اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کی مقامی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں عراقی دینار کی قدر میں شدید کمی دیکھی گئی اور ایک ڈالر کی قیمت 1600 دینار تک پہنچ گئی۔ یہ نئی بلند سطح عراق کی مارکیٹ کے استحکام کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب عراق میں ڈالر کی طلب میں اضافہ اور اس کی رسد میں کمی ہوئی ہے۔ اسی دوران 30 ستمبر کی مقررہ تاریخ بھی قریب آ رہی ہے، جس کے باعث عراق میں ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں دینے کے معاملے کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
روزنامہ ’’العربی الجدید‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، عراقی دینار کی قدر میں یہ کمی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک کو اقتصادی لحاظ سے حساس صورتحال کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ اور نقل و حمل و تجارت کے بڑھتے ہوئے خطرات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس بحران کے دوران عراق کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی دباؤ کا شکار ہوئے ہیں اور بعض اندازوں کے مطابق یہ ذخائر فروری 2026 میں 102 ارب ڈالر سے زائد سے کم ہو کر اگست 2026 کے اختتام پر تقریباً 79 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔
اقتصادی و مالی امور پر کام کرنے والے اقتصادی ادارے ’’ایکو عراق‘‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عراقی دینار کی قدر میں کمی کسی ایک عامل سے منسلک نہیں بلکہ یہ متعدد اقتصادی، مالی اور نفسیاتی عوامل کے باہمی اثرات کا نتیجہ ہے۔ اس ادارے کے مطابق ان عوامل میں سب سے اہم عوامل میں سے ایک متوازی مارکیٹ میں سٹے بازی ہے، جو وقتاً فوقتاً ڈالر کی طلب میں اضافے اور رسد میں کمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شدت اختیار کرتی ہے۔
اس ادارے نے مزید کہا کہ 30 ستمبر کے بعد کی صورتحال اور عراق میں ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں دینے کے معاملے سے متعلق قیاس آرائیاں، امریکی پابندیوں یا ممکنہ اقدامات سے متعلق بحث کے ساتھ مل کر مارکیٹ میں غیر یقینی کی سطح بڑھا رہی ہیں اور بعض تاجروں کو ڈالر کی طلب میں اضافہ کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔
ادارے نے مزید کہا کہ بینکاری شعبے پر عارضی طور پر اعتماد میں کمی بھی ڈالر کی طلب میں اضافے کا ایک اور سبب ہے۔ اس سلسلے میں اس نے ’’الطیف‘‘ بینک کے بحران اور رواں ماہ 3 ستمبر کو عراقی مرکزی بینک کی جانب سے اس بینک پر نگران مقرر کرنے کے فیصلے کا حوالہ دیا۔
قیمتوں میں فرق بڑھنے کا خدشہ
اقتصادی امور کے ماہر ناصر التمیمی نے روزنامہ ’’العربی الجدید‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک ڈالر کی قیمت 1600 دینار سے تجاوز کرنا مارکیٹ میں انتظار اور احتیاطی طلب کی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سرکاری شرح اور متوازی مارکیٹ کی شرح میں فرق بڑھنے سے، اگر غیر یقینی صورتحال برقرار رہی، تو دینار پر دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
التمیمی نے وضاحت کی کہ 30 ستمبر کی مقررہ تاریخ قریب آنے اور عراق میں ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں دینے کے معاملے سے متعلق بحث و دباؤ نے مارکیٹ میں خدشات پیدا کرنے والے عوامل میں جگہ بنا لی ہے۔ بالخصوص ایسی رپورٹس سامنے آنے کے بعد جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس معاملے میں پیش رفت نہ ہوئی تو عراق کو نقد ڈالر کی کھیپ بھیجنا روک دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نقد ڈالر کی کھیپ روکنے کے فیصلے کے طور پر ان معلومات کو حتمی سمجھنا غیر ضروری سٹے بازی کی ایک نئی لہر کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق مالیاتی مارکیٹیں بڑی حد تک توقعات اور افواہوں سے متاثر ہوتی ہیں اور خوف کی وجہ سے ڈالر کی طلب میں اضافہ کسی بھی حقیقی اقدام پر عمل درآمد سے پہلے ہی اس کی قیمت بڑھا سکتا ہے۔
اس اقتصادی ماہر نے خبردار کیا کہ سٹے بازی کا سلسلہ جاری رہنے سے عراق میں اشیا اور خدمات کی قیمتیں، بالخصوص درآمدی اشیا کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں درآمدات کی لاگت بڑھنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کی قوتِ خرید پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس معاملے کو متعلقہ سرکاری اداروں کے حوالے کیا جانا چاہیے اور سیاسی خبروں اور انکشافات کو غیر ملکی کرنسی کی بے تحاشا خریداری کی لہر میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
التمیمی نے مزید کہا کہ عراقی مرکزی بینک کے پاس کرنسی مارکیٹ میں پیدا ہونے والی بے قاعدگیوں سے نمٹنے کے لیے مختلف ذرائع موجود ہیں اور دینار کی صورتحال کا جائزہ سرکاری اعداد و شمار اور حقیقی طلب و رسد کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے، نہ کہ متوازی مارکیٹ میں ایک یا دو دن کی تبدیلیوں کی بنیاد پر۔
آپ کا تبصرہ