17 اگست 2010 - 19:30

آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے آذربائیجان میں ایران کے سفیر کی رائے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: اگر ہمارے اور دوسرے مراجع تقلید کے سوچے سمجھے ااقدامات نہ ہوتے تو عین ممکن تھا کہ آذربائیجان میں مسجد فاطمۃالزہراء (س) کو منہدم کیا جاتا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی کے بعض مقلدین نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا باکو میں مقیم اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر کی یہ بات درست ہے کہ "مراجع تقلید کو غلط معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور انھوں نے قم کے دورے میں مراجع تقلید سے ملاقات کی ہے اور انہیں صحیح معلومات فراہم کی ہیں اور دوسرے مسائل پر بھی بحث ہوئی ہے؟"آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: یہ بات حقیقت کے برعکس ہے اور آذربائیجان میں مسجد فاطمۃآلزہراء سلام اللہ علیہا کے بارے میں ہمیں غلط معلوم فراہم نہیں کی گئیں۔ انھوں نے کہا: ہمیں مذکورہ مسجد کو منہدم کرنے کے آذربائیجانی حکومت کے منصوبے کے بارے میں بالکل صحیح معلومات موصول ہوتے رہے ہیں اور ان ہی معلومات کی بنا پر اگر ہم اور بعض دوسرے مراجع تقلید سوچے سمجھے اقدامات عمل میں نہ لاتے تو ممکن تھا کہ آذری حکمران اس مسجد کو شہید کردیتے۔انھوں نے کہا: شاید جناب سفیر نے ان خیالات کا اظہار کرکے اپنی کمزوری چھپانے کی کوشش کی ہے۔ ......................................./110

متعلقہ لنک:

- آذری صدر نے مسجد فاطمۃآلزہراء (س) کے انہدام کا منصوبہ منسوخ کردیا ہے