28 ستمبر 2026 - 16:23
بھارت میں ایک بار پھر مسجد کی مسماری، مسلمانوں سے معاہدے کے باوجود بلڈوزر پہنچ گئے

بھارت کے شہر اجین میں سڑک کشادہ کرنے کے منصوبے کے تحت تاریخی شاہی مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے پر مقامی حکام اور مسجد کمیٹی کے درمیان تین فٹ حصہ خود ہٹانے پر اتفاق ہوا، تاہم مسلمانوں کے مطابق اگلی صبح مسجد کے اطراف بلڈوزر اور پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی، جس سے بڑے پیمانے پر مسماری کا خدشہ پیدا ہوگیا اور عوام اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں سڑک کشادہ کرنے کے منصوبے کے تحت تاریخی شاہی مسجد کے ایک حصے کو مسمار کرنے کے معاملے پر کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ شہر کے بعض مسلمانوں کا کہنا ہے کہ مسجد کمیٹی کے نمائندوں اور مقامی حکام کے درمیان مسجد کے ایک محدود حصے کو ہٹانے پر اتفاق کے باوجود سرکاری حکام نے مسجد کے اطراف بلڈوزر اور پولیس اہلکار تعینات کرکے بڑے پیمانے پر مسماری کے خدشات پیدا کردیئے ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، 27 ستمبر کی شام مسجد کمیٹی کے نمائندوں اور مقامی حکام کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت مسجد کی چھت کے باہر کی جانب نکلے ہوئے تقریباً تین فٹ حصے کو، جہاں نماز ادا نہیں کی جاتی اور جو ملحقہ دکانوں کے اوپر واقع ہے، مسلم برادری کے ارکان خود ہٹا دیتے۔ ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ یہ معاہدہ مسجد کے مزید حصوں کو مسمار ہونے سے بچانے کے لیے کیا گیا تھا، تاہم اگلی صبح نماز فجر کے بعد حکام نے مسجد کے اطراف حصار قائم کرکے بھاری مشینری وہاں پہنچا دی۔

اس کے بعد مسجد کے اطراف مسلمانوں کا اجتماع ہوگیا اور مقامی رپورٹس کے مطابق پولیس اور وہاں موجود افراد کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ ایک تحریری میڈیا رپورٹ نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ مقامی رہائشیوں نے یہ بھی کہا کہ مسجد کے ایک مینار کے حوالے سے بھی معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت پہلے مسجد کے پچھلے حصے میں نیا مینار تعمیر کیا جانا تھا اور اس کے بعد موجودہ مینار کو ہٹایا جانا تھا، تاہم حکام نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔

دوسری جانب اجین کے پولیس کمانڈر پردیپ شرما نے مسلم برادری اور مسجد کمیٹی کے تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سڑک کشادہ کرنے کے منصوبے کی زد میں آنے والے حصے کو مسلم برادری کی رضامندی سے مسمار کیا جارہا ہے، کیونکہ 2028 میں ہندوؤں کی مذہبی تقریب ’’سِم ہستھا‘‘ منعقد ہونے والی ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ علاقے سے باہر کے کچھ افراد امن و امان میں خلل ڈالنے کے لیے یہاں پہنچے تھے، جن میں سے پانچ افراد کو علاقے کی سرحد پر گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق صورتحال پر قابو پانے اور کشیدگی کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور جسمانی کارروائی کا استعمال کیا، جبکہ علاقے میں سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے نگرانی بھی جاری ہے۔

تین فٹ کے اس حصے کو، جسے باہمی رضامندی سے ہٹانے پر اتفاق ہوا تھا، رضاکاروں کی جانب سے ہٹانے کا کام شروع کیے جانے کے باوجود متعدد مسلمان اب بھی مسجد کے اندر موجود ہیں اور بڑے پیمانے پر مسماری کی کارروائی کے ممکنہ آغاز پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔

2028 میں اجین میں ہونے والی سِم ہستھا تقریب سے قبل سڑکوں کو کشادہ کرنے کے منصوبے کے تحت شاہی مسجد جزوی مسماری کی زد میں آگئی ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مسجد کے اطراف پولیس اہلکاروں اور بھاری مشینری کی موجودگی کے باعث رضاکارانہ طور پر طے شدہ حصے کو ہٹانے کا عمل شروع ہونے کے باوجود مسجد کے اطراف صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha