اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمنی عوام سعودی عرب کے خلاف بحری محاصرے کے ساتھ ساتھ ریاض سمیت سعودی عرب کی گہرائی میں حملے جاری رکھتے ہوئے مقبوضہ علاقوں میں موجود کرائے کے جنگجوؤں کے خلاف بھی لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں اور تعز کو آزاد کرانے کی لڑائی اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے گزشتہ رات گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعز اب عملی طور پر آزاد ہو چکا ہے اور اس کے اطراف کو محفوظ بنانے کے بعد مقامی باشندوں پر مشتمل فورسز کی شمولیت سے شہر کو مکمل طور پر محاصرے میں لے لیا گیا ہے۔
حزام الاسد نے المیادین سے گفتگو کرتے ہوئے تعز کی عملی آزادی پر زور دیا اور کہا کہ یمنی مسلح افواج نے تعز اور عدن کے درمیان سڑک کو بند نہیں کیا بلکہ اسے محفوظ بنایا ہے، جبکہ مخالف فریق نے اس سڑک کو بند کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعز کے کئی علاقوں کو آزاد کرانے میں حصہ لینے والی فورسز کے زیادہ تر ارکان اسی صوبے کے مقامی باشندے ہیں۔ اس کے علاوہ یمنی عوام کے پاس ایک مضبوط دفاعی قوت بھی موجود ہے جسے ضرورت پڑنے پر مسلح افواج استعمال کریں گی۔
انصار اللہ کے اس رہنما نے مزید خبردار کیا کہ اگر دشمن نے بھرپور جنگ شروع کی تو اسے بھاری نقصان اور بڑی تعداد میں جانی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ یمن پر حملہ کرنے والے ہر جارح کو اس کی قیمت چکانا ہوگی اور سعودی حکومت سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا فریق ہوگی۔
آپ کا تبصرہ