اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صومالی لینڈ کے حکام نے اسرائیل سے جدید فضائی دفاعی نظام، جن میں ایف-16 جنگی طیارے اور ڈرون بھی شامل ہیں، فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
صومالی لینڈ کے صدر کے خارجہ امور کے سینئر مشیر محمد عثمان فاضل نے ’’مڈل ایسٹ آئی‘‘ کو بتایا کہ ہرگیسا کو فضائی دفاعی نظام کی ضرورت ہے اور انہوں نے وفاقی حکومتِ صومالیہ کے ساتھ ترکی کی ’’بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی‘‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل سے تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہرگیسا کے بعض حکام اور تجزیہ کار صومالیہ میں ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں توازن قائم کرنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔
تاہم فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کا معاملہ ابھی صومالی لینڈ کے حکام کے بیانات تک محدود ہے اور اسرائیل نے اب تک اس علاقے کو ان نظاموں کی فراہمی پر رضامندی کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔
دوسری جانب صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے واضح کیا کہ ان کا ملک کسی بھی صورت صومالیہ کی سرزمین پر اسرائیلی موجودگی قبول نہیں کرے گا اور موغادیشو صومالی لینڈ میں اسرائیل کے کسی بھی فوجی انتظام کی مخالفت کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل بربرہ شہر میں بحری اڈہ قائم کرنے اور اس کے ہوائی اڈے کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق خلیج عدن میں بربرہ کا تزویراتی محل وقوع اسرائیل کو خلیج فارس اور ایران کے قریب پہنچنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
صومالیہ کے صدر نے مزید کہا کہ صومالی لینڈ کے عوام بھی اسرائیلی موجودگی کے مخالف ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کی حکومت صومالیہ کو ’’مشرق وسطیٰ‘‘ کے تنازعات میں گھسیٹنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گی۔
آپ کا تبصرہ