5 اکتوبر 2026 - 16:02
آسٹریا کے کارڈینل کی اسکولوں میں حجاب پر پابندی پر تنقید

آسٹریا کے کارڈینل کرسٹوف شونبورن نے معاشرے میں مذہبی علامات کی موجودگی کا دفاع کرتے ہوئے 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کے حجاب پر پابندی کی مخالفت کی اور کہا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہونے چاہئیں، نہ کہ مذہبی علامات پر پابندی اور انہیں ختم کرنے پر۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے ریٹائرڈ آرچ بشپ کارڈینل کرسٹوف شونبورن نے ایک بار پھر اسکولوں میں 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کے حجاب پر پابندی کی مخالفت میں اپنے مؤقف کا دفاع کیا اور کہا کہ حکومت کو اس معاملے میں حتی الامکان کم مداخلت کرنی چاہیے۔

شونبورن نے اخبار ’’ہویتے‘‘ سے گفتگو میں اس سوال کے بارے میں کہ آیا آٹھ سالہ بچی کا حجاب مذہبی آزادی کا نتیجہ ہے یا خاندان کی طرف سے اس پر دباؤ، کہا کہ حکومت یا اساتذہ کے لیے اس بات کا تعین کرنا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے یہودی خاندانوں کے ان بچوں کی مثال دی جو سر پر کیپا پہنتے ہیں یا مسیحی بچوں کی جو مذہبی رسومات میں شرکت کرتے ہیں اور خاندانوں کے مذہبی انتخاب اور روایات کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔

اس کارڈینل نے مذہبی علامات پر عمومی پابندی پر تنقید کرتے ہوئے فرانس کی مثال بھی پیش کی اور کہا کہ وہ اس طرزِ عمل کو مناسب نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق مذہبی علامات پر پابندی لگانے کے بجائے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ’’باہمی احترام‘‘ پر زور دیا جانا چاہیے۔ شونبورن نے یہ بھی کہا کہ مسیحیوں کو ہمیشہ برداشت اور رواداری کا مکمل نمونہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور ساتھ ہی مسلمانوں سے اس معاملے میں زیادہ توقعات نہیں رکھی جا سکتیں۔

شونبورن نے مزید پیش گوئی کی کہ آسٹریا کے اسکولوں میں 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کے حجاب پر پابندی کے معاملے کا بالآخر اس ملک کی آئینی عدالت میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے گفتگو کے ایک اور حصے میں ویانا کے اسکولوں کی آبادی کے بارے میں کہا کہ دارالحکومت کے پرائمری اور لازمی تعلیم کے اسکولوں میں مسلمان بچوں کا تناسب تقریباً 42 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کی ایک وجہ آبادی کے رجحانات میں فرق اور لوگوں کی کیتھولک چرچ سے بڑھتی ہوئی علیحدگی کو قرار دیا۔

اس کلیسائی عہدیدار نے اسکولوں اور اسپتالوں جیسے سرکاری عمارتوں میں صلیب نصب رکھنے کی حمایت بھی کی۔ انہوں نے اسلام اور مسیحیت کے درمیان بعض اخلاقی اصولوں کو مشترک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خدا پر ایمان، نیک اعمال انجام دینے کی انسانی ذمہ داری اور مرنے کے بعد زندگی پر یقین ان دونوں مذاہب کے درمیان مشترک پہلوؤں میں شامل ہیں۔ شونبورن نے زور دیا کہ آخرکار انسان کے اعمالِ صالح کی بنیاد پر اس کا جائزہ لیا جائے گا۔

کارڈینل شونبورن نے اپنے بیان کے ایک اور حصے میں سیاست میں مذہب کے کردار کے بارے میں کہا کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے مذہبی مفاہیم اور آیات کا استعمال اصولی طور پر ان کا حق ہے، تاہم سیاسی بیانات کی قدر و اہمیت کا اندازہ ان افراد اور جماعتوں کے عملی کردار سے بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کیتھولک چرچ میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بھی کہا کہ یورپ عالمی کلیسا میں اپنا مقام کھو رہا ہے۔

انہوں نے آخر میں جاری جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ سیاسی ذمہ دار اپنے فرائض کو سنجیدگی سے لیں گے اور جنگوں کے خاتمے کے لیے اقدامات

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha