اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اقوام متحدہ سے وابستہ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران اور پاکستان سے افغانستان واپس آنے والے مہاجرین میں نقد امداد کی تقسیم میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے اور پاکستان سے واپس آنے والوں کو ایران سے واپس آنے والوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ نقد امداد ملی ہے۔
تنظیم نے پیر 6 میزان کو "افغانستان واپس آنے والوں کی بحالی کا جائزہ" کے عنوان سے رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوسرے چھ ماہ کے دوران افغانستان واپس آنے والے مجموعی طور پر 19 لاکھ افراد میں سے صرف 38 فیصد کو کثیرالمقاصد نقد امداد ملی۔ پاکستان سے واپس آنے والوں میں 69 فیصد نے یہ امداد حاصل کی، جبکہ ایران سے واپس آنے والوں میں یہ شرح صرف 24 فیصد رہی۔
بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت نے اپنی تازہ رپورٹ میں امداد کی درست رقم کا ذکر نہیں کیا، تاہم 2024 کے پروگرام میں ہر خاندان کے لیے 140 ڈالر نقد امداد کے علاوہ ہر فرد کے لیے تقریباً 20 ڈالر منتقلی کے اخراجات کی رقم مختص کی گئی تھی۔ واپس آنے والوں کو سرحد پر نقد امداد، صحت کی سہولیات، غذائی امداد اور سم کارڈ فراہم کیے گئے ہیں۔
رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان واپس آنے والوں کو واپسی کے بعد فوری اور طویل مدتی متعدد ضروریات کا سامنا ہے۔ 69 فیصد افراد کو خوراک کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، 67 فیصد کو محفوظ رہائش کے لیے امداد درکار ہے جبکہ 77 فیصد عارضی رہائش گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی طرح 56 فیصد افراد نے روزگار اور ذریعہ معاش کے مواقع کو اپنی بنیادی ضرورت قرار دیا ہے، جبکہ صرف 5 فیصد افراد کے پاس آمدنی حاصل کرنے کے لیے پیداواری اثاثے موجود ہیں۔
اقتصادی مشکلات کے باوجود 75 فیصد واپس آنے والوں نے کہا ہے کہ وہ آئندہ چھ ماہ کے دوران اپنی موجودہ رہائش گاہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ یہ رپورٹ 1547 واپس آنے والے افراد، جن میں پاکستان سے واپس آنے والے 888 اور ایران سے واپس آنے والے 659 افراد شامل ہیں، سے کیے گئے انٹرویوز کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ ان افراد کی واپسی کے تقریباً 9 سے 15 ماہ بعد ان کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔
بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت نے بتایا ہے کہ ستمبر 2023 سے اگست 2026 کے اختتام تک 65 لاکھ سے زیادہ افراد ایران اور پاکستان سے افغانستان واپس آچکے ہیں۔ جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران بھی تقریباً 19 لاکھ افراد افغانستان واپس آئے، جن میں 58 فیصد بچے تھے۔
آپ کا تبصرہ