20 اکتوبر 2026 - 16:58
ٹرمپ کا یوکرین پر دباؤ، روس سے رعایتیں دینے پر مجبور کرنے کے لیے فوجی مدد محدود

امریکی حکومت کی جانب سے یوکرین کو فوجی امداد محدود کیے جانے کے بعد صدر ولودیمیر زیلنسکی پر روس کے ساتھ ممکنہ معاہدے میں رعایتیں دینے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق، یوکرین کے پاس امریکی ساختہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے میزائلوں کے ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں، جبکہ واشنگٹن نے مزید میزائل فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق،الجزیرہ کے حوالے سے ایکسیوس نے یوکرینی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے کیف کی فوجی مدد محدود کر دی ہے تاکہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کو ایسے معاہدے پر آمادہ کیا جا سکے جس میں روس کو رعایتیں دینا شامل ہو۔

یوکرینی حکام کے مطابق، امریکہ کی جانب سے فراہم کیے گئے پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے میزائلوں کے ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں۔ ان حکام نے بتایا کہ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کیف کو مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کی منظوری بھی نہیں دی، حالانکہ نیٹو کے بعض رکن ممالک ان میزائلوں کی قیمت ادا کر چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر کے مشیر اور خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایک بار پھر یوکرین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملے بند کر دے۔

اس کے جواب میں زیلنسکی نے تجویز دی کہ اگر امریکہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل فراہم کرے تو کیف روس کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملے روک سکتا ہے۔ تاہم یوکرینی حکام کے مطابق، وٹکوف اور کشنر نے اس تجویز کو قبول کرنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے یوکرینی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ کم از کم ٹرمپ کے اقتدار میں رہنے تک واشنگٹن یوکرین کی مدد جاری رکھنے سے گریز کر سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب زیلنسکی نے پیر کی شب کہا تھا کہ اگر امریکہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے لیے میزائل فراہم کرنے میں مدد کرے تو یوکرین روس کی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملے روکنے پر غور کر سکتا ہے۔

روس کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکی کوششیں

ایکسیوس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسٹیو وٹکوف منگل کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں زیلنسکی سے ملاقات کریں گے۔

امریکی عہدیدار کے مطابق، اوسلو میں ہونے والی بات چیت کا مقصد ایک ایسی تجویز پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو روس کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اوسلو کے دورے کے بعد وٹکوف روس جائیں گے، جہاں وہ یوکرین اور یورپی ممالک کے ساتھ مشاورت سے تیار کردہ تجاویز روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے سامنے پیش کریں گے۔

امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کا مقصد روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنا اور دیرپا امن کے قیام کے لیے ضروری حالات پیدا کرنا ہے۔

امریکہ، یوکرین اور یورپ کے درمیان امن منصوبے پر مشاورت

ایکسیوس کے مطابق، ایک نامعلوم امریکی عہدیدار نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران واشنگٹن، کیف اور یورپی ممالک کے نمائندوں نے امن تجاویز تیار کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

عہدیدار کے مطابق، ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع امن منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وٹکوف اور کشنر نے اتوار کو زیلنسکی سے گفتگو کی، جس میں منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لینے اور آئندہ اقدامات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق، ان سفارتی کوششوں کا مقصد جنگ ختم کرنے اور روس و یوکرین کے درمیان پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ تاہم، یوکرین کو فوجی امداد کی فراہمی اور روسی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha