21 ستمبر 2026 - 16:28
امریکی اتحاد کے انخلا کے ساتھ عراق میں داعش کی مشکوک سرگرمیاں

عراق میں امریکی اتحاد کے فوجی مشن کے خاتمے کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی ملک کے صحرائی اور سرحدی علاقوں میں داعش کے خفیہ سیل ایک بار پھر متحرک ہوگئے ہیں اور مختلف مقامات پر محدود حملوں کی کوششیں سامنے آئی ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق میں امریکی اتحاد کے فوجی مشن کے خاتمے کی تاریخ قریب آتے ہی داعش کے خفیہ سیل ایک طویل عرصے کی خاموشی کے بعد دوبارہ سرگرمیاں شروع کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال نے بتدریج یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ دونوں واقعات کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے۔

لبنان کے اخبار ’’الاخبار‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، 30 ستمبر کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ، جس روز عراق میں امریکی اتحاد کا مشن ختم ہونے والا ہے، داعش کے خفیہ سیل نے ایک بار پھر عراق میں محدود حملے کیے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ بغداد کے شمال میں واقع بیجی اور حدیثہ شہروں کے درمیان بجلی کی ترسیل کے ٹاورز کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی۔ اس حملے کے بعد عراقی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور علاقے میں سرچ آپریشن بھی کیا گیا۔

یہ سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب عراقی سکیورٹی ذرائع نے ملک کے صحرائی اور سرحدی علاقوں، بالخصوص عراق اور شام کی سرحد کے ساتھ داعش کے خفیہ سیل کی سرگرمیوں کی نشاندہی کی ہے۔

داعش کی واپسی یا چھوٹے سیل کی سرگرمیاں؟

تاہم، اب تک کے یہ حملے داعش کی سابقہ حکمت عملی یعنی شہروں پر قبضہ کرنے کی واپسی کی علامت نہیں ہیں بلکہ یہ اس گروہ کی چھوٹے خفیہ سیل کے ذریعے سرگرمیاں جاری رکھنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سیل صحرائی اور دشوار گزار علاقوں سے مخصوص اہداف پر حملے کرتے ہیں۔

اس کے باوجود ان واقعات کے وقت نے انہیں سیاسی اور سکیورٹی اہمیت دے دی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ سرگرمیاں عراق کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے موقع پر سامنے آئی ہیں جس میں کم از کم نظری طور پر امریکی اتحاد کا عراق میں مشن ختم ہوجائے گا۔ یہ اتحاد بنیادی طور پر 2014ء کے بعد داعش کے خلاف جنگ کے بہانے تشکیل دیا گیا تھا۔

عراق اور شام کی سرحد پر داعش کی سرگرمیاں

عراقی سکیورٹی ذرائع کی جانب سے اخبار ’’الاخبار‘‘ کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق، متعلقہ عراقی اداروں کے پاس عراق اور شام کی سرحد کے قریب داعش سے وابستہ خفیہ سیل کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات موجود ہیں۔

سرحد کے دونوں جانب افراد کی دراندازی اور نقل و حرکت کی کوششیں بھی جاری ہیں، جس کے باعث عراقی فورسز نے حساس علاقوں میں نگرانی بڑھانے اور سرچ آپریشنز کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔

ان ذرائع کے مطابق داعش سکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کم لاگت لیکن زیادہ اثر رکھنے والی کارروائیوں کے لیے بالخصوص بجلی کے ٹاورز، چیک پوسٹوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے یہ گروہ وسیع فوجی صلاحیت کے بغیر بھی سکیورٹی اور اقتصادی خلل پیدا کرسکتا ہے۔

بغداد کا امریکی اتحاد کا مشن ختم کرنے پر اصرار

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عراقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ طے شدہ شیڈول کے مطابق امریکی اتحاد کے فوجی مشن کے خاتمے کا عمل جاری رکھا جائے گا اور اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات دوطرفہ تعاون کی بنیاد پر جاری رہیں گے۔

عراقی حکومت نے اس عمل کو مزاحمت کے ہتھیاروں کو محدود کرنے کے منصوبے سے بھی جوڑا ہے۔ یہ منصوبہ امریکہ کے شدید دباؤ کے تحت تیار کیا گیا ہے اور اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں عراق پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ علی الزیدی کی حکومت اس معاملے میں اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر سکے گی، خصوصاً اس لیے کہ مزاحمت اپنے ہتھیار حوالے کرنے کی مخالفت کر رہی ہے اور اسے عراق سے امریکی انخلا کے معاملے میں امریکی فورسز کی سنجیدگی پر بھی اعتماد نہیں ہے۔

کیا داعش امریکہ کے قیام کا بہانہ ہے؟

واشنگٹن عراق سے انخلا کے طے شدہ شیڈول سے بچنے کے لیے کئی مرتبہ اس ملک میں داعش کے حملوں کی واپسی کے خدشات کو بنیاد بناتا رہا ہے۔

دوسری جانب بغداد کے لیے چیلنج یہ ہے کہ امریکی اتحاد کے مشن کے خاتمے کے بعد اپنی انٹیلی جنس، نگرانی اور فضائی صلاحیتوں کو کس طرح برقرار رکھا جائے اور ان شعبوں میں کسی بھی کمی کو داعش کے خفیہ سیل کے لیے موقع بننے سے روکا جائے۔

سکیورٹی امور کے محقق ’’علی الخفاجی‘‘ نے اخبار ’’الاخبار‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے خفیہ سیل کی دوبارہ سرگرمیاں، خواہ عارضی ہی کیوں نہ ہوں، عراق کی سکیورٹی کے لیے بدستور خطرہ ہیں، خصوصاً ملک اور خطے میں سیاسی و سکیورٹی عدم استحکام کے حالات میں۔

انہوں نے مزید کہا کہ داعش ان خلا سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لہٰذا عراقی فورسز کو صحرائی اور حساس علاقوں میں سرچ آپریشنز تیز کرنے چاہئیں اور انٹیلی جنس و فضائی نگرانی کی کوششیں بڑھانی چاہئیں، بالخصوص ایسی کوششوں کے پیش نظر جن کے ذریعے بیرونِ ملک سے، خاص طور پر شام کی سمت سے، دراندازی کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

بغداد: داعش کی سرگرمیاں ابھی خطرناک مرحلے تک نہیں پہنچیں

دوسری جانب عراقی پارلیمنٹ کی سکیورٹی و دفاع کمیٹی کے رکن ’’صکر الحمیداوی‘‘ نے اخبار ’’الاخبار‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ داعش کی موجودہ سرگرمیاں ابھی خطرناک مرحلے تک نہیں پہنچی ہیں۔ سکیورٹی فورسز اور حشد الشعبی مختلف علاقوں میں موجود ہیں اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور سرحدوں کی نگرانی کے لیے وسیع سکیورٹی و انٹیلی جنس کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 30 ستمبر کو امریکی اتحاد کے مشن کا خاتمہ یقینی ہے اور اس کا داعش کی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ اقدام عراقی حکومت کے ساتھ طے پانے والے فیصلے اور پہلے سے مقرر کردہ شیڈول کے مطابق کیا جارہا ہے۔

الحمیداوی نے مزید زور دیا کہ عراقی فورسز اب علاقوں کا کنٹرول برقرار رکھنے اور کسی بھی دہشت گرد گروہ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

بدامنی واپس لانے کی کوشش سے خبردار

دوسری جانب ’’الغد‘‘ مرکز برائے تزویراتی مطالعات کے سربراہ ’’علی عبدالزراق‘‘ کا کہنا ہے کہ کرکوک اور عراق کے دیگر علاقوں میں توانائی کے ٹاورز اور سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانا امریکی اتحاد کی افواج کے مشن کے خاتمے کے ساتھ ہی حالات کو بگاڑنے اور دوبارہ بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔

عبدالرزاق نے اخبار ’’الاخبار‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ داعش کا مسلسل خطرہ امریکی فورسز کے عراق میں قیام کے لیے بہانہ بن سکتا ہے، تاہم ان دونوں معاملات کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت کرنے کے لیے شواہد درکار ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha