اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، حسن عزالدین نے لبنان اور خطے کی تازہ صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا لبنان کے داخلی معاملات میں کھلی اور بے شرمانہ مداخلت کر رہا ہے۔
حسن عزالدین نے کہا کہ مزاحمت نے لبنان کی آزادی کے لیے طویل جدوجہد کی ہے، لیکن ان کے بقول لبنانی حکام امریکی اور اسرائیلی مطالبات کے مطابق عمل کرتے ہوئے مسلسل دشمن کو رعایتیں دے رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حکومت مسلسل لبنانی حکومت کی توہین کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی لبنانی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
حزب اللہ کے رہنما نے کہا کہ اس کے باوجود لبنانی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا راستہ اختیار کیا، جس سے لبنانی عوام کے درمیان اختلافات بڑھے۔ ان کے بقول، حکومت نے بالواسطہ مذاکرات کو مسترد کرکے نہ صرف کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا بلکہ قومی مفادات، اتفاقِ رائے اور اتحاد کو بھی نقصان پہنچایا، حالانکہ کسی بھی محاذ آرائی میں یہی عناصر حکام کی طاقت کا سرچشمہ ہوتے ہیں۔
عزالدین نے مزید کہا کہ قومی خودمختاری کے تحفظ کے دعوے کرنے والوں کی جانب سے لبنان کے امور میں امریکی مداخلت پر مشکوک خاموشی دراصل اس مداخلت کی حمایت کے مترادف ہے۔
حسن عزالدین نے کہا کہ نیتن یاہو کی جانب سے لبنانی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار اس بات کی علامت ہے کہ وہ مزاحمت کے ہتھیاروں کے معاملے میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکا اور مزاحمت اپنی طاقت کے ساتھ برقرار ہے۔
انہوں نے اسرائیلی حکومت اور لبنانی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کے ہتھیار ان جنگجوؤں کے ہیں جو انہیں اٹھاتے ہیں، اور یہ ہتھیار ان کے لیے باعثِ فخر جبکہ لبنان اور اس کے آزاد و باوقار شہریوں کے لیے عزت کا ذریعہ ہیں۔
حزب اللہ کے اس رہنما نے دعویٰ کیا کہ دنیا کی کوئی طاقت زبردستی مزاحمت کے ہتھیار نہیں چھین سکتی۔ ان کے بقول، جو کوئی یہ ہتھیار چھیننے کی کوشش کرے گا، اسے پہلے انہیں اٹھانے والوں کی جانوں سے گزرنا ہوگا، اور ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں امریکا اور اسرائیل بھی یہ مقصد حاصل نہیں کرسکے اور لبنانی حکومت بھی ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
عزالدین نے مزاحمت کے ہتھیاروں کو دفاعی ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام اور سرزمین کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، اس معاملے پر آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وطن کے دفاع کے لیے کسی جامع دفاعی حکمتِ عملی میں ان ہتھیاروں کے استعمال کے طریقے پر بات چیت کی جائے۔
حزب اللہ کے رہنما نے جنوبی لبنان کے دیہات سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کو رہائش فراہم کرنے کے لیے مزاحمت کے ایک منصوبے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں عملی کام شروع ہوچکا ہے اور منصوبے کے ذمہ دار افراد ضروری فارم مکمل کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق، مقررہ طریقۂ کار کے تحت اہل افراد کو مالی امداد کی ادائیگی کا مرحلہ جلد شروع کردیا جائے گا۔
حسن عزالدین نے لبنان کے دورے پر آنے والے ایرانی وفد اور لبنانی پارلیمان کے وفاداری برائے مزاحمت اور ترقی و آزادی کے پارلیمانی بلاکس کے ساتھ اس کی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی وفد نے واضح اور اعتماد کے ساتھ گفتگو کی۔
ان کے مطابق، ایرانی وفد نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کی صورت حال اب بھی امریکا کے لیے بحرانی ہے۔ وفد نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ نئے معاہدے میں لبنان ایران کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔
عزالدین کے مطابق، ایسے کسی معاہدے میں اولین مطالبات مکمل جنگ بندی اور لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ہوں گے۔
حزب اللہ کے رہنما نے کہا کہ ایران اس وقت ایسی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے جس میں مذاکرات بھی جاری رہتے ہیں اور ممکنہ فوجی کارروائی کا جواب دینے کی تیاری بھی برقرار رکھی جاتی ہے۔ ان کے بقول، تہران اس امکان سے آگاہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل دوبارہ کوئی غلط قدم اٹھا کر فوجی حملہ شروع کرسکتے ہیں۔
عزالدین نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام مخالف فریق کے منصوبوں سے بخوبی واقف ہیں اور ہر ممکن صورت حال کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے مطابق، ایران دشمن کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی حملے کا ایسا جواب دے گا جس سے امریکا کو اپنے اقدام پر پچھتاوا ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی حکمتِ عملی کے تحت جو بھی ملک کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا، اسے دردناک جواب کا سامنا کرنا پڑے گا، اور ایرانی عوام اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے بقول، ایران کی ثابت قدمی اور مزاحمت خطے میں طاقت کے توازن کی ایک مثال بن چکی ہے۔
حسن عزالدین نے آخر میں کہا کہ اگرچہ عسکری سازوسامان اور فوجی طاقت کے لحاظ سے امریکا، ایران سے زیادہ طاقتور ہے، تاہم ان کے دعوے کے مطابق، بازدارندگی اور طاقت کے توازن کے میدان میں ایران کو برتری حاصل ہے۔
آپ کا تبصرہ