اہلِ بیت(ع) انٹرنیشنل نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ کو وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی بھاری شکست کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دوران جے ڈی وینس اور ٹرمپ کے بڑے بیٹے سمیت کئی شخصیات بھی جنگ کے ناقدین میں شامل ہو چکی ہیں، لیکن ٹرمپ اب بھی اس احمقانہ جنگ میں ملوث ہونے کی اپنی غلطی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ بظاہر ان کے لیے اتنی سنگین غلطی کا اعتراف کرنا انتہائی دشوار ہے۔
اسی تناظر میں امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نے انکشاف کیا تھا کہ ریپبلکنز کی انتخابی شکست کے بعد ٹرمپ نے خفیہ طور پر اپنے مشیروں سے پیٹ ہیگست کے وزارتِ جنگ میں برقرار رہنے کے بارے میں رائے طلب کی تھی۔ وائٹ ہاؤس کے بعض عہدیداروں نے بھی ان کی برطرفی کا امکان ظاہر کیا تھا، تاہم ٹرمپ نے صحافیوں کے سامنے ان خبروں کی تصدیق نہیں کی۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا وزیرِ جنگ پیٹ ہیگست کو عہدے سے ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ جب ان سے ہیگست کی جگہ کسی اور کو لانے کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا:
نہیں، میرے خیال میں وہ اپنا کام بہت اچھے طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بظاہر ٹرمپ پیٹ ہیگست کو برطرف کرکے تمام تر ذمہ داری ان کے سر نہیں ڈال سکتے، کیونکہ وہ خود تقریباً ہر روز ایران پر حملے کا دفاع کرتے رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ