15 اکتوبر 2026 - 15:43
امریکا کا انتخابی سلامتی کے معاملے میں دوہرا معیار

امریکی حکام اور ماہرین اپنے ملک کے انتخابات میں روس اور چین کی ممکنہ مداخلت کے بارے میں خبردار کرتے ہیں، لیکن دوسرے ممالک کے سیاسی اور انتخابی معاملات میں واشنگٹن کی مداخلت کی تاریخ ایک بار پھر انتخابی سلامتی کے حوالے سے اس کے دوہرے معیار کو نمایاں کرتی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال جولائی میں ایک ٹیلی وژن خطاب کے دوران خبردار کیا تھا کہ امریکا کا انتخابی نظام بیرونی حملوں کا نشانہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین نے 2020 کے امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی، تاہم انہوں نے انتخابات میں خلل ڈالنے یا ووٹوں کی غلط گنتی کے حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ ان کے دعوے ووٹروں کے اندراج کی فہرستوں تک قانونی رسائی سے متعلق تھے۔ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران بھی عوامی سطح پر یہ معاملہ نہیں اٹھایا۔

اگرچہ اس معاملے پر بحث کی شدت کم ہو گئی ہے، لیکن امریکی انتخابات پر بیرونی ممالک کے اثر انداز ہونے کی کوششیں اب بھی ایک سنگین تشویش ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران روس نے امریکا میں سماجی اور نسلی اختلافات کو ہوا دینے کے لیے سماجی رابطوں کے ذرائع استعمال کیے ہیں۔ 2016 کے انتخابات میں ہیلری کلنٹن کو کمزور کرنے کی ماسکو کی کوششیں اس کی سب سے نمایاں مثال تھیں۔ چین نے بھی بیجنگ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے امیدواروں کو نشانہ بنا کر اثر و رسوخ بڑھانے کی کارروائیاں کی ہیں۔

اب یہ ممالک اپنی کارروائیوں کو زیادہ وسیع اور مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت میں ہونے والی پیش رفت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک صورت حال میں عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوششیں ووٹنگ کے عمل میں خلل ڈالنے یا ووٹوں کی گنتی میں ردوبدل تک پہنچ سکتی ہیں۔

باراک اوباما، ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی حکومت اور جو بائیڈن کی انتظامیہ نے بیرونی مداخلت کا مقابلہ کرنے، سماجی رابطوں کے ذرائع کے غلط استعمال کو محدود کرنے اور انتخابی نظام کے بنیادی ڈھانچے کی سلامتی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے تھے۔ تاہم، ٹرمپ کی دوسری حکومت نے ان میں سے بہت سے منصوبے ختم یا محدود کر دیے ہیں۔ وسط مدتی انتخابات میں اب چار ہفتے سے بھی کم وقت باقی ہے اور ان کے نتائج کانگریس پر کنٹرول تبدیل کر سکتے ہیں۔ بیرونی مداخلت، خواہ عوامی بحث کا رخ موڑنے کے ذریعے ہو یا انتخابی نتائج میں ردوبدل سے، جمہوری عمل پر عوام کے اعتماد کے لیے خطرہ ہے۔

جیسیکا برانٹ، جو 2024 کے انتخابات کے دوران امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر میں بیرونی نقصان دہ اثر و رسوخ کے مرکز کی سربراہ تھیں، نے ایک گفتگو میں ان خطرات پر بات کرتے ہوئے ’’اثر و رسوخ کی کارروائیوں‘‘ اور ’’انتخابی مداخلت‘‘ کے درمیان فرق واضح کیا۔

اثر و رسوخ کی کارروائیوں میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے پروپیگنڈا، خفیہ طور پر غلط معلومات پھیلانا، انتخابی مہمات کے لیے غیر قانونی مالی معاونت اور انتخابات پر عوامی اعتماد کم کرنے کے لیے سماجی رابطوں کے ذرائع کا استعمال شامل ہے۔ اس کے برعکس، انتخابی مداخلت سے مراد ووٹنگ یا ووٹوں کی گنتی میں خلل ڈالنے کے اقدامات ہیں۔ ان میں پولنگ مراکز کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں، تاوان طلب کرنے والے سائبر حملے، ووٹروں کے کوائف کے ڈیٹابیس تک غیر مجاز رسائی اور ووٹوں کی گنتی کے نظام میں مداخلت شامل ہیں۔

امریکی انتخابات میں بیرونی مداخلت کی تاریخ طویل ہے اور سماجی رابطوں کے ذرائع کے پھیلاؤ کے ساتھ اس میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، یہ طے کرنا مشکل ہے کہ ان کارروائیوں نے انتخابی نتائج پر کس حد تک اثر ڈالا، کیونکہ ووٹروں کے فیصلوں پر متعدد عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ کسی غیر ملکی حکومت نے امریکا میں بڑے پیمانے پر ایسی کامیاب کارروائی کی ہو جس سے انتخابی نتائج عملاً تبدیل ہو گئے ہوں۔

دو عوامل ایسی مداخلت کو مشکل بناتے ہیں۔ پہلا یہ کہ امریکا میں انتخابات کا انتظام مرکزی سطح پر نہیں بلکہ ریاستوں اور مقامی انتخابی حلقوں کے ذریعے چلایا جاتا ہے، اور وہاں ووٹنگ کا کوئی ایک مشترکہ نظام موجود نہیں۔ دوسرا یہ کہ انتخابی نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کے نتیجے میں مداخلت کرنے والے کی شناخت ہونے اور واشنگٹن کی جانب سے سخت ردعمل کا خطرہ ہے۔ برانٹ کے مطابق، غیر ملکی حکومتیں جانتی ہیں کہ امریکی انتخابات میں مداخلت ایک ’’سرخ لکیر‘‘ ہے جسے عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

تاہم، برانٹ کے نزدیک بیرونی نقصان دہ اثر و رسوخ کے مرکز، امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی بیرونی مداخلت کے خلاف قائم خصوصی ٹیم اور سائبر سکیورٹی و بنیادی ڈھانچے کی سلامتی سے متعلق ادارے کی سرگرمیوں میں کمی ایک بڑی غلطی ہے۔

ان کے مطابق، روس اور چین اثر و رسوخ کی کارروائیوں کو امریکا کے اندرونی اختلافات بڑھانے کا ایک کم خرچ طریقہ سمجھتے ہیں۔ اس گفتگو میں انتخابات کے تحفظ میں ریاستی اور مقامی حکام کے کردار اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے بیرونی اثر و رسوخ کی کارروائیوں میں ممکنہ اضافے پر بھی بات کی گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha