17 جولائی 2010 - 19:30

آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی نے آذربائیجانی صدر کے نام مراسلہ بھیج کر مسجد فاطمۃالزھراء سلام اللہ علیہا کی شہادت پر احتجاج کیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپائگانی نے جمہوریہ آذربائیجان میں مسجد فاطمۃالزھراء سلام اللہ علیہا کی شہادت پر صدر الہام علی اف کے نام احتجاجی مراسلہ ارسال کیا ہے۔ مراسلے کا متن:

بسم اللہ الرحمن الرحیمالحمدللّه رب العالمین والصلاة والسلام علی سیدنا ابی القاسم محمد و آله الطاهرین لاسیما مولانا المهدی بقیۃ اللّه فی الارضین والحمدللّه الذی جعلنا و ایاکم من المتمسکین بولایۃ امیرالمؤمنین علیهالسلام۔

جناب برادر ایمانی آقائے الہام علی اف، صدر جمہوریہ آذربائیجان دام عزہ السلام علیکم و علی اخواننا المؤمنین فی مملکۃ آذربائیجاناحترام اور کلمۂ اسلام کی روز افزوں ترقی و کمال کی امید کے ساتھ، سوویت یونین کے خاتمے اور عزیز مملکت آذربائیجان ـ جو اہل تشیع کی سرزمین ہے ـ کے استقلال و خودمختاری سے لی کر اب تک، میں ملاقات کے لئے آنے والے اذری بھائیوں اور بہنوں کو اس شیعہ مملکت کی آزادی اور استقلال پر مبارک باد پیش کرتا رہا ہوں اور ان کے توسط سے آذری بھائیوں اور بہنوں کو اپنے برادرانہ جذبات کا پیغام روانہ کرتا رہتا ہوں۔ میں نے اس عرصے میں تشیع اور ولائی تشخص کے تحفظ میں اس خطے کے ولائی اور با استقامت عوام کے حیرت انگیز کردار کو خراج تحسین پیش کرتا رہا ہوں اور استقامت کو ان عزیزوں کی قلبی طہارت و نورانیت کی علامت قرار دیتا رہا ہوں؛ مختصر یہ کہ ان سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں اور ان سے قلبی تعلق رکھتا ہوں۔ اس وقت آذربائیجان کے مستحکم موقف کے حامل اور ولایتمدار عوام کو خراج تحسین و تقدیر کرنے کی غرض سے ایسا مناسب جملہ میرے ذہن میں نہیں آرہا جو ان کے لئے تمام معانی پر مشتمل ہو۔ آپ اور آپ کے والد ـ جو ایسے ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں اور اس ملک کے استقلال کا پرچم اپنے دوش پر لئے ہوئے ہیں، کے لئے بھی آپ کے آباء و اجداد کے توسط سے ان ہی مفاخر پر اعزاز و افتخار حاصل ہے۔ وہ آذری بزرگ جن کی نسل سے آپ بھی معرض وجود میں آئے ہیں، اہل بیت علیہم السلام اور تشیع کی روایات پر خالص ترین اعتقاد رکھتے تھے اور یہ اعتقادات بحمداللہ ان ہی اسلاف کے فرزندوں میں ـ تشیع کے خاتمے کے لئے وسیع کوششوں کے دشوار دور کے بعد بھی ـ قائم و دائم ہیں۔ ان عزیزوں کا کردار ان روایات اور اسلامی شعائر کے تحفظ، بالخصوص تعمیر مساجد و حسینیات اور محرم و صفر اور ماہ مبارک رمضان کے مراسمات کے احیاء، دینی اجتماعات کی برپائی، قرآنی تبلیغات، اخوت ایمانی اور اخلاق کریمہ کے فروغ کے حوالے سے اگر دوسرے شیعہ بلاد و ممالک سے بڑھ کر نہ تھا تو کسی طور بھی کم بھی نہ تھا۔ آج نسل معاصر کو آپ جناب سے توقع یہ ہے کہ اس نورانی تشخص کو زندہ رکھیں اور اس دیرینہ حیثیت کا تحفظ کریں۔ ہمیں امید ہے کہ آپ کی مملکت علم و صنعت اور قوت و استقلال اور معیشت و اقتصاد کے شعبوں میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرے۔ دنیا کے کروڑوں اہل تشیع کی نظریں اس وقت آپ کے ملک اور آپ کی حکومت پر لگی ہوئی ہیں اور ان سب کو آپ سے ایک بڑا قدم اٹھانے کی امید ہے۔ اس روشن اور با عظمت پس منظر کی تجلیل و تحسین کو اپنے پروگرواموں میں سرفہرست قرار دیں اور روایات کا احیاء کریں اور مساجد کی تعمیر نو کا اہتمام کریں اور نئی مساجد کی تعمیر کے لئے اقدام کریں۔ ایک شیعہ اور اذربائیجان سے محبت کرنے والے مسلمان کے لئے بہت دکھ کی بات ہے کہ ہمیں یہ خبر سنائی جائے کہ آپ کے ملک میں بعض لوگ اس مملکت کے ولائی تشخص کی بے حرمتی کرتے ہیں اور اس واحد او متحد معاشرے میں تفرقہ پھیلانے اور ملکی امن و امان میں خلل ڈالنے اور حتی شہریوں کے بنیادی حقوق کے خلاف جارحیت کا عزم کئے بیٹھے ہیں۔ وہ مسجد جس کا نام سیدة نساء العالمین، دنیا کی تمام خواتین کی سیدہ حضرت فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیہا سے منسوب ہے اگر حملوں کا نشانہ بنے یا اس کی بندش کی تجویزیں سامنے آئیں تو یہ بہت دکھ اور تکلیف کا سبب ہے اور ایسے اقدامات کے منفی نتائج اس ملک کی پوزیشن کو متزلزل کرسکتے ہیں۔ آپ جناب سے توقع یہ ہے کہ اپنی تدبیر و سیاست کے ذریعے ان فتنوں اور فتنہ انگیز قوتوں کا راستہ روکیں اور ذاتی طور پر اس مسجد میں حاضری کا شرف حاصل کرکے خراج عقیدت و تحسین پیش کریں اور عالم اسلام اور شیعیان اہل بیت (ع) کو سربلند اور خوشنود کریں۔ آپ کے اقدام کا منتظر ـ شکراللہ مساعیکم

قم المشرفۃ24 جمادی الاولی 1431لطف اللہ صافی