اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اقوام متحدہ کے ادارۂ اطفال (یونیسف) کے ترجمان نے بتایا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تقریباً 60 ہزار بچے اپنے والدین میں سے ایک یا دونوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار جنگ کے دوران غزہ کے بچوں کو درپیش انسانی المیے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
بچوں کی یہ صورت حال ایسے وقت میں برقرار ہے جب غزہ میں لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے، زندگی گزارنے کے حالات بدتر ہو رہے ہیں اور بنیادی سہولتوں تک رسائی محدود ہے۔
یونیسف کے ترجمان ریکارڈو پیریز نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کی ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد سے اب تک 340 سے زائد بچے شہید ہو چکے ہیں، جبکہ سیکڑوں دیگر بچے زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق، جنگ بندی کے باوجود بچوں کو لاحق خطرات بدستور برقرار ہیں۔
پیریز نے وضاحت کی کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کئی لڑکے اور دو لڑکیاں شہید ہوئے، جبکہ کم از کم 33 دیگر بچے شدید زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ دو مزید بچے بھی اپنے سابقہ زخموں کی وجہ سے دم توڑ گئے۔
یونیسف کے ترجمان کے مطابق، غزہ میں تقریباً 8 لاکھ بچے اب بھی بے گھر ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر خیموں یا ایسی عمارتوں میں رہ رہے ہیں جو حملوں میں متاثر ہوئی ہیں۔ ان بچوں کو محفوظ اور مستحکم ماحول میسر نہیں، جبکہ موسم سرما کی آمد بے گھر خاندانوں کے لیے مزید خطرات پیدا کر رہی ہے۔
پیریز نے کہا کہ غزہ کے بچے جنگ کے دوران مسلسل چوتھی بار موسم سرما کا سامنا کر رہے ہیں اور اپنی بقا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ جنگ کے اثرات ان کی روزمرہ زندگی کے ہر پہلو پر پڑ رہے ہیں، جن میں رہائش، خوراک، تعلیم اور طبی سہولتیں شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے اس عہدیدار کے مطابق، اگرچہ جنگ بندی کے بعد غذائی صورت حال میں محدود بہتری آئی ہے اور انسانی امداد سمیت تجارتی سامان کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم انسانی ضروریات اب بھی بہت زیادہ ہیں اور دستیاب مالی وسائل ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
متاثرہ خیمے، غیر محفوظ عمارتیں اور بے گھر افراد کی گنجان آبادیاں بھی بچوں کے تحفظ کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ بارشوں اور سردیوں کی آمد کے پیش نظر یہ خطرات مزید بڑھ گئے ہیں، جبکہ بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے باعث نکاسیٔ آب کی سہولتیں متاثر ہیں اور صاف پانی کی فراہمی بھی محدود ہے۔
آپ کا تبصرہ