوا اور اس انقلاب نے دنیا پر گہرے نقوش چھوڑ دیئے اور قم کے عوام کو یہ اعزاز ہمیشہ کے لئے اپنے اور شیعیان عالمی کے لئے محفوظ کرلینا چاہئے۔ شیعیان عالم کے اس مرجع تقلید نے کہا: سب جان لیں کہ انقلاب اسلامی اس ملک میں کامیاب ہوا تا کہ اسلام اور اسلام کی حاکمیت عملی جامہ پہن سکے اور مردوں اور خواتین کا اختلاط جاری نہ رہے اور معاشرے سے برائیوں کی بیخ کنی ہو اور آج بھی ہمیں امام خمینی رحمۃاللہ علیہ اور انقلاب کے مقررہ راستے پر ہے گامزن رہنا چاہئے۔انھوں نے کہا: میں پوری طرح امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے افکار اور نظریات سے واقف ہوں اور انقلاب اسلامی سے ان کا ہدف اس ملک میں اسلام کی حاکمیت کا قیام تھا اور آج بھی ان ہی اہداف کے حصول کے لئے کوشش جاری رہنی چاہئے۔ انھوں نے کہا: ہمارے تمام اداروں کا رنگ و بو اسلامی ہونا چاہئے اور سب کو اسلامی اصولوں کی ترویج میں کردار ادا کرنا چاہئے اور جہاں بھی یہ رویہ نہ ہو؛ جان لیں کہ وہاں امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے ساتھ خیانت ہورہی ہے۔ انھوں نے برسی کمیٹی کے اراکین سے کہا: آپ جو اس مہم کی ذمہ دار ہیں، جان لیں اور دوسروں کو بھی یادآوری کرائیں کہ اس انقلاب کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس انقلاب کی کامیابی کے لئے کثیر تعداد میں نوجوانوں نے خون کا نذرانہ پیش کرکے جام شہادت نوش کیا ہے اور ان کا پورا مقصد دین اسلام اور دین اسلام کا نفاذ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110