اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی ریاست نے گزشتہ چند روز کے دوران فلسطینی عوام کے خلاف اپنی زمینی جارحیت میں شدت پیدا کردی ہے۔
غزہ کی پٹی میں صیہونی فوج نے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے توپ خانے اور فضائی حملے کیے اور شہریوں اور پناہ گزینوں کے کیمپوں پر براہِ راست فائرنگ کی۔
رپورٹ کے مطابق، ان حملوں کے نتیجے میں رفح میں دو فلسطینی شہید ہوگئے، جبکہ خان یونس میں ایک خاتون سمیت متعدد شہری زخمی ہوئے۔ اسی طرح شجاعیہ، تفاح، مشرقی غزہ، دیر البلح اور نصیرات میں بھی شہریوں کے زخمی ہونے اور بمباری کے واقعات پیش آئے۔
مغربی کنارے میں بھی صیہونی فوج نے طولکرم، جنین، الخلیل، نابلس، بیت لحم اور طوباس میں متعدد شہریوں اور رہا ہونے والے قیدیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر چھاپے مارے اور حملے کیے۔ ان کارروائیوں کے دوران قباطیہ قصبے میں ایک شہری شدید زخمی ہوگیا۔
صیہونی ریاست نے جنین کیمپ کے تین داخلی راستوں اور برطعہ گزرگاہ کے اطراف گاڑیوں کی آمدورفت اور چوکیوں پر سخت فوجی پابندیاں بھی عائد کردی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان پابندیوں کا مقصد محاصرہ مزید سخت کرنا اور بے گھر افراد کی مشکلات کو طول دینا ہے۔ یہ پابندیاں یکم جنوری 2028ء تک جاری رہیں گی۔
دوسری جانب، یہودی آبادکاروں نے صیہونی پولیس کی سخت حفاظت میں ایک بار پھر مسجد اقصیٰ کے صحن میں تلمودی رسومات ادا کیں۔
آپ کا تبصرہ