4 اکتوبر 2026 - 15:37
مغربی کنارہ صیہونی آبادکاری کی زد میں؛ فلسطین کو مکمل طور پر ہڑپ کرنے کا منصوبہ

حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی حکومت کی آبادکاری کی پالیسی صرف نئی رہائشی بستیوں کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ سڑکوں کے نظام میں تبدیلی، آبادکاروں کے لیے مخصوص راستوں کی تعمیر اور فلسطینیوں کی آمد و رفت پر پابندیوں کے ذریعے بھی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی حکومت مغربی کنارے کے نقشے کو تبدیل کرنے اور وہاں آبادکاری کو وسعت دینے کی پالیسی کے تحت ایک طرف رام اللہ اور البیرہ کے علاقے میں آبادکاروں کی آمد و رفت کے لیے ایک اہم سڑک دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف مغربی کنارے کے جنوبی حصے میں نئی بستی ’’گد نتان‘‘ کے قیام اور توسیع کا عمل بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ان اقدامات سے فلسطینی علاقوں کے مزید ٹکڑے ہونے اور شہروں و دیہات کے درمیان جغرافیائی رابطہ محدود ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

فلسطینی رپورٹس کے مطابق صیہونی فوجی اداروں میں ۴۶۳ نمبر سڑک کو آبادکاروں کے لیے دوبارہ کھولنے کی تیاری جاری ہے۔ یہ سڑک رام اللہ اور البیرہ کے شہری علاقے کے درمیان سے گزرتی ہے اور اس علاقے کے شمالی اور جنوبی حصوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے۔

فلسطینی دیوار اور آبادکاری کے خلاف قائم کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ آبادکاروں کے لیے اس راستے کو دوبارہ کھولنے سے رام اللہ اور البیرہ کے شہری علاقے کے شمال میں واقع آٹھ دیہات اور دو بڑے رہائشی علاقوں کا باقی حصوں سے رابطہ منقطع ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں دسیوں ہزار فلسطینیوں کو جلزون کیمپ کے قریب واقع ایک دوسرے پرانے راستے سے گزرنا پڑے گا، جہاں پہلے ہی شدید ٹریفک کا مسئلہ موجود ہے۔

۴۶۳ نمبر سڑک تقریباً ۱۹۹۴ میں ’’بیت ایل‘‘ اور ’’دولِو‘‘ کی صیہونی بستیوں کو آپس میں ملانے کے لیے تعمیر کی گئی تھی، تاہم دوسری انتفاضہ کے آغاز کے بعد صیہونی فوج نے اس کے کچھ حصے بند کر دیے تھے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران آبادکاروں نے اس سڑک کے مختلف حصوں میں مارچ اور دیگر پروگرام منعقد کرکے اسے مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے دباؤ بڑھایا ہے۔ بعض مواقع پر یہ اقدامات صیہونی فوجی دستوں کی حفاظت یا ان کے ساتھ رابطہ کاری میں کیے گئے ہیں۔

’’گد نتان‘‘؛ گوش عتصیون سے الخلیل تک آبادکاری کی نئی کڑی

مغربی کنارے کے جنوبی حصے میں ’’گد نتان‘‘ نامی نئی بستی کے قیام کا عمل بھی عملی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ اس بستی کی افتتاحی تقریب ۲۹ ستمبر کو منعقد ہوئی اور صیہونی حکومت کے عہدیداروں نے اسے گوش عتصیون کی بستیوں کے مجموعے کے جنوبی حصے میں قائم ہونے والی نئی بستی قرار دیا۔

یہ بستی گوش عتصیون کے جنوب سے الخلیل کی سمت جانے والے راستے پر واقع ہے اور آبادکاروں کے عہدیداروں کے مطابق یہ گوش عتصیون کی علاقائی کونسل کے زیر انتظام علاقے میں سب سے جنوبی بستی ہے۔ افتتاحی تقریب میں اسرائیلی عہدیداروں نے گوش عتصیون سے الخلیل کی سمت آبادکاروں کی موجودگی کو بڑھانے میں اس بستی کی اہمیت پر زور دیا۔

’’گد نتان‘‘ اس سے قبل بھی صیہونی حکومت کی جانب سے مغربی کنارے میں نئی بستیوں کے قیام یا انہیں مستحکم کرنے کے لیے منظور کیے گئے منصوبوں میں شامل تھی۔ ’’پیس ناؤ‘‘ کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق یہ بستی ’’ماروم یہودا‘‘ کے جنوبی علاقے میں واقع ہے اور علاقے میں آبادکاری کو وسعت دینے کی پالیسی کے تحت قائم کی جا رہی ہے۔

رواں سال صیہونی حکومت کی کابینہ کے فیصلے سے متعلق جاری کردہ دستاویزات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ’’گد نتان‘‘ جنوبی مغربی کنارے میں آبادکاری کو وسعت دینے کے لیے جاری کئی منصوبوں میں سے صرف ایک ہے۔ اس منصوبے کے تحت بیت لحم اور الخلیل کے علاقوں اور گوش عتصیون کے اردگرد کئی نئی بستیوں کے قیام کو بھی زیرِ غور لایا گیا ہے تاکہ اس آبادکار گروپ اور مغربی کنارے کے مزید جنوبی علاقوں کے درمیان زمینی رابطہ مضبوط کیا جا سکے۔

آبادکاری اور آمد و رفت کے راستوں میں تبدیلی

حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی حکومت کی آبادکاری کی پالیسی صرف نئی رہائشی بستیوں کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ سڑکوں کے نظام میں تبدیلی، آبادکاروں کے لیے مخصوص راستوں کی تعمیر اور فلسطینیوں کی آمد و رفت پر پابندیوں کے ذریعے بھی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔

مغربی کنارے کے مرکزی شمالی حصے میں ۴۶۳ نمبر سڑک کو دوبارہ کھولنے سے رام اللہ اور البیرہ کے علاقے کے مختلف حصوں کے درمیان رابطہ متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ جنوبی حصے میں گوش عتصیون سے الخلیل کی سمت ’’گد نتان‘‘ کا قیام اس علاقے میں آبادکاروں کی موجودگی کو وسعت دینے اور اسے مستحکم کرنے کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے۔

ان تمام اقدامات کا مجموعی نتیجہ فلسطینی علاقوں میں نئی زمینی حقیقتوں کا قیام اور ان کے جغرافیائی انتشار میں اضافہ ہے۔ آبادکار بستیوں، ان کے لیے مخصوص سڑکوں اور آمد و رفت پر پابندیوں کے پھیلاؤ کے باعث فلسطینی علاقوں کے درمیان زمینی تسلسل قائم کرنے کا امکان پہلے سے زیادہ دباؤ میں آ رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha