امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی جانب سے چند پاکستانی حکام پر اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کا علم ہونے کا الزام عائد کئے جانے کے ایک دن بعد امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ پاکستان میں طالبان کے سپریم کمانڈر ملا محمد عمر کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اوباما انتظامیہ نے ان افواہوں کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ آزاد ذرائع اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کرپائے۔ ملا عمر کی گرفتاری کی افواہ پہلی مرتبہ اس وقت سامنے آئی جب امریکی محکمہ داخلی سلامتی (ہوم لینڈ سیکورٹی) کے سابق عہدیدار اور ایک تجزیہ نگار نے افغانستان اور پاکستان میں موجود اپنے ذرائع کے حوالے سے ایک معروف بلاگ Brietbart پر ”اہم ترین انٹیلی جنس ذرائع“ کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ملا عمر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
تجزیہ نگار براڈ تھور نے بلاگ پر لکھا ہے کہ ”مارچ کے اواخر میں AF-Pak ریجن میں ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس کے تحت سرگرم امریکی اہلکاروں نے امریکی ملٹری انٹیلی جنس کو آگاہ کیا کہ پاکستانی حکام نے ملا عمر کو تحویل میں لے لیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ معلومات بالائی سطح تک پہنچائی گئی ہوگی اور وزیر دفاع کو فوراً خبردار کردیا گیا ہوگا“۔ ”
پاکستانی حکام نے جب یہ دھماکا خیز معلومات 10/ روز قبل امریکی حکام کو خاموشی سے دی تو ایسا معلوم ہوا کہ محکمہ دفاع نے حیرانی کا اظہار کیا۔ اگرچہ ہلیری کلنٹن کے علاوہ اور کوئی زیادہ حیران نہیں ہوا۔ اس کی تصدیق پاکستانیوں کے علاوہ اور کسی نے نہیں کی؛ ہلیری کلنٹن نے اس وقت تک جلد بازی نہیں کی جب سی بی ایس کے پروگرام 60 منٹس میں اتوار کو انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کچھ عہدیدار اسامہ بن لادن اور ملا عمر کو پناہ دیئے ہوئے ہیں“۔
................
/152